ترلائی اسلام آباد میں امام بارگاہ پر ہونے والے افسوسناک خودکش حملے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک منظم پروپیگنڈا مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے، جس میں واقعے کو ریاستی انٹیلیجنس کی مکمل ناکامی قرار دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سیکیورٹی ذرائع اور تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیانیہ نہ صرف گمراہ کن ہے بلکہ حقائق کے منافی بھی ہے۔
ناقدین کی جانب سے یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ چونکہ ملزم پشاور کا رہائشی تھا، اس لیے اسے اسلام آباد تک پہنچنے سے کیوں نہ روکا گیا۔ ماہرین کے مطابق اگر اس منطق کو تسلیم کر لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ پاکستان میں شہریوں کی ایک شہر سے دوسرے شہر نقل و حرکت پر پابندی عائد کر دی جائے، جو نہ صرف آئینی حقوق کے خلاف ہے بلکہ عملی طور پر ناممکن بھی ہے۔
سیکیورٹی ماہرین واضح کرتے ہیں کہ انٹیلیجنس کا مطلب ہر شہری پر نگرانی مسلط کرنا نہیں ہوتا، بلکہ ممکنہ خطرات کی بروقت نشاندہی اور ان کے سدِباب کے لیے اقدامات کرنا ہوتا ہے۔ اس ضمن میں پاکستان کی انٹیلیجنس ایجنسیاں مسلسل اور مؤثر انداز میں کام کر رہی ہیں، جس کا ثبوت حالیہ مہینوں میں کراچی سمیت مختلف شہروں سے سینکڑوں دہشت گردوں اور سہولت کاروں کی گرفتاریاں ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ اصول “کمیونٹی انٹیلیجنس” کے مطابق ریاستی ادارے اکیلے ہر خطرے کی نشاندہی نہیں کر سکتے۔ مساجد، مدارس، محلوں اور سماجی حلقوں میں اگر کوئی فرد انتہا پسندانہ سوچ، ریاست یا فوج مخالف نظریات یا خودکش رجحانات کا اظہار کرے تو کمیونٹی کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بروقت متعلقہ اداروں کو آگاہ کرے۔ یہی اشتراک دہشت گردی کے خلاف مؤثر دفاع کی بنیاد ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ہر واقعے کے بعد تمام ذمہ داری انٹیلیجنس اداروں پر ڈال دینا حقیقت سے لاعلمی کے مترادف ہے۔ اگر واقعی انٹیلیجنس نظام ناکام ہوتا تو سوال یہ پیدا ہوتا کہ ملک بھر میں درجنوں نیٹ ورکس بے نقاب اور سینکڑوں دہشت گرد گرفتار کیسے کیے جا رہے ہیں۔
سیکیورٹی حلقوں کا کہنا ہے کہ ترلائی واقعے کو پورے انٹیلیجنس نظام کی ناکامی قرار دینا ایک بوگس بیانیہ ہے، جسے مخصوص سیاسی عناصر اور پی ٹی آئی سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس دانستہ طور پر پھیلا رہے ہیں تاکہ انتشار پیدا کیا جا سکے۔
حقیقت یہ ہے کہ دہشت گرد ناکام ہو رہے ہیں، جبکہ سیکیورٹی اور انٹیلیجنس ادارے مسلسل کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔ اسی مؤثر کارروائی کے باعث دہشت گردی کے حامی اور ان کے بیانیہ ساز نئے پروپیگنڈا محاذ کھولنے پر مجبور نظر آتے ہیں، تاہم ریاستی ادارے اور عوام کے باہمی تعاون سے اس بیانیے کو بھی ناکام بنایا جا سکتا ہے۔