"> اسلام آباد میں تاریخی مذاکرات کی تیاریاں مکمل؛ امریکہ ایران اجلاس کی تفصیلات سامنے آگئیں - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

اسلام آباد میں تاریخی مذاکرات کی تیاریاں مکمل؛ امریکہ ایران اجلاس کی تفصیلات سامنے آگئیں

اسلام آباد میں 11 اپریل کو ہونے والے امریکہ ایران مذاکرات کے لیے دونوں ممالک کے اعلیٰ سطح کے وفود کی تفصیلات جاری کر دی گئی ہیں، جن کی میزبانی پاکستان کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت کرے گی
اسلام آباد میں 11 اپریل کو ہونے والے امریکہ ایران مذاکرات کے لیے دونوں ممالک کے اعلیٰ سطح کے وفود کی تفصیلات جاری کر دی گئی ہیں، جن کی میزبانی پاکستان کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت کرے گی

پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے تاریخی امریکہ ایران مذاکرات کی تفصیلات منظرِ عام پر آگئیں۔ جے ڈی وینس، جیرڈ کشنر اور عباس عراقچی سمیت اہم ترین عالمی شخصیات کی شرکت

April 9, 2026

اسلام آباد 11 اپریل کو ایک تاریخی سفارتی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ اس انتہائی اہم اجلاس کی میزبانی پاکستان کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت کرے گی، جس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار شامل ہوں گے۔ یہ اعلیٰ سطحی میزبانی اس بات کی عکاس ہے کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک کلیدی سہولت کار کے طور پر ابھرا ہے اور عالمی طاقتیں اسلام آباد کی سفارتی بصیرت پر مکمل اعتماد کا اظہار کر رہی ہیں۔

امریکی وفد

ان مذاکرات میں شرکت کے لیے امریکہ کی جانب سے بااثر وفد اسلام آباد پہنچ رہا ہے، جس کی قیادت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس خود کریں گے۔ امریکی وفد میں وائٹ ہاؤس کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور سابق صدارتی مشیر جیرڈ کشنر شامل ہیں، جن کا مشرقِ وسطیٰ کے امور میں وسیع تجربہ اس عمل کو مزید اہمیت دے رہا ہے۔ اس کے علاوہ سینٹ کام کے کمانڈر بریڈ کوپر کی شمولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ ان مذاکرات میں سیکیورٹی اور تزویراتی معاملات کو بھی گہرائی سے زیرِ بحث لایا جائے گا۔

ایرانی وفد

اسلامی جمہوریہ ایران نے بھی ان مذاکرات کی اہمیت کے پیشِ نظر اپنے قدآور سیاسی و سفارتی چہروں کو میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایرانی وفد کی قیادت اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف کریں گے، جبکہ ان کے ہمراہ وزیر خارجہ عباس عراقچی اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محمد باقر ذوالقدر جیسے اہم عہدیدار موجود ہوں گے۔ نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی کی موجودگی اس بات کی ضمانت ہے کہ ایران ان مذاکرات کو ایک سنجیدہ سفارتی حل کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اب 11 اپریل کے اس اجلاس پر مرکوز ہیں، جسے مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن کے قیام کے لیے پاکستان کی سب سے بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *