"> فیلڈ مارشل کی کامیاب سفارت کاری؛ جنگ کا خطرہ ٹل گیا
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

فیلڈ مارشل کی سفارت کاری اور اسلام آباد مذاکرات سے خطے میں جنگ کا خطرہ ٹل گیا

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ایران میں اعلیٰ سطحی عسکری سفارت کاری اور اسلام آباد مذاکرات کے مثبت تسلسل کے نتیجے میں عالمی ڈیڈ لاک ٹوٹ گیا ہے اور خطے پر منڈلاتے جنگ کے بادل چھٹ گئے ہیں۔
فیلڈ مارشل کی سفارت کاری اور اسلام آباد مذاکرات سے خطے میں جنگ کا خطرہ ٹل گیا

پاکستان کی خاموش سفارت کاری اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کاوشوں سے امریکہ اور ایران کے مابین جنگ کا خطرہ ٹل گیا ہے۔ اسلام آباد ٹاکس کے ذریعے فریقین کو میز پر لا کر پاکستان نے تاریخ کی سب سے بڑی سفارتی کامیابی حاصل کی ہے۔

May 24, 2026

پاکستان نے ایک بار پھر عالمی منظر نامے پر ثابت کر دیا ہے کہ وہ محض خطے کا نہیں بلکہ عالمی امن و استحکام کا ایک انتہائی ذمہ دار اور ناگزیر ستون ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب عالمی طاقتیں شدید ترین ڈیڈ لاک کا شکار تھیں اور پورا خطہ ایک ہولناک جنگ کے دہانے پر کھڑا تھا، پاکستان نے اپنی کامیاب عسکری سفارت کاری اور خاموش بیک چینل رابطوں کے ذریعے پورے منظر نامے کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہِ ایران اور حالیہ سلام آباد مذاکرات کی کڑی نے جنگی کشیدگی کو ختم کر کے فریقین کو مفاہمت کا راستہ دکھایا ہے۔ یہ پیش رفت اس حقیقت کی عکاس ہے کہ پاکستان بحرانوں کو بھڑکانے کے بجائے انہیں حکمت، وقار اور مؤثر ثالثی کے ذریعے حل کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

فیلڈ مارشل کی سفارت کاری

سفارتی ذرائع کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ایران میں قیام کے دوران انتہائی حساس اور اہم نوعیت کی ملاقاتیں ہوئیں۔ ان ملاقاتوں میں ایرانی قیادت کی جانب سے پاکستان کے مثبت اور تعمیری کردار کی بھرپور تحسین کی گئی، جو پاکستان کی عالمی ساکھ اور سی ڈی ایف کی کامیاب عسکری سفارت کاری کا کھلا اعتراف ہے۔

جہاں دنیا کو ایک ناگزیر تصادم کا خطرہ تھا، وہاں فیلڈ مارشل کی کاوشیں علاقائی امن کے لیے فیصلہ کن قدم ثابت ہوئیں اور ممکنہ تباہی کے سائے میں پاکستان امن کی روشنی بن کر سامنے آیا۔ یہ دورہ صرف روایتی سفارت کاری نہیں بلکہ عالمی امن کے لیے پاکستان کی ذمہ دار قیادت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

اسلام آباد مذاکرات اور عالمی پذیرائی

عسکری و سفارتی مبصرین اور بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق، اسلام آباد ٹاکس سے شروع ہونے والے سلسلے کے انتہائی مثبت اور تعمیری نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ جب بڑی عالمی طاقتیں کشیدگی کو کم کرنے میں ناکام ہو چکی تھیں، تب پاکستان نے ایک “پاور بروکر” کا کردار ادا کرتے ہوئے متصادم فریقین کو ایک میز پر بٹھایا اور بنیادی و اہم ترین نکات پر ان کے درمیان اتفاقِ رائے قائم کروایا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آفیشل کنفرمیشن کے بعد یہ ڈیل پاکستان کی حالیہ تاریخ کی سب سے بڑی سفارتی فتح ثابت ہوگی، جس نے پاکستان کی عالمی جیو پولیٹکس کو بدلنے کی صلاحیت کو دنیا بھر میں منوا لیا ہے۔

عقابلِ اعتماد کردار اور مستقل بیانیہ

پاکستان نے اس بحران میں یہ واضح پیغام دیا ہے کہ اس کا حتمی ہدف جنگ نہیں بلکہ مکالمہ، اور تباہی نہیں بلکہ استحکام ہے۔ سی ڈی ایف کی قیادت میں پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ حقیقی طاقت جنگ کے طبل بجانے میں نہیں بلکہ جنگ روکنے اور امن قائم کرنے میں ہے۔

دنیا آج ایک ممکنہ بڑی تباہی سے بچاؤ کی امید پاکستان کے امن بیانیے، ذمہ دار قیادت اور سی ڈی ایف کی تعمیری کاوشوں میں دیکھ رہی ہے۔ پاکستان کا کردار اب بالکل واضح ہو چکا ہے: خطے کو جنگ کی ہولناکی سے بچانا اور دنیا کو تزویراتی استحکام کی طرف لے جانا۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *