پس منظر: جنگ سے مذاکرات تک کا سفر
اسلام آباد: امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی، جو کئی ہفتوں تک خطے کو ایک بڑے تصادم کے دہانے تک لے گئی، بالآخر پاکستان کی ثالثی میں سفارتکاری کی میز تک پہنچ گئی۔ تقریباً چالیس روزہ تناؤ، محدود جنگی جھڑپوں اور سخت بیانات کے بعد دونوں ممالک نے اسلام آباد میں براہِ راست مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی، جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک غیر معمولی پیشرفت تھی۔
پاکستان نے اس پورے عمل میں ایک فعال ثالث کا کردار ادا کرتے ہوئے نہ صرف دونوں فریقوں کو قریب لانے کی کوشش کی بلکہ اسلام آباد کو ایک اہم سفارتی مرکز کے طور پر بھی پیش کیا۔
اسلام آباد میں 21 گھنٹے: طویل مگر بے نتیجہ مذاکرات
اتوار کی صبح امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایرانی وفد کے ساتھ 21 گھنٹے طویل مذاکرات کے بعد نور خان ایئر بیس سے روانہ ہوئے تو بظاہر کوئی معاہدہ سامنے نہیں آیا، مگر اس عمل نے کئی اہم سوالات کو جنم دیا۔
معاہدے میں ایران نے 15 نکات سامنے رکھے جن میں سے 11 ایران نے تسلیم کئے جبکہ چار نکات پر اختلاف برقرار رہا، دوسری جانب امریکا نے ایران کے 10 مطالبات میں سے 8 قبول کئے جبکہ دو برقرار رہے، لہذا معاہدہ تکمیل کو نہ پہنچ سکا، متنازع نکات کے بارے میں تفصیلات تاحال سامنے نہیں آ سکیں
روانگی سے قبل پریس کانفرنس میں جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران کے ساتھ “اہم اور سنجیدہ بات چیت” ہوئی، مگر دونوں فریق کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔ ان کے مطابق امریکا اپنی شرائط پر قائم رہا جبکہ ایران نے ان شرائط کو تسلیم نہیں کیا۔
انہوں نے اس بات کا بھی عندیہ دیا کہ امریکا نے ایران کو ایک “حتمی اور بہترین پیشکش” دے دی ہے، اور اب فیصلہ تہران کے ہاتھ میں ہے۔
امریکا کا مؤقف: جوہری پروگرام پر کوئی سمجھوتہ نہیں
امریکی مؤقف واضح طور پر ایران کے جوہری پروگرام کے گرد گھومتا ہے۔ جے ڈی وینس نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بنیادی ہدف ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے، اور اس معاملے پر امریکا کسی قسم کی نرمی دکھانے کیلئے تیار نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران امریکا نے اپنی “ریڈ لائنز” کھل کر بیان کیں، تاہم ایران ان شرائط پر آمادہ نہیں ہوا، جس کے باعث بات چیت کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکی۔
ایران کا ردعمل: مفاہمت بھی، اختلاف بھی
امریکی بیان کے بعد ایران کی جانب سے آنے والا ردعمل زیادہ متوازن تھا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ کئی معاملات پر “مفاہمت” ہو گئی تھی، مگر دو سے تین اہم نکات پر اختلاف برقرار رہا۔
انہوں نے کہا کہ یہ مذاکرات ایک پیچیدہ ماحول میں ہوئے جہاں بداعتمادی پہلے سے موجود تھی، اس لیے ایک ہی نشست میں معاہدہ ہونا ممکن نہیں تھا۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز اور جوہری پروگرام جیسے معاملات انتہائی حساس ہیں اور ان پر فوری اتفاق ممکن نہیں۔
قالیباف کا پہلا بیان: اعتماد کا بحران مرکزی مسئلہ
اسلام آباد مذاکرات کے بعد ایرانی وفد کے سربراہ اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا پہلا باضابطہ بیان سامنے آیا، جس نے اس پوری صورتحال کو مزید واضح کر دیا۔
قالیباف نے کہا کہ امریکا ایران کے مؤقف اور منطق کو سمجھ چکا ہے، مگر اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ انہوں نے پاکستان کی میزبانی اور سہولت کاری پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے مذاکرات میں نیک نیتی سے شرکت کی، مگر ماضی کے تجربات کے باعث مکمل اعتماد ممکن نہیں رہا۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ ایران نے مذاکرات کے دوران کئی عملی تجاویز پیش کیں، تاہم امریکی رویہ اعتماد سازی کیلئے سازگار نہیں تھا۔ ان کے مطابق اب یہ امریکا پر منحصر ہے کہ وہ اعتماد بحال کرنے کیلئے سنجیدہ اقدامات کرے۔
قالیباف نے واضح کیا کہ ایران اپنی قومی خودمختاری اور اصولی مؤقف پر قائم رہے گا، اور سفارتکاری کو کمزوری نہیں بلکہ حکمت عملی کے طور پر دیکھتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے دیگر ذرائع کو بھی اہم سمجھتا ہے۔
پاکستان کا کردار: ثالثی، توازن اور سفارتی کامیابی
مذاکرات کے بعد پاکستان نے ایک متوازن اور محتاط مؤقف اختیار کیا۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ یہ “مشکل مگر تعمیری” مذاکرات تھے اور پاکستان نے خلوص نیت سے دونوں فریقوں کے درمیان خلا کم کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک مثبت رویہ برقرار رکھیں گے اور جنگ بندی کے عزم کی پاسداری کریں گے۔ پاکستان کا مؤقف یہ رہا کہ یہ عمل ایک مسلسل سفارتی کوشش ہے، جسے وقت درکار ہوگا۔
مذاکرات کیوں آگے نہ بڑھ سکے؟
اگر مذاکرات کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ بنیادی اختلافات بدستور برقرار ہیں۔
امریکا ایران سے جوہری پروگرام پر سخت ضمانتیں چاہتا ہے، جبکہ ایران اسے اپنی خودمختاری اور دفاعی حق کا معاملہ سمجھتا ہے۔
اسی طرح آبنائے ہرمز، جو عالمی توانائی سپلائی کا ایک اہم راستہ ہے، ایران کیلئے ایک اسٹریٹجک برتری کا ذریعہ ہے، جس پر وہ کسی دباؤ میں آ کر سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں۔
یہی وہ ممکنہ بنیادی نکات ہیں جنہوں نے 21 گھنٹے کی طویل بات چیت کو کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے سے روک دیا۔
مذاکرات ناکام نہیں، ایک طویل عمل کا آغاز
تجزیہ کاروں کے مطابق اسلام آباد مذاکرات کو مکمل ناکامی قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ یہ ایک ایسے پیچیدہ تنازع کا حصہ ہیں جس کے حل کیلئے وقت درکار ہوتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں فریق اب ایک دوسرے کی “ریڈ لائنز” سے آگاہ ہو چکے ہیں، جو مستقبل کے مذاکرات کیلئے ایک بنیاد فراہم کرتی ہے۔
آگے کیا ہوگا؟ سفارتکاری کا تسلسل یا نیا موڑ
اب سوال صرف یہ نہیں کہ مذاکرات کیوں ناکام ہوئے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ یہ عمل کس سمت میں آگے بڑھے گا۔ اسلام آباد میں ہونے والی یہ طویل نشست ایک ایسے پیچیدہ تنازع کا محض پہلا مرحلہ تھی جس کے حل کیلئے وقت، تسلسل اور باہمی اعتماد درکار ہے۔ ماہرین کے مطابق امریکا کی جانب سے دی گئی “فائنل آفر” اور بالخصوص صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا آئندہ ردعمل اس عمل کی سمت کا تعین کرے گا، جبکہ ایران کی جانب سے بھی اعتماد سازی کیلئے عملی اقدامات اہم ہوں گے۔
ایرانی وزارت خارجہ پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ ایک ہی نشست میں تمام معاملات کا حل ممکن نہیں تھا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مذاکرات کا دروازہ بند نہیں ہوا بلکہ اگلے دور کی گنجائش موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سفارتی حلقوں میں یہ توقع پائی جاتی ہے کہ اسلام آباد یا کسی اور مقام پر جلد ایک اور دورِ مذاکرات دیکھنے کو مل سکتا ہے، جہاں زیر التوا نکات پر مزید پیش رفت ہو۔
نتیجہ: سفارتکاری یا عالمی امتحان؟
اسلام آباد مذاکرات اگرچہ فوری معاہدے پر منتج نہیں ہو سکے، تاہم انہوں نے ایک اہم حقیقت کو نمایاں کیا ہے کہ شدید ترین کشیدگی کے باوجود سفارتکاری کا راستہ اب بھی زندہ ہے۔ یہ ایک ایسا مرحلہ ہے جہاں بیانات سے زیادہ عمل کی اہمیت ہے اور جہاں ہر اگلا قدم اعتماد کی بنیاد پر اٹھایا جائے گا۔
پاکستان کیلئے یہ پیشرفت ایک بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھی جا رہی ہے کہ اس نے امریکا اور ایران جیسے دو بڑے فریقوں کو ایک میز پر لا کر کھڑا کیا۔ دوسری جانب محمد باقر قالیباف کے بیان نے اس عمل کا مرکزی نکتہ واضح کر دیا ہے۔ اصل رکاوٹ شرائط نہیں بلکہ اعتماد کا فقدان ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ اعتماد بحال ہو جاتا ہے تو یہی مذاکرات ایک بڑے معاہدے کی بنیاد بن سکتے ہیں، اور اگر ایسا نہ ہوا تو خطہ دوبارہ کشیدگی کی طرف بھی جا سکتا ہے۔ اس لیے آنے والے دن نہ صرف ان مذاکرات بلکہ عالمی سفارتکاری کے مستقبل کا بھی تعین کریں گے۔