سپریم کورٹ آف پاکستان میں پیش کی گئی سرکاری رپورٹ کے مطابق بانیٔ پی ٹی آئی عمران خان کو جیل میں کسی عام قیدی کے برعکس غیر معمولی اور استثنائی مراعات فراہم کی جا رہی ہیں۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ انہیں ایک تنگ بیرک کے بجائے سات کمروں پر مشتمل ایک وسیع و عریض علیحدہ کمپاؤنڈ میں رکھا گیا ہے، جہاں عام طور پر 30 سے 35 قیدیوں کو رکھا جاتا ہے۔
رہائش اور نقل و حرکت
سرکاری ریکارڈ کے مطابق اس مخصوص کمپاؤنڈ میں عمران خان کے لیے الگ راہداری، وسیع لان، واکنگ ٹریک اور دھوپ سینکنے کی سہولت موجود ہے جو کسی بھی دوسرے قیدی کو میسر نہیں۔ جہاں ملک کی دیگر جیلوں میں قیدی مسائل کا شکار ہیں، وہاں بانیٔ پی ٹی آئی کو صبح سے شام تک کھلی فضا میں آزادانہ نقل و حرکت اور اپنا دن اپنی مرضی سے گزارنے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔ ان کی جائے قیام اب مطالعہ، ورزش اور آرام کے لیے ایک مخصوص زون بن چکا ہے۔
میڈیکل کیئر اور غذائی سہولیات
رپورٹ کے مطابق عمران خان کے لیے جیل نہیں بلکہ نجی میڈیکل کیئر جیسا انتظام موجود ہے۔ روزانہ تین مرتبہ ڈاکٹرز ان کا طبی معائنہ کرتے ہیں اور ان کی مکمل میڈیکل مانیٹرنگ کی جاتی ہے۔ ان کا کھانا عام جیل مینو کے بجائے ایک الگ کچن میں خصوصی باورچی کے ذریعے تیار کیا جاتا ہے۔ کھانے کی فہرست میں تازہ جوس، خشک میوہ جات، گوشت، سلاد اور کافی شامل ہیں، جو پیش کیے جانے سے قبل باقاعدہ چیک کیے جاتے ہیں۔ ماہر کنسلٹنٹس بھی ضرورت پڑنے پر فوری طور پر دستیاب ہوتے ہیں۔
بہتر کلاس کی تصدیق اور استثنائی مراعات
سرکاری رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ عمران خان کو ‘بہترین سہولیات دی گئی ہیں، جن میں ورزش کے جدید آلات، موسمی لباس، آرام دہ بستر، حفظانِ صحت کی کٹس اور فلٹر شدہ پانی کی فراہمی شامل ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ رپورٹ کے یہ اعداد و شمار ثابت کرتے ہیں کہ بانیٔ پی ٹی آئی نظامِ زندان میں سب سے زیادہ آسودہ قیدی دکھائی دیتے ہیں اور ان کی قید سخت پابندیوں کے بجائے خصوصی مراعات کا منظر پیش کر رہی ہے۔