سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت کے حوالے سے جاری سیاسی مباحث کے مابین پاکستان تحریک انصاف کے ناقدین کی جانب سے ایک مطالبہ سامنے آیا ہے، جس میں آنکھوں کے عطیہ کو انسانیت کی عظیم خدمت کے طور پر فروغ دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ آنکھوں کا عطیہ ایک ایسا عمل ہے جسے سیاست سے بالاتر ہو کر دیکھنا چاہیے اور اب وقت آ گیا ہے کہ تمام جماعتیں بشمول پی ٹی آئی قیادت کے، مثال قائم کرتے ہوئے ‘زندگی بانٹنے’ کے اس پیغام کو عام کریں۔ سوشل میڈیا پر جاری حالیہ پیغامات میں بھی اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ آنکھوں کا عطیہ انسانیت کے لیے ایک عظیم تحفہ ہے۔
دوسری جانب وفاقی حکومت نے عوامی تشویش کے پیشِ نظر واضح کیا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان سمیت تمام قیدیوں کو مروجہ قوانین کے تحت مکمل اور بروقت طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ حکام کے مطابق جیل انتظامیہ نے تمام طبی وسائل کو سختی سے نافذ کیا ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کی کوتاہی نہیں کی گئی۔ عدالت میں جمع کردہ حالیہ طبی رپورٹس میں بھی اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ عمران خان کے تفصیلی معائنے کیے گئے ہیں، جس کے دوران ان کی بینائی میں بہتری کے آثار پائے گئے ہیں۔
پمز اور الشفاء انٹرنیشنل کے ماہرینِ امراضِ چشم نے سابق وزیراعظم کا تفصیلی معائنہ کرنے کے بعد ان کی بینائی کو دیرپا نقصان پہنچنے کے تمام خدشات کو بے بنیاد قرار دے دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے نمائندوں کو طبی معائنے کے عمل میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی تھی، تاہم ان کی عدم شرکت ان کے اندرونی پارٹی معاملات کی عکاسی کرتی ہے۔ حکومت نے پی ٹی آئی کے احتجاجی طریقہ کار کو بھی ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا ہے کہ سڑکوں کی بندش سے عام شہریوں کی زندگی اجیرن ہو رہی ہے۔
حکومتی ترجمان نے مزید کہا کہ عمران خان کی صحت کے معاملے کو سیاسی رنگ دینے کے بجائے حقائق اور سائنسی بنیادوں پر پرکھا جانا چاہیے۔ تمام ذمہ دار ادارے قانون کے مطابق اپنی فرائض سرانجام دے رہے ہیں اور کسی بھی قیدی کی صحت پر سیاست کرنا مناسب نہیں۔ حکومت نے اپیل کی ہے کہ طبی معاملات میں پیشہ ورانہ آراء کو فوقیت دی جائے تاکہ عوامی سطح پر پھیلائی جانے والی غلط فہمیوں کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔
دیکھیے: اڈیالہ جیل میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان کا طبی معائنہ، ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم موجود