"> دینی احکامات کا سیاسی استعمال؛ مولانا جمیل اظہر کے حج کی فرضیت سے متعلق گمراہ کن فتووں پر علمائے کرام اور عوامی حلقوں کی شدید مذمت - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

دینی احکامات کا سیاسی استعمال؛ مولانا جمیل اظہر کے حج کی فرضیت سے متعلق گمراہ کن فتووں پر علمائے کرام اور عوامی حلقوں کی شدید مذمت

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ کا واضح ارشاد ہے کہ جو شخص بیت اللہ تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو، اس پر اللہ کے لیے حج کرنا فرض ہے۔ نبی کریم ﷺ نے بھی اسلام کی بنیاد جن پانچ ستونوں پر رکھی، ان میں حج بیت اللہ کو لازمی جزو قرار دیا ہے۔
مولانا جمیل اظہر حج فتوی

مولانا جمیل اظہر کا یہ فتویٰ کہ 'پاکستانی قوم غلام ہے لہٰذا اس پر حج فرض نہیں'، علمی اور فقہی اعتبار سے سراسر باطل ہے

May 17, 2026

اسلام آباد: مذہبی امور کے ماہرین، مقتدر علمائے کرام اور عوامی حلقوں نے مولانا جمیل اظہر کی جانب سے جاری کردہ حالیہ فتووں پر شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے شریعت کی کھلی تحریف اور منبر و محراب کی امانت کے ساتھ سنگین خیانت قرار دیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ مولانا نے اپنے ذاتی اور سیاسی عناد کو تسکین دینے کے لیے اسلام کے بنیادی ارکان اور احکامات کو مسخ کرنے کی انتہائی مذموم کوشش کی ہے۔

دینی اور فقہی ماہرین کے مطابق، مولانا جمیل اظہر کا یہ فتویٰ کہ ‘پاکستانی قوم غلام ہے لہٰذا اس پر حج فرض نہیں’، علمی اور فقہی اعتبار سے سراسر باطل ہے اور امتِ مسلمہ کو رکنِ اسلام سے روکنے کی ایک گہری سازش ہے۔ شریعت اور فقہاء کی اصطلاح میں غلامی سے مراد ‘شرعی و قانونی ملکیت’ ہوتی ہے نہ کہ ملک کے سیاسی یا معاشی حالات۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ کا واضح ارشاد ہے کہ جو شخص بیت اللہ تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو، اس پر اللہ کے لیے حج کرنا فرض ہے۔ نبی کریم ﷺ نے بھی اسلام کی بنیاد جن پانچ ستونوں پر رکھی، ان میں حج بیت اللہ کو لازمی جزو قرار دیا ہے۔

مولانا جمیل اظہر کی تکفیری اور خوارجی ذہنیت اس وقت مزید نمایاں ہو گئی جب انہوں نے موجودہ حکومت کے حامی کروڑوں کلمہ گو پاکستانیوں کا موازنہ مسیلمہ کذاب اور مرزا قادیانی کے پیروکاروں سے کر کے انہیں دائرہ اسلام سے خارج اور مرتد قرار دیا۔ شریعتِ محمدی ﷺ میں سیاسی اختلاف کی بنیاد پر کسی مسلمان کی تکفیر کرنا سخت ترین گناہ ہے۔ قرآن و حدیث میں کسی بھی کلمہ گو کو کافر کہنے سے سختی سے منع کیا گیا ہے، اور تاریخ گواہ ہے کہ اسی تکفیری اور انتہا پسندانہ سوچ نے ماضی میں بھی خوارج اور بدترین دہشت گرد گروہوں کو جنم دیا جنہوں نے مسلمانوں کا خون بہایا۔

علمی حلقوں کا کہنا ہے کہ مولانا کا اپنی سیاسی پسند و ناپسند کے لیے منبر کا استعمال کرنا علم اور منصب کی توہین ہے۔ ان کے اس باطل فتوے کا اصل ہدف ریاست کے خلاف نفرت پھیلانا اور شدت پسند گروہوں کے اس پرانے بیانیے کو شرعی جواز فراہم کرنا ہے جس کے تحت پاکستان کو ‘دار الکفر’ قرار دے کر معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا۔ ریاست کو غلام اور شہریوں کو مرتد قرار دے کر حج جیسے مقدس فریضے سے روکنا تکفیری ذہنیت اور ریاست دشمنی کی پست ترین مثال ہے، جسے پاکستان کے غیور اور دیندار عوام کسی بھی صورت تسلیم نہیں کریں گے۔

دیکھئیے:بھارتی میزائل پروگرام کا کھوکھلا پن: ڈاکٹر ٹیسی تھامس کا انٹرویو نئی دہلی کی آپریشنل ناکامیوں اور تزویراتی کمزوریوں کا عکاس

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *