پاکستان سمیت 14 اسلامی و عرب ممالک کے وزرائے خارجہ نے اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کے حالیہ بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ امریکی سفیر کی جانب سے یہ کہنا کہ اسرائیل کے لیے عرب ریاستوں کی سرزمین، بشمول مقبوضہ مغربی کنارے، پر کنٹرول قابلِ قبول ہو سکتا ہے، خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
یہ مشترکہ بیان پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب، قطر، کویت، عمان، بحرین، لبنان، شام اور فلسطین کے وزرائے خارجہ کی جانب سے جاری کیا گیا، جبکہ اسلامی تعاون تنظیم، عرب لیگ اور خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹریٹس نے بھی اس کی توثیق کی۔
🔊PR No.4️⃣8️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) February 22, 2026
Joint Statement Condemning the Statements Made by the US Ambassador to Israel https://t.co/Nux9LTuDWz
🔗⬇️ pic.twitter.com/sowZyAXqq4
بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ ایسے بیانات خطرناک اور اشتعال انگیز ہیں، جو نہ صرف بین الاقوامی قانون بلکہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں یا کسی بھی مقبوضہ عرب سرزمین پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں۔
اعلامیے میں مغربی کنارے کے الحاق یا اسے غزہ سے علیحدہ کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتے ہوئے مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع کی سخت مخالفت کی گئی۔ عرب ریاستوں کی خودمختاری کے خلاف کسی بھی اقدام کو ناقابلِ قبول قرار دیا گیا۔
امریکی صدر کے وژن سے تضاد
بیان میں کہا گیا کہ امریکی سفیر کے ریمارکس امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کے اس وژن سے متصادم ہیں جس میں غزہ تنازع کے خاتمے اور کشیدگی میں کمی کے لیے ایک جامع سیاسی حل کی بات کی گئی تھی۔ وزرائے خارجہ کے مطابق کسی دوسرے کی زمین پر کنٹرول کو جائز قرار دینا نہ صرف امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرتا ہے بلکہ خطے میں مزید تناؤ اور اشتعال کو ہوا دیتا ہے۔
فلسطینی حقِ خودارادیت کی توثیق
مشترکہ اعلامیے میں فلسطینی عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا گیا اور 4 جون 1967 کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر زور دیا گیا۔ ساتھ ہی تمام مقبوضہ عرب علاقوں سے قبضے کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا۔
سعودی عرب کا سخت مؤقف
سعودی وزارتِ خارجہ نے اپنے علیحدہ بیان میں امریکی سفیر کے بیان کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسے غیر ذمہ دارانہ بیانات خطے میں کشیدگی کو بڑھا سکتے ہیں۔ سعودی عرب نے واضح کیا کہ وہ فلسطینی کاز اور عرب ریاستوں کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے اپنے مؤقف پر قائم ہے۔
#Statement | The Ministries of Foreign Affairs of Saudi Arabia, Egypt, Jordan, UAE, Indonesia, Pakistan, Türkiye, Qatar, Kuwait, Oman, Bahrain, Lebanon, Syria, and Palestine, together with the Organization of Islamic Cooperation (OIC), the League of Arab States (LAS), and the… pic.twitter.com/0fLelytuoJ
— Foreign Ministry 🇸🇦 (@KSAmofaEN) February 21, 2026
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مشترکہ اعلامیہ اس بات کا مظہر ہے کہ فلسطین کے مسئلے پر اسلامی و عرب دنیا اب بھی متحد ہے اور کسی بھی ایسے بیان یا اقدام کو قبول نہیں کرے گی جو مقبوضہ علاقوں کی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوشش کرے۔