مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ ایسے بیانات خطرناک اور اشتعال انگیز ہیں، جو نہ صرف بین الاقوامی قانون بلکہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں یا کسی بھی مقبوضہ عرب سرزمین پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں۔

February 22, 2026

مارے جانے والوں میں کمانڈر اخسان اللہ، مولوی عباس بنوچی، مولوی صابر محسود، کمانڈر ابو یاسر، کمانڈر کاروان اور کمانڈر عمر محسود کے نام لیے جا رہے ہیں، جبکہ کمانڈر ثاقب، ابو یاسر اور تبسم کی ہلاکت کی بھی اطلاعات ہیں، تاہم ان ناموں اور تعداد کی باضابطہ تصدیق تاحال نہیں ہو سکی۔

February 22, 2026

بیان میں کہا گیا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ اب فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور ریاست دشمن عناصر کو کہیں بھی محفوظ پناہ گاہ میسر نہیں ہوگی۔ آئی ایس پی آر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان دہشتگردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور آخری دہشتگرد کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔

February 22, 2026

پاکستانی حکام نے کہا ہے کہ ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے ’شہری آبادی پر بمباری‘ کے الزامات سنگین نوعیت کے ہیں اور ان کی شفاف اور قابلِ تصدیق تحقیقات ہونی چاہیے۔ تاہم سرحد پار انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کو محض جارحیت قرار دینا خطے میں موجود خطرات کے مکمل تناظر کو نظرانداز کرنا ہے۔

February 22, 2026

پریس ریلیز کے مطابق پاکستان نے جوابی اقدام کے طور پر پاکستان-افغان سرحدی علاقے میں فتنہ الخوارج اور اس سے وابستہ گروہوں اور داعش کے سات دہشت گرد کیمپس اور ٹھکانوں کو نہایت درستگی اور احتیاط کے ساتھ نشانہ بنایا۔

February 22, 2026

ذرائع کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر آٹھ مختلف اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ حملوں کا دائرہ صوبہ خوست، پکتیا، پکتیکا اور ننگرہار تک پھیلا ہوا بتایا جا رہا ہے۔ اسی دوران ارگون (پکتیا) میں بھی تازہ حملے کی اطلاع ملی ہے۔

February 22, 2026

اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کے بیان پر پاکستان سمیت 14 اسلامی و عرب ممالک کا سخت ردِعمل؛ مشترکہ مذمتی اعلامیہ جاری

مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ ایسے بیانات خطرناک اور اشتعال انگیز ہیں، جو نہ صرف بین الاقوامی قانون بلکہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں یا کسی بھی مقبوضہ عرب سرزمین پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں۔
اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کے بیان پر پاکستان سمیت 14 اسلامی و عرب ممالک کا سخت ردِعمل؛ مشترکہ مذمتی اعلامیہ جاری

سعودی وزارتِ خارجہ نے اپنے علیحدہ بیان میں امریکی سفیر کے بیان کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسے غیر ذمہ دارانہ بیانات خطے میں کشیدگی کو بڑھا سکتے ہیں۔ سعودی عرب نے واضح کیا کہ وہ فلسطینی کاز اور عرب ریاستوں کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے اپنے مؤقف پر قائم ہے۔

February 22, 2026

پاکستان سمیت 14 اسلامی و عرب ممالک کے وزرائے خارجہ نے اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کے حالیہ بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ امریکی سفیر کی جانب سے یہ کہنا کہ اسرائیل کے لیے عرب ریاستوں کی سرزمین، بشمول مقبوضہ مغربی کنارے، پر کنٹرول قابلِ قبول ہو سکتا ہے، خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

یہ مشترکہ بیان پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب، قطر، کویت، عمان، بحرین، لبنان، شام اور فلسطین کے وزرائے خارجہ کی جانب سے جاری کیا گیا، جبکہ اسلامی تعاون تنظیم، عرب لیگ اور خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹریٹس نے بھی اس کی توثیق کی۔

بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار

مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ ایسے بیانات خطرناک اور اشتعال انگیز ہیں، جو نہ صرف بین الاقوامی قانون بلکہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں یا کسی بھی مقبوضہ عرب سرزمین پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں۔

اعلامیے میں مغربی کنارے کے الحاق یا اسے غزہ سے علیحدہ کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتے ہوئے مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع کی سخت مخالفت کی گئی۔ عرب ریاستوں کی خودمختاری کے خلاف کسی بھی اقدام کو ناقابلِ قبول قرار دیا گیا۔

امریکی صدر کے وژن سے تضاد

بیان میں کہا گیا کہ امریکی سفیر کے ریمارکس امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کے اس وژن سے متصادم ہیں جس میں غزہ تنازع کے خاتمے اور کشیدگی میں کمی کے لیے ایک جامع سیاسی حل کی بات کی گئی تھی۔ وزرائے خارجہ کے مطابق کسی دوسرے کی زمین پر کنٹرول کو جائز قرار دینا نہ صرف امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرتا ہے بلکہ خطے میں مزید تناؤ اور اشتعال کو ہوا دیتا ہے۔

فلسطینی حقِ خودارادیت کی توثیق

مشترکہ اعلامیے میں فلسطینی عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا گیا اور 4 جون 1967 کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر زور دیا گیا۔ ساتھ ہی تمام مقبوضہ عرب علاقوں سے قبضے کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا۔

سعودی عرب کا سخت مؤقف

سعودی وزارتِ خارجہ نے اپنے علیحدہ بیان میں امریکی سفیر کے بیان کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسے غیر ذمہ دارانہ بیانات خطے میں کشیدگی کو بڑھا سکتے ہیں۔ سعودی عرب نے واضح کیا کہ وہ فلسطینی کاز اور عرب ریاستوں کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے اپنے مؤقف پر قائم ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مشترکہ اعلامیہ اس بات کا مظہر ہے کہ فلسطین کے مسئلے پر اسلامی و عرب دنیا اب بھی متحد ہے اور کسی بھی ایسے بیان یا اقدام کو قبول نہیں کرے گی جو مقبوضہ علاقوں کی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوشش کرے۔

متعلقہ مضامین

مارے جانے والوں میں کمانڈر اخسان اللہ، مولوی عباس بنوچی، مولوی صابر محسود، کمانڈر ابو یاسر، کمانڈر کاروان اور کمانڈر عمر محسود کے نام لیے جا رہے ہیں، جبکہ کمانڈر ثاقب، ابو یاسر اور تبسم کی ہلاکت کی بھی اطلاعات ہیں، تاہم ان ناموں اور تعداد کی باضابطہ تصدیق تاحال نہیں ہو سکی۔

February 22, 2026

بیان میں کہا گیا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ اب فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور ریاست دشمن عناصر کو کہیں بھی محفوظ پناہ گاہ میسر نہیں ہوگی۔ آئی ایس پی آر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان دہشتگردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور آخری دہشتگرد کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔

February 22, 2026

پاکستانی حکام نے کہا ہے کہ ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے ’شہری آبادی پر بمباری‘ کے الزامات سنگین نوعیت کے ہیں اور ان کی شفاف اور قابلِ تصدیق تحقیقات ہونی چاہیے۔ تاہم سرحد پار انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کو محض جارحیت قرار دینا خطے میں موجود خطرات کے مکمل تناظر کو نظرانداز کرنا ہے۔

February 22, 2026

پریس ریلیز کے مطابق پاکستان نے جوابی اقدام کے طور پر پاکستان-افغان سرحدی علاقے میں فتنہ الخوارج اور اس سے وابستہ گروہوں اور داعش کے سات دہشت گرد کیمپس اور ٹھکانوں کو نہایت درستگی اور احتیاط کے ساتھ نشانہ بنایا۔

February 22, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *