ایران کی مجلسِ خبرگانِ رہبری نے آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے ایک ہفتے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو اسلامی جمہوریہ ایران کا نیا رہبرِ اعلیٰ منتخب کر لیا ہے۔ سرکاری ٹی وی پر پڑھ کر سنائے گئے بیان میں کہا گیا کہ شدید جنگی حالات، دشمن کی دھمکیوں اور مجلس کے دفاتر پر حملوں کے باوجود قیادت کے انتخاب کے عمل میں کوئی تاخیر نہیں کی گئی۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ کے باعث اپنی تاریخ کے بڑے بحرانوں میں سے ایک کا سامنا کر رہا ہے۔
جنگ کے سائے میں قیادت کا انتخاب
ایران کی 88 رکنی مجلسِ خبرگان وہ ادارہ ہے جو ملک کے سپریم لیڈر کا انتخاب کرتا ہے۔ مجلس کے بیان کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شدید حملوں اور سیکریٹریٹ کے دفاتر پر بمباری کے باوجود نئے رہبر کے انتخاب کے عمل کو فوری طور پر مکمل کیا گیا۔ اس تقرری کے فوراً بعد ایران کی طاقتور پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) اور مسلح افواج نے مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت کی حمایت اور اطاعت کا اعلان کیا۔
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے کہا کہ دشمنوں کو امید تھی کہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ایران سیاسی بحران کا شکار ہو جائے گا، لیکن مجلسِ خبرگان نے نئے رہبر کا انتخاب کر کے اس تاثر کو ختم کر دیا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کا ردعمل
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تقرری پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کا ایران کا سپریم لیڈر بننا “ناقابلِ قبول” ہو گا۔ مختلف امریکی میڈیا اداروں کو دیے گئے انٹرویوز میں ٹرمپ نے یہاں تک کہا کہ ایران کے نئے رہبر کے انتخاب میں امریکہ کو بھی کردار ہونا چاہیے۔ تاہم ایرانی حکام نے اس بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی قیادت کا فیصلہ صرف ایرانی عوام اور ان کے ادارے کریں گے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ علی خامنہ ای کے کسی بھی جانشین کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ مبصرین کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کی تقرری امریکہ اور اسرائیل کے لیے ایک واضح پیغامِ مزاحمت سمجھی جا رہی ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟
مجتبیٰ خامنہ ای 8 ستمبر 1969 کو ایران کے شہر مشہد میں پیدا ہوئے۔ وہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے چھ بچوں میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم تہران کے مذہبی علوی سکول سے حاصل کی اور بعد ازاں قم کے دینی مدارس میں مذہبی تعلیم حاصل کی۔ وہ اس وقت حُجت الاسلام کے درجے کے عالم دین ہیں، جو شیعہ مذہبی نظام میں ایک درمیانے درجے کی مذہبی حیثیت سمجھی جاتی ہے۔
نوجوانی میں وہ ایران عراق جنگ کے دوران مختصر مدت کے لیے فوجی خدمات بھی انجام دے چکے ہیں۔ بعد میں انہوں نے پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ قریبی روابط استوار کیے اور طویل عرصے تک اپنے والد کے قریبی حلقے میں ایک بااثر شخصیت کے طور پر کام کرتے رہے۔
پس پردہ اثر و رسوخ
اگرچہ مجتبیٰ خامنہ ای نے کبھی کوئی عوامی سیاسی عہدہ نہیں سنبھالا اور نہ ہی وہ عوامی تقاریر یا میڈیا انٹرویوز میں نمایاں رہے، تاہم کئی برسوں سے انہیں ایران کی طاقت کے مراکز میں ایک اہم کردار کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے۔
امریکی سفارتی کیبلز، جو وکی لیکس کے ذریعے منظرِ عام پر آئیں، میں انہیں “عبا کے پیچھے طاقت” قرار دیا گیا تھا، یعنی ایسا شخص جو بظاہر منظر کے پیچھے رہ کر بھی فیصلہ سازی پر اثر انداز ہوتا ہے۔
سیاسی تنازعات اور ماضی کے الزامات
مجتبیٰ خامنہ ای کا نام پہلی بار 2005 کے صدارتی انتخابات کے دوران نمایاں ہوا جب اصلاح پسند رہنما مہدی کروبی نے ان پر الزام لگایا کہ انہوں نے پاسدارانِ انقلاب اور بسیج ملیشیا کے ذریعے انتخابی عمل پر اثر انداز ہو کر محمود احمدی نژاد کی کامیابی میں کردار ادا کیا۔ اسی طرح 2009 کے متنازع صدارتی انتخابات کے بعد شروع ہونے والی “گرین موومنٹ” کے دوران بھی ان پر سیاسی مداخلت کے الزامات لگائے گئے۔
موروثی قیادت کی بحث
مجتبیٰ خامنہ ای کی تقرری نے ایران کے سیاسی نظام میں موروثی قیادت کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ دو سال قبل خود علی خامنہ ای نے اس خیال کو مسترد کیا تھا کہ ان کے بیٹے کو ان کا جانشین بنایا جائے، کیونکہ ایرانی انقلاب موروثی حکمرانی کے خلاف برپا ہوا تھا۔ تاہم موجودہ صورتحال میں بعض مبصرین کا خیال ہے کہ طاقت کے مراکز نے تسلسل اور استحکام کے لیے اسی راستے کا انتخاب کیا ہے۔
جنگ اور مستقبل کے چیلنجز
مجتبیٰ خامنہ ای کو ایسے وقت میں ایران کی قیادت سنبھالنی پڑی ہے جب ملک امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ شدید فوجی کشیدگی کا شکار ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایران کے میزائل اور ڈرون حملے جاری ہیں جبکہ اسرائیل نے تہران کے قریب تیل کی کئی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے جس کے بعد دارالحکومت کے آسمان پر دھوئیں کے بادل چھا گئے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق نئے رہبر اعلیٰ کے سامنے سب سے بڑا چیلنج ایران کے سیاسی اور معاشی بحران سے نمٹنا، جنگی صورتحال کو سنبھالنا اور عوام کو یہ یقین دلانا ہو گا کہ وہ ملک کو اس مشکل دور سے نکالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ ان کی قیادت ایران کی پالیسیوں میں تسلسل اور ممکنہ طور پر مزید سخت مؤقف کی نشاندہی کرتی ہے۔
دیکھیے: ایران۔اسرائیل جنگ: مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی سیاست اور پاکستان کے لیے مضمرات