"> بدخشاں میں طالبان مخالف رہنما جمعہ خان فاتح کا پاکستان کا ساتھ دینے کا اعلان
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

طالبان کے خلاف پاکستان کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہیں: افغان رہنماء

بدخشاں میں طالبان مخالف رہنما ملا جمعہ خان فاتح نے کہا ہے کہ وہ کبھی ہتھیار نہیں ڈالیں گے اور پاکستان کی کسی بھی کارروائی کی صورت میں اس کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہیں۔
بدخشاں میں طالبان کے سرکردہ مخالف رہنما ملا جمعہ خان فاتح نے واضح کیا ہے کہ وہ طالبان کے سامنے کبھی ہتھیار نہیں ڈالیں گے اور پاکستان کی جانب سے کسی بھی کارروائی کی صورت میں اس کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہیں۔

افغان ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں طالبان مخالف رہنماء ملا جمعہ خان فاتح نے طالبان کے سامنے ہتھیار ڈالنے سے انکار کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ تعاون کا اعلان کر دیا۔

July 2, 2026

افغانستان کے صوبے بدخشاں میں طالبان انتظامیہ کے خلاف برسرِپیکار اہم اور سرکردہ مخالف رہنماء ملا جمعہ خان فاتح نے طالبان کے سامنے سرتسلیم خم کرنے سے صاف انکار کرتے ہوئے ایک بڑا سیاسی و عسکری اعلان کیا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا ادارے ‘افغان ٹائمز’ کے نمائندے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اپنی مستقبل کی حکمتِ عملی اور علاقائی گٹھ جوڑ کے حوالے سے اہم ترین پوزیشن واضح کی ہے۔

ملا جمعہ خان فاتح نے دوٹوک انداز میں کہا کہ وہ اور ان کے ساتھی طالبان کی حکومت کے سامنے کبھی ہتھیار نہیں ڈالیں گے اور اپنی مزاحمت کو ہر صورت برقرار رکھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان کی پالیسیاں اور طرزِ حکومت خطے میں عدم استحکام کا باعث بن رہا ہے، جس کے خلاف ان کی جدوجہد جاری رہے گی۔

اس گفتگو کے دوران انہوں نے علاقائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے پاکستان کے حوالے سے بھی ایک اہم پیشکش کی۔ ملا جمعہ خان فاتح نے واضح کیا کہ اگر پاکستان کی جانب سے افغان طالبان کے خلاف کسی بھی قسم کی عسکری یا سفارتی کارروائی کی جاتی ہے، تو وہ اور ان کا دھڑا طالبان کے خلاف پاکستان کا بھرپور ساتھ دینے اور صفِ اول میں کھڑے ہونے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، بدخشاں کے اس اہم رہنما کا یہ بیان افغانستان کے اندرونی حالات اور پاک-افغان تعلقات کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے، جو طالبان انتظامیہ کے خلاف اندرونی سطح پر بڑھتی ہوئی سخت مزاحمت اور نئی ممکنہ صف بندیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔

دیکھیے: افغانستان میں کارروائی پر بھارتی وزارتِ خارجہ کے بیان کو پاکستان نے سختی سے مسترد کر دیا

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *