"> کابل میں مسلح حملہ؛ متعدد طالبان کمانڈرز اور انٹیلی جنس حکام ہلاک
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

کابل میں خطرناک حملہ؛ متعدد طالبان کمانڈرز اور اہم انٹیلی جنس حکام ہلاک

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں نامعلوم مسلح افراد کے ایک مہلک حملے میں متعدد طالبان کمانڈرز، سیکیورٹی اور انٹیلی جنس نیٹ ورکس سے وابستہ اہم افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں نامعلوم مسلح افراد کے ایک مہلک حملے میں متعدد طالبان کمانڈرز، سیکیورٹی اور انٹیلی جنس نیٹ ورکس سے وابستہ اہم افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

کابل میں مسلح حملے کے نتیجے میں متعدد طالبان کمانڈرز ہلاک۔ حکام کی جانب سے نیشنل ریزسٹنس فرنٹ پر شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے جبکہ داخلی چپقلش کے امکانی پہلوؤں پر بھی تحقیقات جاری ہیں۔

May 25, 2026

کابل: افغانستان کے دارالحکومت کابل میں سیکیورٹی کی سنگین صورتِ حال اس وقت مزید ابتر ہو گئی جب نامعلوم مسلح افراد نے ایک انتہائی منظم اور مہلک حملہ کر کے طالبان کے متعدد سینیئر کمانڈرز کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ افغان میڈیا اور عالمی ذرائع کے مطابق اس حملے میں نہ صرف اہم عسکری کمانڈرز کو نشانہ بنایا گیا بلکہ طالبان کے سیکیورٹی اور انٹیلی جنس نیٹ ورکس سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ حکام بھی اس کی زد میں آ کر ہلاک ہوئے ہیں، جس نے کابل کے محفوظ ترین زون کے سیکیورٹی دعوؤں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

مزاحمتی گروہوں پر شبہ

طالبان حکام کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی بیانات میں حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ واقعے کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ افغان سیکیورٹی حکام نے ابتدائی طور پر اس کارروائی کا الزام نامعلوم شرپسندوں پر عائد کیا ہے، جنہیں مبینہ طور پر طالبان مخالف مسلح اتحاد ‘نیشنل ریزسٹنس فرنٹ’ (این آر ایف) اور دیگر عسکری گروہوں سے جوڑا جا رہا ہے۔

تاہم خطے کے دیگر ممالک کے عسکری مبصرین کا کہنا ہے کہ کابل کے اندر اس نوعیت کی ٹارگٹڈ کارروائی کسی بڑے نیٹ ورک کی موجودگی کا پتہ دیتی ہے۔

پراسرار ہلاکتوں کا پس منظر

دوسری جانب، بعض مقامی اور اندرونی ذرائع نے ایک نیا پہلو اجاگر کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ واقعہ طالبان کے مختلف دھڑوں کے مابین پیدا ہونے والے شدید اندرونی اختلافات اور انٹیلی جنس و سیکیورٹی حلقوں میں جاری طاقت کی رسہ کشی کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے، اگرچہ طالبان کی عبوری حکومت کی جانب سے اس دعوے کی باقاعدہ تصدیق نہیں کی گئی۔

یہ حملہ ایک ایسے حساس وقت میں ہوا ہے جب افغانستان میں حالیہ پاک افغان سرحدی جھڑپوں سے مبینہ طور پر تعلق رکھنے والے افراد اور انٹیلی جنس شخصیات کے خلاف ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اچانک تیزی دیکھی جا رہی ہے۔

بڑھتا ہوا عدم استحکام

دفاعی ماہرین کے مطابق حالیہ مہینوں کے دوران افغانستان کے مختلف صوبوں سے ایسے پراسرار واقعات بھی مسلسل رپورٹ ہو رہے ہیں جن میں طالبان ارکان اور کمانڈرز کو نجی تقاریب اور شادی کی محفلوں کے دوران نامعلوم افراد کی جانب سے کھانے میں زہر دے کر ہلاک کیا گیا۔

کابل میں ہونے والے اس تازہ ترین حملے نے طالبان کی انٹیلی جنس کمانڈ کو شدید چیلنج کر دیا ہے۔ حکام کا مؤقف ہے کہ جائے وقوعہ سے اہم شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں اور ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ مکمل ہوتے ہی اصل حقائق دنیا کے سامنے لائے جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *