خیبر پختونخوا کے ضلع کرک میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) داؤد خان سمیت 2 پولیس اہلکار شہید ہوگئے۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
اطلاعات کے مطابق کرک کے علاقے نیو کرپہ میں نامعلوم مسلح افراد نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ایس ایچ او داؤد خان اور پولیس اہلکار فرہاد شہید ہوگئے۔
واقعے کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔
Strongly condemn the firing incident in Karak in which an SHO and another police official embraced martyrdom in the line of duty. PTI has left Khyber Pakhtunkhwa at the mercy of terrorists. Our @KP_Police1 , Armed Forces and civilians are paying the price for the provincial…
— Faisal Karim Kundi (@fkkundi) October 8, 2026
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں فائرنگ کے واقعے کی شدید مذمت کی اور شہید اہلکاروں کے اہلخانہ اور ساتھیوں سے تعزیت کا اظہار کیا۔
فیصل کریم کنڈی نے الزام عائد کیا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے خیبر پختونخوا کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے ذمہ دار عناصر کی حمایت اور ان سے سمجھوتوں کی قیمت پولیس، مسلح افواج اور شہری اپنی جانوں کی قربانی دے کر ادا کر رہے ہیں۔
گورنر خیبر پختونخوا نے سوال اٹھایا کہ صوبائی حکومت کو اپنی ذمہ داری کا احساس دلانے کے لیے مزید کتنی جانوں کا ضیاع درکار ہے۔