پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے کنٹرول لائن کے پار تجارت اور آمد و رفت کے راستوں کو بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کو وسطی ایشیا کا دروازہ بنایا جائے۔ محبوبہ مفتی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئےمثال دی کہ دفعات 370 کی منسوخی کے بعد سے خطہ پنجرے میں قید ہے اور اب اس جمود کو توڑنا ناگزیر ہوچکا ہے۔
محبوبہ مفتی کے مطابق جموں و کشمیر کا معاملہ محض ریاستی حیثیت تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے لیے سیاسی بصیرت درکار ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سوچیت گڑھ راستہ اور لداخ میں کارگل سکردو روڈ سمیت تمام شاہراہیں کھولی جائیں تاکہ خطے میں معاشی و سماجی تعلقات بحال ہو سکیں۔ پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے تجویز پیش کی کہ جموں و کشمیر کو وسطی ایشیا کا دروازہ بنایا جائے کیونکہ یہ خطہ کسی دور میں تجارت و سفری روابط کا مرکز رہا ہے۔
محبوبہ مفتی نے بھارتی وزیر گری راج سنگھ کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ دہشت گرد صرف ایک مذہب سے تعلق رکھتے ہیں، محبوبہ مفتی نے کہا کہ ایسے بیانات نہ صرف حقیقت سے متضاد ہیں بلکہ معاشرے میں نفرت کا سبب بنتے ہیں۔
انہوں نے اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کے قتل کے واقعات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے تاریخی راستوں کی بحالی، باہمی رابطوں اور کشمیر کے مسئلے کے لیے منصفانہ حل کی ضرورت ہے۔
دیکھیں: آزاد کشمیر میں وزیراعظم انوارالحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد آج پیش کی جائے گی