قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایوف اپنے دو روزہ سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے۔ صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے نورخان ایئربیس پر ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ استقبالیہ تقریب میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزراء اور دونوں ممالک کے سفارتکار بھی موجود تھے۔
صدر توکایوف سے اپنی ملاقات میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ان کی آمد پر خوش آمدید کہا اور صدر، وزیراعظم، حکومت اور عوام پاکستان کی جانب سے خیرسگالی کے جذبات پیش کیے۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور قازقستان کے مابین بلند سطح پر جاری سیاسی روابط، باہمی تجارتی و اقتصادی تعاون اور عوامی سطح پر دوستی کے رشتوں کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان کے مطابق دورانِ ملاقات اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ دونوں ممالک خطے میں پائیدار امن، استحکام اور ترقی کے مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے مل کر کام کریں گے۔ نائب وزیراعظم نے اکتوبر 2025 میں قازقستان میں ہونے والے آئندہ اعلیٰ سطحی دورے کا خیرمقدم کرتے ہوئے دوطرفہ تعلقات میں استحکام اور وسعت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
خصوصی استقبال
صدر توکایوف کے اعزاز میں 21 توپوں کی سلامی دی گئی۔ روایتی پاکستانی لباس میں ملبوس بچوں نے پھول پیش کرکے خوش آمدید کہا، جبکہ دونوں ممالک کے جھنڈے مہمان کی تکریم کا ذریعہ بنے۔ صدر نے صدر زرداری اور وزیراعظم شریف سے ملاقاتوں کے بعد پاکستان۔ قازقستان بزنس فورم سے بھی خطاب کیا، جس میں دونوں ممالک کے کاروباری حلقوں نے شرکت کی۔
پس منظر اور روابط
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے حال ہی میں استنبول میں منعقدہ او آئی سی وزرائے خارجہ کانفرنس کے موقع پر قازقستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ مرات نورتیو سے ملاقات کی تھی، جس میں باہمی تجارت، سرمایہ کاری اور رابطوں کو بڑھانے کے طریقوں پر غور کیا گیا تھا۔
صدر توکایوف کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان راست روڈ اور ہوائی راستوں کے ذریعے رابطوں کو بڑھانے، توانائی، زراعت اور دفاعی شعبوں میں تعاون کے نئے دروازے کھولنے کی امیدوں کو تقویت دے رہا ہے۔