کابل کے دورے کے دوران طلوع ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں افغانستان کے لیے امریکہ کے سابق خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد نے امریکی ڈرون کارروائیوں کو ’’احتیاطی دفاع‘‘ قرار دیتے ہوئے ان کا جواز پیش کیا، تاہم اسی گفتگو میں انہوں نے بالواسطہ طور پر یہ بھی تسلیم کیا کہ طالبان افغان سرزمین سے اٹھنے والے تمام سیکیورٹی خطرات کو روکنے میں ناکام رہے ہیں۔
خلیل زاد نے ایک طرف ڈرون حملوں کو امریکہ کا حق قرار دیا، جبکہ دوسری جانب پاکستان کے اس حق پر سوال اٹھایا کہ وہ اپنی سرزمین پر ہونے والے دہشت گرد حملوں کے خلاف دفاعی اقدامات کرے۔ مبصرین کے مطابق یہ مؤقف دوہرا معیار ظاہر کرتا ہے، جہاں ایک ملک کے لیے ’’سیلف ڈیفنس‘‘ قابلِ قبول اور دوسرے کے لیے قابلِ اعتراض قرار دیا جا رہا ہے۔
اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ زلمے خلیل زاد اس وقت امریکی خارجہ پالیسی میں کسی سرکاری منصب پر فائز نہیں، اس کے باوجود وہ ذاتی آراء کو اس انداز میں پیش کر رہے ہیں جیسے وہ کسی باضابطہ پالیسی کی نمائندگی ہوں۔ ناقدین کے مطابق اس طرزِ گفتگو سے طالبان کے حق میں ایک جھوٹی ساکھ اور سیاسی جواز پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
Khalilzad Defends US Drone Flights over Afghanistan as Self-Defense right, Yet Advises Pakistan to Resolve Issues with Afghanistan Through Dialogue -, The Issue of Bagram also discussed
— Mahaz (@MahazOfficial1) January 3, 2026
The former U.S. Special Representative for Afghanistan, Zalmay Khalilzad, in an interview… pic.twitter.com/mAyrRUyiCu
انٹرویو میں خلیل زاد نے طالبان کو ’’لچکدار مذاکراتی فریق‘‘ کے طور پر پیش کیا، حالانکہ اقوامِ متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس طالبان کی جانب سے سرحد پار دہشت گردی روکنے میں ناکامی، اور سیکیورٹی وعدوں کی عدم پاسداری کو واضح کرتی ہیں۔ پاکستان سمیت ہمسایہ ممالک مسلسل اس حقیقت کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ ٹی ٹی پی، داعش خراسان اور دیگر شدت پسند گروہ افغان سرزمین کو محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔
خلیل زاد نے مکالمے کو ہر مسئلے کا حل قرار دیا، لیکن ان کی ماضی کی سفارت کاری، خاص طور پر دوحہ معاہدہ، امریکہ کے جلد انخلا کے سیاسی تاثر کو ترجیح دینے تک محدود رہی، جس کے نتیجے میں طالبان کو اقتدار ملا اور افغانستان ایک بار پھر علاقائی عدم استحکام کا مرکز بن گیا۔ ناقدین کے مطابق اس معاہدے نے طالبان کو تقویت دی اور خطے کو تشدد اور سرحد پار دہشت گردی کے نئے چیلنجز سے دوچار کیا۔
انٹرویو میں خلیل زاد نے افغانستان میں حکومتی ناکامی، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، جبر، اور دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی کو نظرانداز کرتے ہوئے طالبان نواز بیانیے کو تقویت دی۔ پاکستان کو ’’مکالمے‘‘ کا درس دیتے ہوئے وہ اس حقیقت کو نظر انداز کرتے دکھائی دیے کہ طالبان کی سرپرستی میں سرگرم گروہ براہِ راست پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خلیل زاد کے بیانات طالبان کو جوابدہی سے بچانے کی کوشش ہیں، جن میں پاکستان کے دفاعی اقدامات پر تنقید اور طالبان کی کوتاہیوں پر خاموشی نمایاں ہے۔ ان کے مطابق یہ بیانیہ نہ صرف جانبدار ہے بلکہ خطے میں عدم استحکام کو طول دینے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
ناقدین یہ بھی کہتے ہیں کہ زلمے خلیل زاد کی سفارت کاری افغانستان کے بحران کو ذاتی اہمیت اور کردار برقرار رکھنے کے لیے استعمال کرنے کے مترادف ہے، جس میں پاکستان اور دیگر ہمسایہ ممالک کے جائز سیکیورٹی خدشات کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
دیکھیں: وینزویلا کے وزیر داخلہ کی عوام کو قیادت پر اعتماد اور جارح قوتوں سے تعاون نہ کرنے کی اپیل