وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد خیبر پختونخوا کا انتظامی کنٹرول گورنر سنبھال سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس حوالے سے اہم فیصلے متوقع ہیں، جبکہ سابق قبائلی اضلاع اور جنوبی اضلاع کے لیے الگ سیکرٹریٹ قائم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ سیکرٹریٹ میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور ایڈیشنل آئی جی پولیس تعینات کیے جائیں گے۔ اس کا مرکزی دفتر سابق قبائلی اضلاع میں سے کسی ایک ضلع میں قائم کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق مجوزہ انتظامی ڈھانچے کے لیے وفاق کی جانب سے خصوصی فنڈز بھی فراہم کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم، ان اقدامات کی حتمی منظوری اور عملی نفاذ سے متعلق سرکاری اعلان سامنے آنا باقی ہے۔
مولانا سے ملاقات
اس پیش رفت کے دوران جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اتوار کی صبح وزیراعظم شہباز شریف سے وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی۔ ذرائع کے مطابق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار بھی اس ملاقات میں موجود تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم کو پاکستان تحریک انصاف کی قیادت اور اپوزیشن رہنماؤں سے ہونے والی ملاقاتوں کے بارے میں آگاہ کیا۔
سکیورٹی بریفنگ
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں خیبر پختونخوا کی صورتحال سے متعلق اہم فیصلے متوقع تھے۔
اجلاس میں حنیف عباسی، امیر مقام، رانا تنویر، رانا ثنا اللہ، محسن نقوی اور علیم خان سمیت دیگر حکومتی شخصیات شریک ہوئیں۔ ذرائع کے مطابق ڈی جی انٹیلی جنس بیورو فہد اسد اللہ نے کابینہ کو سکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دی۔
خیبر پختونخوا میں ممکنہ انتظامی تبدیلی سے متعلق حتمی صورت حال وفاقی کابینہ کے فیصلے اور باضابطہ سرکاری اعلان کے بعد واضح ہوگی۔