ویڈیو پیغام میں گروپ کی قیادت کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی، جبکہ ترجمان کے چہرے کو بھی واضح نہیں دکھایا گیا۔ مبصرین کے مطابق مقرر کے لہجے اور اندازِ گفتگو کی بنیاد پر اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ اس کا تعلق افغانستان کے شمالی علاقوں سے ہو سکتا ہے۔

February 23, 2026

ذرائع کے مطابق کم از کم 20 قبائلی عمائدین پر مشتمل ایک جرگہ افغانستان کے جنوبی زون کے لیے صوبہ پکتیا کے گورنر مہر اللہ حمد سے ملا۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب مبینہ حملوں میں مارے گئے افراد کی لاشیں نکالی جا رہی تھیں اور طالبان نے واقعے کے مقام تک عام شہریوں کی رسائی محدود کر رکھی تھی۔

February 23, 2026

کونن پوشپورہ کا واقعہ آج بھی خطے کی سیاست، انسانی حقوق کی بحث اور پاکستان-بھارت تعلقات کے تناظر میں ایک حساس موضوع ہے۔ جب تک الزامات اور جوابی بیانات سے آگے بڑھ کر غیر جانبدار احتساب کا نظام قائم نہیں ہوتا، یہ سوال اپنی پوری شدت کے ساتھ موجود رہے گا کہ انصاف کب اور کیسے ممکن ہوگا۔

February 23, 2026

کرک کے علاقے بہادر خیل میں دہشت گردوں کی ایمبولینس پر بزدلانہ فائرنگ؛ ہسپتال منتقل کیے جانے والے ایف سی کے 3 زخمی اہلکار شہید، ریسکیو عملے کے 2 ارکان زخمی

February 23, 2026

امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے صدر ٹرمپ کے تجارتی اقدامات کی منسوخی کے بعد چین کا سخت ردِعمل؛ بیجنگ نے واشنگٹن سے یکطرفہ ٹیرف فوری ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا

February 23, 2026

آئی سی سی نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2028 کے لیے کوالیفائی کرنے والی ٹیموں کی تفصیلات جاری کر دیں؛ بنگلہ دیش، افغانستان اور آئرلینڈ کی براہِ راست شرکت یقینی

February 23, 2026

خیبر پختونخوا کابینہ نے 2011 سول پاور ریگولیشن ختم کرنے کی منظوری دے دی

سکیورٹی ماہرین کے مطابق ایک ایسی صورتحال میں یہ قانون ختم کرنا جب افغانستان کی جانب سے بھی کشیدگی اور دراندازی جاری ہے اور صوبے کا اپنا امن بھی خراب ہے، سکیورٹی پر سنگین اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
خیبر پختونخوا کابینہ نے 2011 سول پاور ریگولیشن ختم کرنے کی منظوری دے دی

یہ اقدام صوبائی اسمبلی کی حالیہ متفقہ قرارداد کے عین مطابق ہے، جس میں 2011 کے ریگولیشن کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

November 15, 2025

خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی زیرِ صدارت صوبائی کابینہ نے 14 نومبر 2025 کو پشاور میں ہونے والے اپنے پہلے اجلاس میں ایکشن (اِن ایڈ آف سول پاور) ریگولیشن 2011 کو ختم کرنے کی منظوری دے دی۔ یہ ریگولیشن سابقہ قبائلی اضلاع میں انسدادِ دہشت گردی اقدامات کے لیے نافذ کیا گیا تھا، جس میں سیکیورٹی فورسز کو وسیع اختیارات اور قانونی استثنیٰ حاصل تھا۔

یہ قانون برسوں سے انسانی حقوق کی تنظیموں اور قبائلی عوام کی جانب سے تنقید کی زد میں رہا، کیونکہ اس کے تحت مبینہ طور پر جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت کارروائیوں اور غیر شفاف حراستی نظام کو تقویت ملی۔ پشاور ہائی کورٹ نے بھی اسے آئین سے متصادم قرار دیا تھا، جس کے خلاف صوبائی حکومت نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔

صوبائی کابینہ کے فیصلے کے مطابق، حکومت اب سپریم کورٹ میں زیرِ التواء اپیل واپس لینے کی تیاری کر رہی ہے۔ یہ اقدام صوبائی اسمبلی کی حالیہ متفقہ قرارداد کے عین مطابق ہے، جس میں 2011 کے ریگولیشن کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ تاہم اس فیصلے کو عملدرآمد کے لیے حتمی منظوری صوبائی اسمبلی سے درکار ہوگی۔

معاونِ خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان کے مطابق کابینہ نے اس ریگولیشن سے متعلق سپریم کورٹ میں زیر التوا اپیل واپس لینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قانون کا خاتمہ خیبر پختونخوا اسمبلی کی متفقہ قرارداد کے مطابق ہے، اور اس کا باضابطہ نفاذ اسمبلی کی منظوری کے بعد عمل میں آئے گا۔

سیاسی اور انسانی حقوق کے ماہرین اس پیشرفت کو قبائلی علاقوں کے لیے ایک اہم موڑ قرار دے رہے ہیں، جو طویل عرصے سے سخت سکیورٹی قوانین کے بوجھ تلے زندگی گزار رہے تھے۔ حکومت کے مطابق، ریگولیشن کے خاتمے کے بعد بھی دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے دیگر قانونی و انتظامی اقدامات برقرار رہیں گے۔

تاہم سکیورٹی ماہرین کے مطابق ایک ایسی صورتحال میں یہ قانون ختم کرنا جب افغانستان کی جانب سے بھی کشیدگی اور دراندازی جاری ہے اور صوبے کا اپنا امن بھی خراب ہے، سکیورٹی پر سنگین اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

دیکھیں: خیبر پختونخوا کی سطح پر یتیم طلبا و طالبات کے لیے مفت تعلیم کا منصوبہ

متعلقہ مضامین

ویڈیو پیغام میں گروپ کی قیادت کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی، جبکہ ترجمان کے چہرے کو بھی واضح نہیں دکھایا گیا۔ مبصرین کے مطابق مقرر کے لہجے اور اندازِ گفتگو کی بنیاد پر اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ اس کا تعلق افغانستان کے شمالی علاقوں سے ہو سکتا ہے۔

February 23, 2026

ذرائع کے مطابق کم از کم 20 قبائلی عمائدین پر مشتمل ایک جرگہ افغانستان کے جنوبی زون کے لیے صوبہ پکتیا کے گورنر مہر اللہ حمد سے ملا۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب مبینہ حملوں میں مارے گئے افراد کی لاشیں نکالی جا رہی تھیں اور طالبان نے واقعے کے مقام تک عام شہریوں کی رسائی محدود کر رکھی تھی۔

February 23, 2026

کونن پوشپورہ کا واقعہ آج بھی خطے کی سیاست، انسانی حقوق کی بحث اور پاکستان-بھارت تعلقات کے تناظر میں ایک حساس موضوع ہے۔ جب تک الزامات اور جوابی بیانات سے آگے بڑھ کر غیر جانبدار احتساب کا نظام قائم نہیں ہوتا، یہ سوال اپنی پوری شدت کے ساتھ موجود رہے گا کہ انصاف کب اور کیسے ممکن ہوگا۔

February 23, 2026

کرک کے علاقے بہادر خیل میں دہشت گردوں کی ایمبولینس پر بزدلانہ فائرنگ؛ ہسپتال منتقل کیے جانے والے ایف سی کے 3 زخمی اہلکار شہید، ریسکیو عملے کے 2 ارکان زخمی

February 23, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *