وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی خان نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے معاملے پر بات اب کافی آگے بڑھ چکی ہے اور اس کے نفاذ کے تکنیکی معاملات زیرِ بحث ہیں۔
پروگرام سینٹر اسٹیج میں گفتگو کرتے ہوئے اختیار ولی خان نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ پر غور کا مرحلہ گزر چکا ہے۔ اب گفتگو اس بات پر ہو رہی ہے کہ گورنر راج کیسے اور کون نافذ کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ گورنر راج لگنے کی بات بہت پیچھے رہ گئی ہے اور اب تو اس کے تکنیکی معاملات پر بات ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق ان کی اطلاعات ہیں کہ حکومتی اتحادی بھی اس معاملے پر آن بورڈ ہیں۔
اختیار ولی خان نے کہا کہ گورنر راج کو عام طور پر زیادہ پسند نہیں کیا جاتا، تاہم جہاں غلطی ہو جائے اسے درست کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔
انہوں نے خیبر پختونخوا کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صوبے کے لوگ پریشان ہیں، دہشت گردی کے واقعات پیش آئے ہیں اور اسپتالوں کی حالت بھی دیکھی جا سکتی ہے۔
وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر نے مزید کہا کہ جہاں اسمگلروں اور غنڈوں کا راج ہو، وہاں گورنر راج ہی بہتر ہوتا ہے۔