خیبرپختونخوا میں امن و امان کی بحالی اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں خود قیادت کرنا ہوگی، جبکہ وفاق ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔
گورنر فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں صوبے کی سکیورٹی صورت حال، دہشتگردی کے خاتمے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار اور ترقیاتی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دہشتگردی کے خلاف اقدامات
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں وفاقی اور صوبائی حکومتیں پہلی بار ایک پیج پر ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ صرف بیانات سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے جیتی جا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی مؤثر قیادت سے سکیورٹی فورسز بہتر نتائج دے سکتی ہیں۔ وفاقی حکومت صوبائی انتظامیہ، پولیس اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر کام کرے گی اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بھرپور تعاون فراہم کرے گی۔
وزیر داخلہ نے پولیس کو جدید ہتھیار، تحفظ اور ضروری سہولتیں فراہم کرنے پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق، جدید اسلحے سے لیس دہشتگردوں کا مقابلہ کرنے کے لیے پولیس کی صلاحیت بڑھانا ضروری ہے۔
محسن نقوی نے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پانچ اضلاع پر مشتمل منصوبے پر دوبارہ کام شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں چھ ماہ کے دوران پانچ اضلاع میں پولیس اور دیگر اداروں کو مضبوط بنایا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حالات ایک دن میں تبدیل نہیں ہوں گے، اس لیے مسلسل اقدامات اور مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔ وزیر داخلہ نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صورت حال سنبھالنے پر سکیورٹی اداروں کی کوششوں کو بھی سراہا۔
امن اور ترقی ضروری ناگزیر
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبے میں امن کی بحالی کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتیں ایک پیج پر ہیں اور سکیورٹی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ ضم اضلاع کے عوام کو آج بھی آزادانہ زندگی اور سفر کی سہولتوں کے مسائل کا سامنا ہے۔ ان علاقوں میں امن، خوشحالی اور بہتر ماحول فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
فیصل کریم کنڈی کے مطابق، خیبرپختونخوا میں امن قائم ہونے سے سیاحت، سرمایہ کاری اور کاروبار کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ صوبے کی تاریخ میں ان کا ذکر امن اور خوشحالی کے لیے کام کرنے والوں میں ہوگا۔