تاجکستان کی سرحد کے قریب دہشت گرد حملے میں تین چینی شہریوں کی ہلاکت پر پاکستان نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے چین اور تاجکستان کی حکومتوں اور عوام سے دلی تعزیت کی ہے۔ وزارتِ خارجہ اسلام آباد کی جانب سے جاری بیان میں اس واقعے کو “بہیمانہ دہشت گردی” قرار دیتے ہوئے اس کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔
بیان کے مطابق پاکستان نے کہا کہ چینی شہریوں پر مسلح ڈرون کے ذریعے حملہ اس بات کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے ابھرنے والا دہشت گردی کا خطرہ کس قدر شدید اور منظم صورت اختیار کرچکا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ حملہ آوروں کی اس دیدہ دلیری نے پورے خطے کے لیے سکیورٹی خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
وزارتِ خارجہ نے اس جانب بھی توجہ مبذول کرائی کہ پاکستان خود بھی متعدد مرتبہ افغانستان کی سرزمین سے ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں کا نشانہ بن چکا ہے، اس لیے پاکستانی عوام چین اور تاجکستان کے غم اور تکلیف کو پوری طرح محسوس کرتے ہیں اور ان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔
🔊PR No.3️⃣5️⃣5️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣5️⃣
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) November 27, 2025
Killing of Three Chinese Workers in Tajikistan https://t.co/rNxpPi02Sf
🔗⬇️ pic.twitter.com/vWs439pBHZ
بیان میں یہ مؤقف ایک بار پھر دہرایا گیا کہ افغان سرزمین کو کسی بھی صورت دہشت گرد گروہوں کی پناہ گاہ یا پڑوسی ممالک کے خلاف کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ افغان طالبان کی سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد عناصر کی موجودگی پورے خطے اور بین الاقوامی برادری کے لیے تشویش کا باعث ہے۔
پاکستان نے مطالبہ کیا کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں کے سرپرستوں، سہولت کاروں، مالی معاونین اور منصوبہ سازوں کے خلاف ٹھوس، عملی اور قابلِ تصدیق اقدامات کیے جائیں، کیونکہ یہی واحد راستہ ہے جس کے ذریعے بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے خطرے پر قابو پایا جاسکتا ہے۔
بیان کے آخر میں پاکستان نے چین، تاجکستان اور دیگر علاقائی شراکت داروں کے ساتھ امن، استحکام اور سکیورٹی کے لیے بھرپور تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔