"> کوہاٹ کے لیاقت شہید کو ستارۂ شجاعت دینے کی منظوری، بہادری کا اعتراف - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

کوہاٹ کے لیاقت شہید کو ستارۂ شجاعت دینے کی منظوری، بہادری کا اعتراف

صدرِ پاکستان نے دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام بنانے والے کوہاٹ کے بہادر شہری لیاقت شہید کے لیے ملک کے دوسرے بڑے سول اعزاز ستارۂ شجاعت کی منظوری دے دی ہے۔
وزیراعظم کی سفارش پر صدرِ پاکستان نے دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام بنانے والے کوہاٹ کے بہادر شہری لیاقت شہید کے لیے ملک کے دوسرے بڑے سول اعزاز ستارۂ شجاعت کی منظوری دے دی ہے۔

وزیراعظم نے لیاقت کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیا۔ ان کی بروقت مزاحمت سے ممکنہ بڑا سانحہ ٹل گیا۔ انہوں نے کہا کہ لیاقت شہید کی قربانی اور جرات یاد رکھی جائے گی۔

May 13, 2026

حکومتِ پاکستان نے کوہاٹ کے قریب اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے سینکڑوں زندگیاں بچانے والے بہادر شہری لیاقت شہید کی عظیم قربانی کا باقاعدہ اعتراف کر لیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی سفارش پر صدرِ مملکت نے لیاقت شہید ولد کریم الٰہی کو پاکستان کے دوسرے سب سے بڑے سول اعزاز برائے بہادری ’ستارۂ شجاعت‘ سے نوازنے کی منظوری دے دی ہے۔

لیاقت شہید کی بے مثال بہادری

گزشتہ روز پنجاب اور خیبر پختونخوا کے سرحدی علاقے جنڈ اور خوشحال گڑھ پل کے قریب ایک حساس چیک پوسٹ کی جانب ایک مشتبہ شخص بڑھ رہا تھا۔ وہاں موجود عام شہری لیاقت نے غیر معمولی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مشتبہ شخص کو روکا اور اس کی تلاشی لینے کی کوشش کی۔ پکڑے جانے کے خوف سے دہشت گرد نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جس کے نتیجے میں لیاقت نے موقع پر ہی جامِ شہادت نوش کیا جبکہ حملہ آور ہلاک ہو گیا۔

بڑے نقصان سے بچاؤ

وزیراعظم شہباز شریف نے شہید کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ لیاقت نے ایک ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیا۔ اگر وہ بروقت مزاحمت نہ کرتے تو دہشت گرد چیک پوسٹ یا قریبی عوامی جگہ کو نشانہ بنا کر بڑے جانی نقصان کا سبب بن سکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ لیاقت شہید کی لازوال قربانی، ان کی نڈر طبیعت اور حب الوطنی کی مثال ہمیشہ یاد رکھی جائے گی، کیونکہ وہ دہشت گردی کے خلاف قومی عزم کی حقیقی علامت ہیں۔

سرکاری پروٹوکول میں روانگی

لیاقت شہید کے اہل خانہ، جن میں ان کی والدہ، صاحبزادہ اور بھائی شامل ہیں، صدرِ پاکستان سے یہ اعزاز وصول کرنے کے لیے اسلام آباد روانہ ہو گئے ہیں۔ حکومت کی جانب سے شہید کے خاندان کو مکمل سرکاری پروٹوکول فراہم کیا گیا ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر جنڈ خود قافلے کے ہمراہ ہیں تاکہ تمام انتظامات کی نگرانی کر سکیں۔

خصوصی حفاظتی انتظامات

شہید کے لواحقین کی حفاظت اور سہولت کے لیے ایلیٹ فورس کا خصوصی دستہ بھی ساتھ روانہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ شہید کے اہل خانہ کے سفر اور قیام کے دوران کسی قسم کی کمی نہ آنے دی جائے۔ لیاقت شہید کی اس قربانی کو علاقائی سطح پر بھی سراہا جا رہا ہے اور عوام حکومت کے اس بروقت فیصلے کو شہداء کی قدر دانی قرار دے رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *