"> ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کا گٹھ جوڑ: علاقائی امن کے لیے سنگین خطرہ - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کا گٹھ جوڑ: علاقائی امن کے لیے سنگین خطرہ

باجوڑ اور شیخ ادریس قتل کے واقعات نے فتنہ الخوارج اور کابل انتظامیہ کے گٹھ جوڑ کو مکمل طور پر بے نقاب کر دیا ہے۔ افغان سرزمین سے ہونے والی سرپرستی، آڈیو لیکس اور دہشت گردوں کی شناخت یہ ثابت کرتی ہے کہ سرحد پار موجود محفوظ پناہ گاہیں خطے کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہیں۔
باجوڑ اور چارسدہ کے واقعات نے فتنہ الخوارج اور کابل انتظامیہ کے گٹھ جوڑ کو مکمل طور پر بے نقاب کر دیا ہے۔ افغان سرزمین سے ہونے والی سرپرستی، آڈیو لیکس اور دہشت گردوں کی شناخت یہ ثابت کرتی ہے کہ سرحد پار موجود محفوظ پناہ گاہیں خطے کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہیں۔

روس کا افغانستان میں 23 ہزار دہشت گردوں کی موجودگی کا عالمی سطح پر بڑا انکشاف۔ ٹی ٹی پی، القاعدہ اور داعش کا گٹھ جوڑ اور کابل انتظامیہ کی خاموش حمایت علاقائی امن کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔

May 15, 2026

خیبر پختونخوا کے اضلاع باجوڑ اور چارسدہ میں ہونے والی حالیہ دہشت گردانہ کارروائیاں اور ان کے بعد سامنے آنے والے لرزہ خیز حقائق نے ثابت کر دیا ہے کہ فتنہ الخوارج اور کابل انتظامیہ کے درمیان ایک گہرا اور منظم گٹھ جوڑ موجود ہے۔ یہ اتحاد نہ صرف پاکستان کے امن و استحکام کو نشانہ بنا رہا ہے بلکہ اس نے اسلام کے پاکیزہ نام کو اپنے مذموم سیاسی و مالی مقاصد کے لیے ایک ڈھال کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔

افغان سرزمین کا استعمال

باجوڑ کے ڈمانگی کیمپ پر حملے کی تحقیقات میں خودکش بمبار جلال الدین عرف سجاد سمیت تمام دہشت گردوں کا افغان شہری نکلنا کابل انتظامیہ کے ان دعوؤں کی قلعی کھول دیتا ہے کہ افغان سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی۔ حقیقت یہ ہے کہ فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کو افغانستان کے صوبہ کنڑ اور دیگر ملحقہ علاقوں میں نہ صرف محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں، بلکہ انہیں وہاں باقاعدہ مہمان خانوں، مالی معاونت اور لاجسٹک مدد کی صورت میں ریاستی سرپرستی حاصل ہے۔ باجوڑ کے خارجی کمانڈر ‘ملنگ بچہ’ کا اعتراف اس گٹھ جوڑ کا بین ثبوت ہے کہ پاکستان میں خونریزی کی ڈوریاں سرحد پار بیٹھے سہولت کاروں کے ہاتھ میں ہیں۔

منظم دہشت گردی

چارسدہ میں شیخ ادریس کے قتل کے پیچھے چھپی منصوبہ بندی اور فتنہ الخوارج کے نائب امیر برجان کی آڈیو لیک نے اس گٹھ جوڑ کے ایک اور پہلو کو بے نقاب کیا ہے۔ یہ گروہ واردات خود کرتے ہیں اور ذمہ داری ‘داعش’ یا دیگر گمنام تنظیموں پر ڈال دیتے ہیں تاکہ عالمی دباؤ سے بچا جا سکے اور کابل انتظامیہ کو کلین چٹ دی جا سکے۔ ایک عالم دین کے قتل کے لیے ایک ملین ڈالر کی خطیر رقم مقرر کرنا اور اسے ریاست کی حمایت کی سزا دینا ثابت کرتا ہے کہ یہ گروہ اور ان کے غیر ملکی سرپرست پاکستان میں فکری اور نظریاتی قیادت کو ختم کر کے عدم استحکام پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

عالمی خدشات

روس کی سلامتی کونسل کے سیکریٹری سرگئی شوئیگو کی جانب سے افغانستان میں 23 ہزار دہشت گردوں کی موجودگی کا حالیہ انکشاف محض ایک بیان نہیں بلکہ اس تلخ حقیقت کی عالمی تائید ہے کہ افغانستان ایک بار پھر عالمی دہشت گردی کا مرکز بن چکا ہے۔ یہ صورتحال اس وقت مزید ہولناک ہو جاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ فتنہ الخوارج، القاعدہ اور داعش جیسی متضاد نظریات رکھنے والی تنظیمیں ایک ہی چھتری تلے اکٹھی ہو کر سرحد پار کاروائیاں کر رہی ہیں۔ اس خطرناک ملاپ کو ایندھن فراہم کرنے کے لیے منشیات کی اسمگلنگ کے کالے دھن کا بے دریغ استعمال ہو رہا ہے، جسے کابل انتظامیہ کی خاموش حمایت اور سہولت کاری حاصل ہے۔

شنگھائی تعاون تنظیم سمیت پورے خطے کے لیے یہ صورتحال کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں، کیونکہ جب کوئی پڑوسی ملک بین الاقوامی وعدوں کے برعکس اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کے مادی اور انسانی انفراسٹرکچر کو تحفظ فراہم کرتا ہے، تو یہ نہ صرف برادرانہ تعلقات کی نفی ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین اور خود افغانستان کی اپنی سالمیت کے وعدوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ یہ انفراسٹرکچر اب صرف پاکستان کے لیے نہیں بلکہ وسطی ایشیا اور روس تک کے استحکام کے لیے ایک ٹائم بم بن چکا ہے۔

مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ فتنہ الخوارج کا دینِ اسلام کی آفاقی اور پرامن تعلیمات سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ یہ محض ایک سفاک مجرمانہ ٹولہ ہے جس نے کابل کی چھتری تلے پناہ لے کر ڈکیتی، اغوا برائے تاوان اور معصوم انسانوں کے قتل کو اپنا منافع بخش پیشہ بنا رکھا ہے۔ کابل انتظامیہ کا دوہرا معیار اب عالمی فورمز پر رسوا ہو رہا ہے؛ جہاں ایک طرف وہ عالمی برادری کو امن کی یقین دہانیاں کراتے ہیں، تو دوسری طرف پاکستان دشمن عناصر کو محفوظ ٹھکانے، مالی امداد اور جدید اسلحہ فراہم کر کے انہیں پاکستان میں خونریزی کے لیے شہ دیتے ہیں۔

وقت کا تقاضا ہے کہ ریاستِ پاکستان اس منظم گٹھ جوڑ کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپناتے ہوئے مزید سخت اور دو ٹوک سفارتی و عسکری موقف اختیار کرے۔ عالمی برادری کو بھی اب محض بیانات سے آگے بڑھ کر کابل پر معاشی اور سیاسی دباؤ بڑھانا ہوگا تاکہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گردی کی نرسری کے طور پر استعمال ہونے سے روکنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔ پاکستانی قوم کو بھی چاہیے کہ وہ مذہب کا لبادہ اوڑھ کر ملک کی جڑیں کھوکھلی کرنے والے ان خوارج کے مکروہ چہرے اور ان کے بیرونی آقاؤں کے ایجنڈے کو پہچان کر سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائے، کیونکہ اس فتنے کا جڑ سے خاتمہ ہی ہماری بقا اور علاقائی امن کی واحد ضمانت ہے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *