وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس فیصلے کی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کا اجلاس 11 اکتوبر کو طلب کیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کابینہ اجلاس میں ایمرجنسی کے نفاذ کی منظوری لیے جانے کا امکان ہے۔ اس مقصد کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے اجلاس بھی طلب کیے گئے ہیں۔
تاہم، ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق حتمی سرکاری اعلامیہ اور فیصلے کی قانونی تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔
صدر اور وزیراعظم کی ملاقات
اس سے قبل صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ایوان صدر میں ملاقات ہوئی، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی اور سکیورٹی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایوان صدر کے اعلامیے کے مطابق ملاقات میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان اور وفاقی وزیر احد چیمہ نے وزیراعظم کی معاونت کی۔
صدر مملکت کی معاونت سینیٹر شیری رحمان، نوید قمر، سلیم مانڈوی والا اور ڈاکٹر عاصم نے کی۔
پارلیمنٹ کا اجلاس
ذرائع کے مطابق اجلاس میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے الگ الگ اجلاس 13 اکتوبر کو بلانے پر اتفاق کیا گیا۔ ان اجلاسوں میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے معاملے پر پیش رفت متوقع ہے۔
اس سے قبل ذرائع نے بتایا تھا کہ ایوان صدر میں ہونے والے اجلاس میں گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی جانب سے صوبے میں امن و امان اور سکیورٹی صورت حال سے متعلق بھیجی گئی رپورٹ پر غور کیا گیا۔
ایمرجنسی کے ممکنہ نفاذ، اس کے دائرۂ کار اور آئینی طریقۂ کار سے متعلق مزید تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئیں۔