خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد ملک بھر میں ایک نیا سیاسی و آئینی مباحثہ چھڑ چکا ہے۔ مخالفین اور بالخصوص پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حامیوں کی جانب سے اس اقدام کی شدید مخالفت کی جا رہی ہے اور اسے متنازع بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ ایک منتخب صوبائی حکومت کی موجودگی میں وفاق کو یہ سخت قدم اٹھانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ تاہم، اس پورے معاملے کا باریک بینی اور غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ وفاقی حکومت نے یہ فیصلہ محض سیاسی ایڈونچر کے طور پر نہیں بلکہ ریاست اور عوام کی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے آئینی کردار کے تحت کیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی ریاست میں عوام کے جان و مال کا تحفظ تمام تر سیاسی و انتظامی مصالح سے بالاتر ہوتا ہے۔ آئینِ پاکستان کے تحت عوام کو امان فراہم کرنا اور صوبے میں امن و امان کی قائم شدہ صورتحال کو برقرار رکھنا بنیادی طور پر صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ لیکن جب کوئی صوبائی انتظامیہ امن و امان کے قیام، شرپسند عناصر کی سرکوبی اور شہریوں کو تحفظ دینے میں مکمل طور پر ناکام ہو جائے، تو وفاق خاموش تماشائی نہیں بنا رہ سکتا۔
منتخب حکومت ہونے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ عوام کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے یا صوبے کو بدامنی کی آگ میں دھکیلنے کی اجازت دی جائے۔ جب صوبائی حکومت اپنی بنیادی ذمہ داری نبھانے میں ناکام ہوئی، تبھی وفاقی حکومت نے آگے بڑھ کر چارج سنبھالنے کا آئینی اور اخلاقی فیصلہ کیا۔
مخالفین کا بیانیہ تضادات اور دوہرے معیار کا شاہکار نظر آتا ہے۔ یہی طبقہ 9 مئی کے تلخ اور پرتشدد واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے اکثر یہ سوال اٹھاتا ہے کہ جب لوگ ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کر رہے تھے تو فوج اور سیکیورٹی ادارے دیکھتے کیوں رہے؟ گولی کیوں نہیں چلائی گئی؟ لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ اگر اس وقت طاقت کا بے دریغ استعمال کیا جاتا یا گولی چلائی جاتی، تو یہی معترضین سب سے پہلے یہ شور مچاتے کہ غیر مسلح شہریوں پر گولی کیوں چلائی گئی! آج جب وفاق نے خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع سمیت پورے صوبے میں امن کی بحالی کے لیے آئینی طریقہ کار کے مطابق ایمرجنسی نافذ کی ہے۔۔۔ جہاں فوج پہلے سے ہی صوبائی حکومت کی معاونت اور امن و امان کے قیام کے لیے موجود ہے۔۔۔ تو اب ایمرجنسی کے نفاذ پر ہی اعتراضات داغے جا رہے ہیں۔
یہ دوہرا معیار اس بات کا ثبوت ہے کہ مقصد امن و امان کی بہتری یا عوامی مفاد نہیں، بلکہ محض بیانیے کی جنگ جیتنا اور معاملے کو متنازع بنانا ہے۔ وفاقی حکومت نے امن و امان کی ابتر صورتحال کو بہتر بنانے، عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے اور ریاست کی قلمرو کو قائم رکھنے کے لیے ایمرجنسی لگانے کا جو قدم اٹھایا ہے، وہ عین آئینی اور وقت کی ضرورت تھا۔ ریاست کا پہلا اور آخری فرض اپنے شہریوں کی حفاظت ہے، اور جب صوبائی سطح پر یہ فرض ادا نہ ہو سکے تو وفاق کو اپنا آئینی کردار ادا کرنا ہی پڑتا ہے۔





