"> خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی
مددگار یا مکار؟ لائبہ اعجاز

مددگار یا مکار؟

بیرونِ ملک تعلیم کا خواب، خاندان کی قربانیاں اور مبینہ فراڈ کے الزامات؛ لائبہ اعجاز کا معاملہ تعلیمی مشاورتی خدمات کی شفافیت پر سوال اٹھاتا ہے۔

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی: عوامی تحفظ اور آئینی کردار

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ صوبائی حکومت کی ناکامی کے بعد عوام کے تحفظ اور امن و امان کی بحالی کے لیے وفاق کا آئینی اقدام ہے۔
خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ پر وفاق کا آئینی موقف، مخالفین کا دوہرا معیار اور عوامی تحفظ کی اہمیت پر تفصیلی تحریر۔

October 14, 2026

خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد ملک بھر میں ایک نیا سیاسی و آئینی مباحثہ چھڑ چکا ہے۔ مخالفین اور بالخصوص پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حامیوں کی جانب سے اس اقدام کی شدید مخالفت کی جا رہی ہے اور اسے متنازع بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ ایک منتخب صوبائی حکومت کی موجودگی میں وفاق کو یہ سخت قدم اٹھانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ تاہم، اس پورے معاملے کا باریک بینی اور غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ وفاقی حکومت نے یہ فیصلہ محض سیاسی ایڈونچر کے طور پر نہیں بلکہ ریاست اور عوام کی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے آئینی کردار کے تحت کیا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی ریاست میں عوام کے جان و مال کا تحفظ تمام تر سیاسی و انتظامی مصالح سے بالاتر ہوتا ہے۔ آئینِ پاکستان کے تحت عوام کو امان فراہم کرنا اور صوبے میں امن و امان کی قائم شدہ صورتحال کو برقرار رکھنا بنیادی طور پر صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ لیکن جب کوئی صوبائی انتظامیہ امن و امان کے قیام، شرپسند عناصر کی سرکوبی اور شہریوں کو تحفظ دینے میں مکمل طور پر ناکام ہو جائے، تو وفاق خاموش تماشائی نہیں بنا رہ سکتا۔

منتخب حکومت ہونے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ عوام کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے یا صوبے کو بدامنی کی آگ میں دھکیلنے کی اجازت دی جائے۔ جب صوبائی حکومت اپنی بنیادی ذمہ داری نبھانے میں ناکام ہوئی، تبھی وفاقی حکومت نے آگے بڑھ کر چارج سنبھالنے کا آئینی اور اخلاقی فیصلہ کیا۔

مخالفین کا بیانیہ تضادات اور دوہرے معیار کا شاہکار نظر آتا ہے۔ یہی طبقہ 9 مئی کے تلخ اور پرتشدد واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے اکثر یہ سوال اٹھاتا ہے کہ جب لوگ ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کر رہے تھے تو فوج اور سیکیورٹی ادارے دیکھتے کیوں رہے؟ گولی کیوں نہیں چلائی گئی؟ لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ اگر اس وقت طاقت کا بے دریغ استعمال کیا جاتا یا گولی چلائی جاتی، تو یہی معترضین سب سے پہلے یہ شور مچاتے کہ غیر مسلح شہریوں پر گولی کیوں چلائی گئی! آج جب وفاق نے خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع سمیت پورے صوبے میں امن کی بحالی کے لیے آئینی طریقہ کار کے مطابق ایمرجنسی نافذ کی ہے۔۔۔ جہاں فوج پہلے سے ہی صوبائی حکومت کی معاونت اور امن و امان کے قیام کے لیے موجود ہے۔۔۔ تو اب ایمرجنسی کے نفاذ پر ہی اعتراضات داغے جا رہے ہیں۔

یہ دوہرا معیار اس بات کا ثبوت ہے کہ مقصد امن و امان کی بہتری یا عوامی مفاد نہیں، بلکہ محض بیانیے کی جنگ جیتنا اور معاملے کو متنازع بنانا ہے۔ وفاقی حکومت نے امن و امان کی ابتر صورتحال کو بہتر بنانے، عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے اور ریاست کی قلمرو کو قائم رکھنے کے لیے ایمرجنسی لگانے کا جو قدم اٹھایا ہے، وہ عین آئینی اور وقت کی ضرورت تھا۔ ریاست کا پہلا اور آخری فرض اپنے شہریوں کی حفاظت ہے، اور جب صوبائی سطح پر یہ فرض ادا نہ ہو سکے تو وفاق کو اپنا آئینی کردار ادا کرنا ہی پڑتا ہے۔

متعلقہ مضامین

روسی وزیر داخلہ ولادی میر کولوکولٹسف کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات میں پاکستان روس سکیورٹی تعاون اور علاقائی امن و استحکام پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

October 14, 2026

قندھار کے ضلع ارغنداب میں افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کے حملے میں طالبان کمانڈر رحیم اللہ روحانی سمیت دو اہلکار ہلاک ہو گئے۔

October 14, 2026

خیبر پختونخوا پولیس کے 54 شہدا کے خاندانوں میں پلاٹوں کے الاٹمنٹ لیٹرز تقسیم کیے گئے، جبکہ شہدا پیکج میں اضافے اور پولیس کی تنخواہیں دیگر صوبوں کے برابر کرنے کا اعلان بھی کیا گیا۔

October 14, 2026

قومی اسمبلی میں خیبر پختونخوا ایمرجنسی کی قرارداد پیش ہونے کے بعد حکومت اور اپوزیشن کے ارکان نے چار گھنٹے سے زائد بحث کی۔

October 14, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *