"> دہشت گردی پر دوہری پالیسی نہیں چلے گی، وفاقی وزراء
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

دہشت گردی کے خلاف ایک ملک میں دو خارجہ پالیسیاں نہیں چل سکتیں: وفاقی وزراء

وفاقی وزراء عطا اللہ تارڑ اور اعظم نذیر تارڑ نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی، دہشت گردی کے بڑھتے واقعات اور افغانستان سے متعلق قومی پالیسی پر مؤقف پیش کیا۔
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی

وفاقی وزراء نے دہشت گردی کے خلاف یکساں قومی پالیسی پر زور دیا، خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کی مدت اور دہشت گردی کے اعداد و شمار پر بھی بات کی۔

October 13, 2026

وفاقی وزراء عطا اللہ تارڑ اور اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان میں ایک ہی قومی پالیسی ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق خیبر پختونخوا میں امن و امان کی خراب صورتحال اور دہشت گردی کے بڑھتے واقعات ایمرجنسی کے نفاذ کے اہم اسباب ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے ہمراہ غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے پی ٹی آئی اور خیبر پختونخوا حکومت کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی بنانے کے لیے متعدد بار مذاکرات کی کوشش کی، تاہم ان کے بقول مطلوبہ اتفاق رائے پیدا نہیں ہو سکا۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں بلکہ مقصد دہشت گردی کا خاتمہ اور عوام کے جان و مال کا تحفظ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں حکمرانی کا نظام مفلوج ہو چکا تھا اور امن و امان کی صورتحال مسلسل خراب ہو رہی تھی۔

قومی پالیسی پر زور

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان ایک طرف افغانستان کے ساتھ سفارتی رابطوں اور بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ اس کا مطالبہ ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ عبوری افغان حکومت کو دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ختم کرنے کے لیے قابل اعتبار اقدامات کرنا ہوں گے۔ ان کے مطابق دہشت گردی جیسے قومی مسئلے پر ملک کے اندر مختلف پالیسیوں کے بجائے مشترکہ حکمت عملی ضروری ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے خیبر پختونخوا میں انسداد دہشت گردی کے اقدامات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے تحت صوبائی حکومت کو اب تک تقریباً 800 ارب روپے فراہم کیے جا چکے ہیں۔ ان کے مطابق ان وسائل سے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کو مضبوط بنانے، سیف سٹی کیمرے نصب کرنے، فرانزک لیبارٹری قائم کرنے اور پولیس کو جدید آلات فراہم کرنے پر توجہ دی جانی چاہیے تھی۔

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام دہشت گردی کے خاتمے کے خواہاں ہیں اور اس مقصد کے لیے انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے صوبے میں سیاست، دہشت گردی اور جرائم کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کا بھی دعویٰ کیا۔

ایمرجنسی کی مدت

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا اعلان صدر پاکستان نے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت کیا۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے بڑھتے واقعات اس فیصلے میں اہم عوامل میں شامل تھے۔

انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کی مدت کے بارے میں فی الحال کوئی حتمی وقت نہیں دیا جا سکتا۔ ضرورت پڑنے پر ایمرجنسی میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔

وزیر قانون کے مطابق خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں حالیہ برسوں کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2021 سے 2024 کے دوران صوبے میں دہشت گردی کے 2,911 واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ بعد کے اعداد و شمار میں یہ تعداد بڑھ کر تقریباً 8,600 تک پہنچ گئی۔ ان کے بقول ان اعداد و شمار کا تبادلہ مختلف سرکاری اداروں نے وفاقی حکومت کے ساتھ کیا۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پاکستان کئی دہائیوں سے دہشت گردی کا سامنا کر رہا ہے اور اس جنگ میں سکیورٹی فورسز، پولیس اور شہریوں نے بھاری قربانیاں دی ہیں۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائیوں کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سمیت تمام متعلقہ اداروں کے درمیان مضبوط رابطہ ضروری ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں آئین کے تحت اپنے اپنے اختیارات استعمال کرتی ہیں، جبکہ ریاست کی بنیادی ذمہ داری شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اور ملک میں امن و امان برقرار رکھنا ہے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *