خیبر پختونخوا کی موجودہ سیاسی اور انتظامی صورتِ حال کو محض جلسوں، جلوسوں، دھرنوں یا سیاسی انتقام کا نام دینا اصل حقیقت سے نظریں چرانے کے مترادف ہے۔ جمہوری نظام میں سیاسی اختلاف، احتجاج اور مظاہرے یقیناً معمول کا حصہ ہوتے ہیں، لیکن جب معاملہ ملک کی سلامتی، شہریوں کی زندگی اور دہشت گردی کے ننگے ناچ تک جا پہنچے تو پھر یہ محض سیاست نہیں رہتی۔ وفاقی حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے حالیہ سخت اقدامات اور فیصلے کسی سیاسی بغض کا نتیجہ نہیں ہیں، بلکہ یہ ایک ایسا ناگزیر قدم تھا جو وقت اور حالات کے شدید تقاضوں کے تحت مجبوری میں اٹھانا پڑا۔
اس پورے بحران کی اصل جڑ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی وہ ابتر صورتِ حال ہے جس نے عام شہریوں سے لے کر سکیورٹی اداروں تک سب کو شدید خوف اور غیر یقینی میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ایک طرف صوبے میں روزانہ کی بنیاد پر سکیورٹی فورسز کے جوان اور پولیس اہلکار اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں، اور دوسری طرف صوبائی حکومت کی تمام تر توانائیاں وفاق سے لڑنے، دھرنوں کی تیاری کرنے اور اسلام آباد پر چڑھائی کے نقشے بنانے میں صرف ہو رہی ہیں۔
جب صوبائی انتظامیہ اپنی بنیادی آئینی ذمہ داری، یعنی عوام کا تحفظ اور امن کی بحالی، کو مکمل طور پر فراموش کر کے صرف سیاسی محاذ آرائی میں لگ جائے تو وفاق کا خاموش تماشائی بنے رہنا ممکن نہیں رہتا۔
اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات تحریک انصاف کی قيادت اور صوبائی حکومت کا دہشت گردوں اور عسکریت پسند گروہوں کے بارے میں وہ نرم رویہ ہے جس نے حالات کو اس خطرناک نہج پر پہنچایا۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور افغان طالبان کے حوالے سے عمران خان اور ان کی جماعت کی سوچ ہمیشہ سے ایک معذرت خواہانہ موقف پر مبنی رہی ہے۔ مذاکرات اور بازآبادکاری جیسے دلکش نعروں کی آڑ میں جس طرح عسکریت پسندوں کو دوبارہ پاؤں پھیلانے اور منظم ہونے کا موقع دیا گیا، اس نے صوبے میں امن کی رہی سہی امیدوں پر بھی پانی پھیر دیا۔ جب ریاست کا دشمن آپ کے دروازے پر دستک دے رہا ہو اور صوبے کی سیاسی قیادت اس کے لیے نرم گوشہ رکھے، تو یہ محض سیاسی غلطی نہیں بلکہ قومی سلامتی سے کھلواڑ بن جاتا ہے۔
بات صرف بیانیے تک محدود نہیں رہی بلکہ عملاً قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پیٹھ میں چھرا گھونپا گیا۔ ایس ایچ او جیسے ذمہ دار پولیس افسران کے سفاکانہ قتل، سکیورٹی اہلکاروں پر مسلسل حملے اور دہشت گردوں کی کھلے عام کارروائیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ صوبائی حکومت کی نااہلی یا چشم پوشی کے باعث عسکریت پسندوں کے حوصلے کس حد تک بلند ہو چکے ہیں۔ جب پولیس کو تنہا چھوڑ دیا جائے، سکیورٹی اداروں کی قربانیوں کی قدر کرنے کے بجائے انہیں سیاسی تنقید کا نشانہ بنایا جائے اور دہشت گردوں کی پشت پناہی کا تاثر ملے، تو قانون کی حکمرانی کا تصور ختم ہو جاتا ہے۔
ان حالات میں وفاقی حکومت کے پاس دو ہی راستے بچتے تھے: یا تو وہ خاموشی سے یہ سب دیکھتی رہے اور خیبر پختونخوا کے غیر محفوظ عوام کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دے، یا پھر آئین اور قانون کے تحت اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے سخت ترین فیصلے کرے۔ وفاق کا مقصد تحریک انصاف سے اس کی سیاسی آزادی چھیننا ہرگز نہیں ہے، بلکہ ریاست کی قلمرو کو قائم کرنا، دہشت گردوں کے سہولت کاروں اور ان کے لیے نرم گوشہ رکھنے والوں کو نکیل ڈالنا اور صوبے کی باگ ڈور ایسے ماحول سے نکالنا ہے جہاں دہشت گردی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال یا نظر انداز کیا جا رہا ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کا مسئلہ کسی ایک پارٹی کے اقتدار کی جنگ نہیں بلکہ ریاست پاکستان کی بقا اور اس کے شہریوں کے تحفظ کا معاملہ ہے۔ جب سیاسی وفاداریوں اور بضد پالیسیوں کی وجہ سے معصوم شہریوں اور پولیس اہلکاروں کا خون بہنے لگے، تو وفاق کا مداخلت کرنا کوئی انتخاب نہیں بلکہ ایک قومی اور قانونی فرض بن جاتا ہے۔ وفاقی حکومت نے جو قدم بھی اٹھایا ہے، وہ سخت ضرور ہے لیکن ملک کی سلامتی اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں بچا تھا۔
دیکھیے: افغان سرزمین سے دہشت گردی ہوئی تو بھرپور جواب دیں گے، وزیر اطلاعات