وفاقی وزرا نے خیبرپختونخوا کی پی ٹی آئی حکومت پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی افغان طالبان سے محبت اب کھل کر سامنے آ چکی ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ اور وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ وزرا نے مطالبہ کیا کہ پی ٹی آئی اب دو ٹوک فیصلہ کرے کہ وہ پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے یا افغانستان کے ساتھ۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ سیاست اپنی جگہ مگر اب پانی سر سے اونچا ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے معاملے پر خیبرپختونخوا حکومت کو اپنی پوزیشن واضح کرنا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ن لیگ، اے این پی اور جے یو آئی نے دہشت گردی کے خلاف جانوں کے نذرانے دیے۔ پی ٹی آئی کو دہشت گرد کیوں کچھ نہیں کہتے، پارٹی دہشت گردوں کی مالی معاونت میں ملوث ہے۔
وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی قیادت کالعدم ٹی ٹی پی کی سہولت کار بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ڈی آئی خان میں شہید بچوں کا خون وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے ہاتھوں پر تلاش کیا جائے؟
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ صوبے میں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں بلا روک ٹوک چل رہی ہیں۔ رجسٹریشن اس لیے نہیں کی جاتی تاکہ دہشت گردی میں استعمال ہونے والی گاڑیوں کا سراغ نہ مل سکے۔
انہوں نے بتایا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے سی ٹی ڈی کو فعال نہیں کیا۔ وفاق نے پولیس کے لیے جدید گاڑیاں دینے کی پیشکش کی مگر صوبائی حکومت نے لینے سے انکار کر دیا۔
وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ ڈی آئی خان حملے میں ملوث ایک دہشت گرد کا تعلق کابل سے نکلا ہے۔ نادرا ریکارڈ کے بجائے اوپن سورس معلومات سے اس کی شناخت افغان باشندے کے طور پر ہوئی۔
طلال چوہدری نے انکشاف کیا کہ افغانستان سے دہشت گردوں کے جتھے آتے ہیں۔ پاکستان میں کارروائیاں کرنے والے تقریباً 70 فیصد دہشت گرد افغانستان کے رہائشی ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شواہد اور ڈوزیئرز دینے کے باوجود ہمسایہ ملک رویہ بدلنے کو تیار نہیں۔ دہشت گرد ڈالرز کے لیے کارروائیاں کرتے ہیں اور افغانستان بطور سپر پراکسی کام کر رہا ہے۔
وزیر مملکت داخلہ نے سوال اٹھایا کہ وزیراعلیٰ کے پی نے ڈی آئی خان کا دورہ کیا لیکن افغانستان کا نام تک کیوں نہیں لیا؟ پی ٹی آئی افغانستان سے ہونے والی فائرنگ کی مذمت کیوں نہیں کرتی؟
طلال چوہدری نے کہا کہ صوبائی حکومت نے 14 سالوں میں فورسز کو وسائل اور قیادت نہیں دی۔ سیکیورٹی فورسز کو دی گئی بلٹ پروف گاڑیاں بھی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے واپس کر دی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی نمائندے سیکیورٹی اجلاسوں کا بائیکاٹ کرتے ہیں مگر این ایف سی کے پیسے لینے آ جاتے ہیں۔ وفاق نے خیبرپختونخوا سے انسدادِ دہشت گردی کے 800 ارب روپے کا حساب مانگ رکھا ہے۔
وفاقی وزرا نے عزم ظاہر کیا کہ سیکیورٹی فورسز کو تمام ضروری وسائل فراہم کیے جائیں گے۔ ریاست دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے پوری قوت سے کارروائی کرے گی۔
دیکھیے: کے پی عوام کا صبر جواب دے گیا: احتجاجی سیاست پر سہیل آفریدی پر کڑی تنقید