جمہوری نظام میں سیاسی جدوجہد اور پُرامن احتجاج ہر جماعت کا مسلمہ حق ہے، لیکن ریاست کے نظم و نسق کا اصل تقاضا یہ ہوتا ہے کہ سیاسی ایجنڈے کبھی عوامی فلاح اور انتظامی ذمہ داریوں پر غالب نہ آئیں۔ خیبرپختونخوا اس وقت جن زمینی حقائق، پیچیدہ چیلنجز اور سنگین حالات سے گزر رہا ہے، اس کے پیش نظر صوبائی حکومت کی سیاسی سرگرمیوں اور حکومتی امور کے درمیان توازن کا فقدان ایک گہری تشویش کو جنم دے رہا ہے۔ اسلام آباد مارچ اور سیاسی محاذ آرائی کے دوران حکومتی مشینری کا معطل ہونا اور سرکاری وسائل کی ترجیحات پر اٹھنے والے سوالات محض روایتی تنقید نہیں بلکہ براہِ راست عام شہری کے بنیادی حقوق اور ریاست کی کارکردگی کا نوحہ ہیں۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران پشاور کے ایوانِ اقتدار کی صورتحال اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ حکومت کی تمام تر توانائیاں اور وسائل صرف اور صرف وفاق کے خلاف سیاسی قوت کے مظاہرے پر مرکوز ہو کر رہ گئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ، صوبائی وزرا، مشیروں اور معاونینِ خصوصی کی دارالحکومت کی طرف مسلسل مصروفیات کے باعث صوبائی کابینہ کے اہم ترین اجلاس تک التوا کا شکار رہے۔ محکموں کی درجنوں اہم سمریاں، جن پر فوری قانونی و انتظامی فیصلوں کا دارومدار تھا، سرد خانے کی نذر ہو گئیں۔ محکمہ پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ سمیت متعدد ترقیاتی فورمز کے اجلاس تعطل میں پڑنے سے اربوں روپے کے عوامی منصوبوں کی منظوری رکی ہوئی ہے۔ یہ صورتحال یہ سوال کھڑا کرتی ہے کہ جب منتخب قیادت خود صوبے کے انتظام سے دستکش ہو جائے تو پھر گڈ گورننس کے دعووں کی کیا حقیقت رہ جاتی ہے؟
سب سے تلخ اور دل دہلا دینے والا پہلو صوبے میں وسائل کی ترجیحات کا عدم توازن ہے۔ خیبرپختونخوا وہ خطہ ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف اگلے محاذ پر جنگ لڑ رہا ہے، جہاں آئے روز سیکیورٹی اہلکار، پولیس اور عام شہری اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گردی کا نشانہ بننے والے کسٹمز اہلکاروں کو بروقت ایمبولینس نہ ملنے کی اندوہناک اطلاعات نے پورے انتظامی ڈھانچے پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ یہ المیہ اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ ایک طرف تو سیاسی جلسوں، مارچوں اور ریلیوں کے لیے حکومتی مشینری اور وسائل کی متحرک موجودگی پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں، اور دوسری طرف خون میں لت پت ریاستی اہلکاروں کے لیے زندگی اور موت کے لمحے میں ایک ایمبولینس تک میسر نہیں۔ اس سے بڑی انتظامی غفلت اور ترجیحات کا بگاڑ اور کیا ہو سکتا ہے؟
عدالتی سطح پر اسلام آباد ہائیکورٹ سمیت اعلیٰ عدالتوں کے واضح احکامات موجود ہیں کہ سرکاری وسائل، فنڈز، مشینری اور گاڑیوں کو سیاسی مہم جوئی کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ اگرچہ صوبائی حکومت کی جانب سے کاغذی احکامات کی بات کی جاتی ہے، مگر عملی میدان میں جب درجنوں سرکاری گاڑیاں، سیکیورٹی پروٹوکول اور حکومتی افسران سڑکوں پر سیاسی ایجنڈے کی تکمیل کرتے نظر آئیں تو اس شفافیت کا بھرم ٹوٹ جاتا ہے۔ ریاست کا بجٹ عوام کے خون پسینے کی کمائی اور ٹیکسوں سے بنتا ہے، اور اس کا واحد مقصد شہریوں کی جان، مال اور صحت کا تحفظ ہونا چاہیے، نہ کہ کسی ایک جماعت کے سیاسی جلسوں کو ایندھن فراہم کرنا۔
اس پورے منظرنامے کا ایک اور عبرتناک رخ خود تحریک کے اندرونی تضادات ہیں۔ جب دور دراز اضلاع—بنوں، کوہاٹ، کرک اور ہنگو—سے بلائے گئے عام سیاسی کارکن یہ شکوہ کرتے نظر آئیں کہ ان سے کروڑوں روپے کے فنڈز جمع کرنے کے باوجود سڑکوں پر انہیں بنیادی خوراک اور سہولیات سے محروم چھوڑ دیا گیا، تو قیادت کے نظم و ضبط اور نیت پر بھی سوالات اٹھتے ہیں۔ اگر اپنے ہی مخلص کارکنوں کے لیے بنیادی سہولیات کا انتظام ممکن نہیں تو پھر پورے صوبے کے کروڑوں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے دعوے کیونکر سچے مانے جا سکتے ہیں؟
اصل مسئلہ احتجاج کرنے یا نہ کرنے کا نہیں، بلکہ بنیادی اصول یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے کردار میں فرق ہوتا ہے۔ تحریک انصاف کو یہ سمجھنا ہوگا کہ خیبرپختونخوا میں وہ ایک اپوزیشن گروپ نہیں بلکہ برسرِ اقتدار جماعت ہے، جس کے کاندھوں پر کروڑوں شہریوں کی بقا اور ترقی کا آئینی بوجھ ہے۔ دہشت گردی کی نئی لہر، صحت کے ہنگامی شعبوں میں ادویات و عملے کی کمی، مہنگائی اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی کے دوران انتظامی سربراہوں کی طویل غیر حاضری صوبے کو انارکی کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہے۔
سیاسی میدان سجانا اپنی جگہ، لیکن تاریخ کا بے رحم ترازو حکومتوں کو ان کے نعروں سے نہیں بلکہ ہسپتالوں کے بستروں، سڑکوں کی حفاظت، اور تھانوں و عدالتوں میں انصاف کی فراہمی سے ناپتا ہے۔ حکومتی مشینری کا اصل امتحان کنٹینر پر تقاریر کرنا نہیں ہوتا، بلکہ یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ جب کوئی شہری دہشت گردی کی زد میں آ کر زمین پر تڑپ رہا ہو تو کیا ریاست کی مدد اس تک فوری پہنچ پاتی ہے یا نہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ خیبرپختونخوا کی قیادت اپنی اولین ترجیح اپنے صوبے کے عوام کی زندگی، سیکیورٹی اور گورننس کو بنائے، کیونکہ خالی نعرے کبھی روٹی، امن اور ایمبولینس کا متبادل نہیں بن سکتے۔
دیکھیے: پکتیکا فضائی حملے: حافظ گل بہادر گروپ نشانہ بنا، مقامی شہری کا دعویٰ