خیبرپختونخوا میں دہائی سے قائم پاکستان تحریک انصاف کی حکومت عوام کی بنیادی مشکلات حل کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ صوبے کے عوام بدامنی، کمر توڑ مہنگائی، بے روزگاری، بدعنوانی اور بجلی کی شدید قلت کے عذاب جھیلنے پر مجبور ہیں، جبکہ صوبائی حکومت کی کارکردگی صفر نظر آ رہی ہے۔
بارشوں اور مون سون سیزن نے پی ٹی آئی حکومت کے گڈ گورننس اور بہترین انفراسٹرکچر کے تمام دعووں کی قلعی کھول دی ہے۔ سڑکیں، تجارتی مراکز اور بازار تو درکنار، صوبے کے نگران اور سرکاری ہسپتال بھی زیرِ آب آ چکے ہیں، جس کے باعث نہ تو بازار محفوظ رہے ہیں اور نہ ہی علاج معالجے کے مراکزشديد بدانتظامی کا شکار ہیں۔
طبی مراکز اور سرکاری ہسپتالوں میں پانی بھر جانے کی وجہ سے مریضوں کو علاج معالجے کے لیے شدید خواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ہسپتالوں میں بنیادی ادویات اور طبی سہولیات کا فقدان پہلے ہی موجود تھا، اب سیلابی پانی داخل ہونے سے صورتحال مزید سنگین اور عوام کے لیے اذیت ناک ہو چکی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ سالہا سال اقتدار میں رہنے کے باوجود پی ٹی آئی قیادت نے صرف سیاسی نعرے بازی پر توجہ دی اور عوام کو مسائل کے دلدل میں تنہا چھوڑ دیا۔
عوام نے حکمرانوں اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ کاغذی دعوؤں کے بجائے فوراً عملی اقدامات کیے جائیں۔ امن و امان کی بحالی، مہنگائی پر قابو پانے اور مون سون میں ہسپتالوں و بازاروں کی ابتر صورتحال کو سنبھالنے کے لیے ایمرجنسی بنیادوں پر کام کیا جائے۔