خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور دہشت گردی کی حالیہ لہر نے صوبائی حکومت کی ترجیحات پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ صوبے کو اس وقت جس توجہ کی ضرورت ہے، وہ بدقسمتی سے ایک مخصوص سیاسی شخصیت کے گرد گھومنے والے بیانیے کی نذر ہو رہی ہے۔
حالیہ دنوں میں سہیل آفریدی سمیت تحریکِ انصاف کے مرکزی رہنماؤں اور صوبائی قیادت کی تمام تر توانائیاں صرف عمران خان کو دی جانے والی توجہ اور سیاسی محاذ آرائی تک محدود نظر آتی ہیں۔ یہ رجحان اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ صوبائی حکمران اور ان کے حامی اسٹریٹجک بنیادوں پر سوچنے کے بجائے جذباتی وابستگیوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔ جب ریاست کو دہشت گردی کے خلاف ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننا چاہیے، اس وقت قیادت کی تمام تر تگ و دو سیاسی بقا اور احتجاجی سیاست کے گرد مرکوز ہے۔
سکیورٹی ماہرین کے مطابق خیبر پختونخوا کی سرحدوں پر بڑھتے ہوئے خطرات اور پولیس اہلکاروں پر ہونے والے حملے اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ صوبائی انتظامیہ اپنی تمام تر توجہ انسدادِ دہشت گردی کی صلاحیت بڑھانے پر صرف کرے۔ تاہم سہیل آفریدی اور دیگر رہنماؤں کے حالیہ بیانات اور سرگرمیوں سے یہ تاثر ملتا ہے کہ صوبائی مفادات اور عوامی تحفظ کے مقابلے میں سیاسی بیانیہ کہیں زیادہ اہم ہے۔
یہ صورتحال پاکستان کے دشمنوں کے لیے سازگار ماحول پیدا کر رہی ہے جو سیاسی تقسیم کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ خیبر پختونخوا کی قیادت شخصیت پرستی کے سحر سے نکل کر صوبے کی سکیورٹی، پولیس کی فلاح و بہبود اور انٹیلی جنس معاونت جیسے بنیادی مسائل پر توجہ دے۔ اگر اب بھی اسٹریٹجک سوچ کو ترجیح نہ دی گئی تو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حاصل کردہ کامیابیاں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
دیکھیے: سہیل آفریدی کے “عمران خان رہائی فورس” کے قیام کے اعلان نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی