سوال یہ ہے کہ ایسی کسی ناگہانی صورت میں کیا ایرانی رجیم امت مسلمہ کی ناراضگی مول لینے کی متحمل ہو سکے گی؟ جبکہ وہ اپنی معاندانہ پالیسیوں کی بدولت پہلے ہی مسلم دنیا میں ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے ۔ اس کے باوجود اگر ایرانی رجیم ایسی حماقت کرتی ہے ۔ تو ایسی صورت میں مسلمان اور نصاریٰ کا اتحاد ایرانی رجیم کے بستر گول کرنے کا باعث بن سکتا ہے، جو شاید ایرانی رجیم کو منظور نہ ہو۔ ہو سکتا ہے کہ ایرانی رجیم اپنی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے امریکی اڈوں کووقتاََ فوقتاََ نشانہ تو بنائے ، لیکن احتیاط کے ساتھ۔ تاکہ ان حملوں سے کوئی مسلمان شہید نہ ہو۔

February 25, 2026

ایمنیسٹی انٹرنیشنل کی ریجنل ڈائریکٹر سمرتی سنگھ کے بھارتی خفیہ ایجنسیوں سے روابط بے نقاب؛ عالمی ادارے کا پلیٹ فارم پاکستان کے خلاف منظم پراپیگنڈے کے لیے استعمال ہونے کا انکشاف

February 25, 2026

پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ونگ کا اخلاقی بحران؛ محترمہ نورین اور صدف کے لیے ہمدردی مگر مخالفین کے لیے تضحیک، سیاسی وابستگی کی بنیاد پر بدلتے ہوئے انسانی معیارات

February 25, 2026

خیبر پختونخوا میں سیاسی قیادت کی توجہ صرف ایک شخصیت تک محدود؛ سہیل آفریدی سمیت دیگر رہنماؤں کی ترجیحات پر سوالات، سکیورٹی چیلنجز پسِ پشت چلے گئے

February 25, 2026

ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی موجود تھے، جسے اعلیٰ سطحی قومی ہم آہنگی اور مشترکہ حکمتِ عملی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

February 25, 2026

وزیرِ مملکت طلال چوہدری کا دورۂ ترکیہ؛ سکیورٹی، انسدادِ دہشت گردی اور منشیات کی روک تھام کے لیے ترکیہ کے ساتھ ادارہ جاتی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

February 25, 2026

شخصیت پرستی یا عوامی تحفظ؟ کے پی حکومت کی عدم توجہی سے صوبہ بدامنی کی لپیٹ میں

خیبر پختونخوا میں سیاسی قیادت کی توجہ صرف ایک شخصیت تک محدود؛ سہیل آفریدی سمیت دیگر رہنماؤں کی ترجیحات پر سوالات، سکیورٹی چیلنجز پسِ پشت چلے گئے
خیبر پختونخوا میں سیاسی قیادت کی توجہ صرف ایک شخصیت تک محدود؛ سہیل آفریدی سمیت دیگر رہنماؤں کی ترجیحات پر سوالات، سکیورٹی چیلنجز پسِ پشت چلے گئے

خیبر پختونخوا کی بگڑتی صورتحال اور تحریکِ انصاف کی قیادت کا کردار۔ سہیل آفریدی اور دیگر رہنماؤں کی سیاسی سرگرمیوں کے سکیورٹی پر اثرات

February 25, 2026

خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور دہشت گردی کی حالیہ لہر نے صوبائی حکومت کی ترجیحات پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ صوبے کو اس وقت جس توجہ کی ضرورت ہے، وہ بدقسمتی سے ایک مخصوص سیاسی شخصیت کے گرد گھومنے والے بیانیے کی نذر ہو رہی ہے۔

حالیہ دنوں میں سہیل آفریدی سمیت تحریکِ انصاف کے مرکزی رہنماؤں اور صوبائی قیادت کی تمام تر توانائیاں صرف عمران خان کو دی جانے والی توجہ اور سیاسی محاذ آرائی تک محدود نظر آتی ہیں۔ یہ رجحان اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ صوبائی حکمران اور ان کے حامی اسٹریٹجک بنیادوں پر سوچنے کے بجائے جذباتی وابستگیوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔ جب ریاست کو دہشت گردی کے خلاف ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننا چاہیے، اس وقت قیادت کی تمام تر تگ و دو سیاسی بقا اور احتجاجی سیاست کے گرد مرکوز ہے۔

سکیورٹی ماہرین کے مطابق خیبر پختونخوا کی سرحدوں پر بڑھتے ہوئے خطرات اور پولیس اہلکاروں پر ہونے والے حملے اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ صوبائی انتظامیہ اپنی تمام تر توجہ انسدادِ دہشت گردی کی صلاحیت بڑھانے پر صرف کرے۔ تاہم سہیل آفریدی اور دیگر رہنماؤں کے حالیہ بیانات اور سرگرمیوں سے یہ تاثر ملتا ہے کہ صوبائی مفادات اور عوامی تحفظ کے مقابلے میں سیاسی بیانیہ کہیں زیادہ اہم ہے۔

یہ صورتحال پاکستان کے دشمنوں کے لیے سازگار ماحول پیدا کر رہی ہے جو سیاسی تقسیم کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ خیبر پختونخوا کی قیادت شخصیت پرستی کے سحر سے نکل کر صوبے کی سکیورٹی، پولیس کی فلاح و بہبود اور انٹیلی جنس معاونت جیسے بنیادی مسائل پر توجہ دے۔ اگر اب بھی اسٹریٹجک سوچ کو ترجیح نہ دی گئی تو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حاصل کردہ کامیابیاں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

دیکھیے: سہیل آفریدی کے “عمران خان رہائی فورس” کے قیام کے اعلان نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی

متعلقہ مضامین

سوال یہ ہے کہ ایسی کسی ناگہانی صورت میں کیا ایرانی رجیم امت مسلمہ کی ناراضگی مول لینے کی متحمل ہو سکے گی؟ جبکہ وہ اپنی معاندانہ پالیسیوں کی بدولت پہلے ہی مسلم دنیا میں ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے ۔ اس کے باوجود اگر ایرانی رجیم ایسی حماقت کرتی ہے ۔ تو ایسی صورت میں مسلمان اور نصاریٰ کا اتحاد ایرانی رجیم کے بستر گول کرنے کا باعث بن سکتا ہے، جو شاید ایرانی رجیم کو منظور نہ ہو۔ ہو سکتا ہے کہ ایرانی رجیم اپنی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے امریکی اڈوں کووقتاََ فوقتاََ نشانہ تو بنائے ، لیکن احتیاط کے ساتھ۔ تاکہ ان حملوں سے کوئی مسلمان شہید نہ ہو۔

February 25, 2026

ایمنیسٹی انٹرنیشنل کی ریجنل ڈائریکٹر سمرتی سنگھ کے بھارتی خفیہ ایجنسیوں سے روابط بے نقاب؛ عالمی ادارے کا پلیٹ فارم پاکستان کے خلاف منظم پراپیگنڈے کے لیے استعمال ہونے کا انکشاف

February 25, 2026

پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ونگ کا اخلاقی بحران؛ محترمہ نورین اور صدف کے لیے ہمدردی مگر مخالفین کے لیے تضحیک، سیاسی وابستگی کی بنیاد پر بدلتے ہوئے انسانی معیارات

February 25, 2026

ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی موجود تھے، جسے اعلیٰ سطحی قومی ہم آہنگی اور مشترکہ حکمتِ عملی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

February 25, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *