انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ‘ایمنیسٹی انٹرنیشنل’ کے جنوبی ایشیا کے دفتر کے حوالے سے سنگین انکشافات سامنے آئے ہیں، جن میں تنظیم کی غیر جانبداری اور اس کے بھارتی ریاستی مفادات سے جڑے ہونے پر شدید سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ مستند ذرائع کے مطابق ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے جنوبی ایشیا کے بیانیے کو بھارتی اسٹیبلشمنٹ اور انٹیلی جنس اداروں کے زیرِ اثر لانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
اس تناظر میں علاقائی ڈائریکٹر سمرتی سنگھ کا کردار خاص طور پر زیرِ بحث ہے۔ انکشاف ہوا ہے کہ سمرتی سنگھ ماضی میں بھارتی میڈیا ہاؤس ‘ٹائمز آف انڈیا’ سے وابستہ رہی ہیں، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بھارتی خفیہ ایجنسی را کے فنڈز اور اثر و رسوخ کے تحت کام کرتا ہے۔ مزید برآں سمرتی سنگھ کے بھارتی وزارتِ دفاع کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ساتھ قریبی روابط اور مودی سرکار کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لیے مسلسل جواز پیش کرنے کے عمل نے ان کی پیشہ ورانہ ساکھ کو مشکوک بنا دیا ہے۔
بیانیے کے مطابق ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے جنوبی ایشیا کے دفتر کا زیادہ تر عملہ بھارت میں مقیم ہے، جو براہِ راست بھارتی ایجنسیوں کے دباؤ یا ایما پر کام کر رہا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس ڈھانچے کا بنیادی مقصد بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کی آڑ لے کر پاکستانی ریاست کے خلاف ایک معاندانہ اور دشمنانہ ایجنڈا مرتب کرنا ہے۔ ایک ایسے شخص کی ایمنیسٹی جیسے ادارے میں کلیدی تعیناتی، جو مودی دورِ حکومت میں ہونے والے مظالم کی پردہ پوشی کرتا رہا ہو، عالمی ادارے کی غیر جانبداری پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیموں کا سیاسی مقاصد اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے آلہ کار کے طور پر استعمال ہونا عالمی سطح پر ان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔ پاکستان کی جانب سے اس معاملے پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ کس طرح ایک عالمی پلیٹ فارم کو مخصوص علاقائی مفادات اور پاکستان کے خلاف پراپیگنڈا کے لیے استعمال کرنے کی راہ ہموار کی گئی ہے۔
دیکھیے: کونن پوشپورہ: 1991 کی وہ رات جو آج بھی کشمیری خواتین کے دل دہلا دیتی ہے