بابِ خیبر کے قریب ایک قبائلی بزرگ کی وائرل ویڈیو نے سابق خیبر پختونخوا حکومت اور سہیل آفریدی کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ویڈیو میں بزرگ سابق حکمرانوں اور پی ٹی آئی کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔
قبائلی بزرگ کے مطابق پی ٹی آئی حکومت نے بی آر ٹی، طورخم بارڈر کھولنے اور اسپتالوں کی تعمیر جیسے بڑے وعدے کیے تھے، لیکن عملدرآمد کے نام پر کچھ حاصل نہیں ہوا۔ عوام ان ناکامیوں اور وعدہ خلافیوں کے باعث حکومت کے خاتمے پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کر رہے ہیں۔
بزرگ کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعلیٰ اور پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت نے قبائل کے لیے عملی طور پر کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئی حکومت ان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے گی اور علاقے کی محرومیاں دور کرے گی۔
دوسری جانب صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد عوام کا سڑکوں پر نہ نکلنا اور کوئی بڑا احتجاج نہ ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عوام پی ٹی آئی کی سیاست سے مکمل طور پر لاتعلق ہو چکے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں اور وفاقی حامی حلقوں کے مطابق عوام کا یہ رویہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ پی ٹی آئی اور سہیل آفریدی کی قیادت کے بیانیے کو رد کر چکے ہیں۔ عوام نے فساد اور تصادم کی بجائے استحکام اور ریاست کے ساتھ کھڑے ہونے کو ترجیح دی ہے۔
اس صورتحال میں “ریاست ماں ہے” کا بیانیہ عوامی مقبولیت حاصل کر رہا ہے۔ عوام اب یہ اچھی طرح سمجھ چکے ہیں کہ پی ٹی آئی اپنی تمام تر ناکامیوں کو وفاق کے سر تھوپ کر اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرتی رہی اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتی رہی۔
صوبے بھر میں کسی بڑے عوامی احتجاج کا نہ ہونا اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ غیرت مند عوام نے پی ٹی آئی کی بدنسلی اور تصادم پر مبنی سیاست کو لگام دے دی ہے۔ عوام نے وفاق اور ریاست کا ساتھ دے کر ثابت کر دیا ہے کہ ریاست کے ساتھ ان کا رشتہ مضبوط ہے۔
قبائلی علاقوں سے لے کر صوبے کے دیگر حصوں تک، پی ٹی آئی اور سہیل آفریدی کے خلاف واضح عوامی ردعمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔ عوام اب کھوکھلے وعدوں کی بجائے حقیقی ترقی، بنیادی سہولیات اور پائیدار امن کے خواصہ ہیں۔





