پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے لانگ مارچ نے خیبر پختونخوا کے پورے حکومتی نظام کو یرغمال بنا لیا ہے۔ صوبائی حکومت عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے احتجاجی سیاست کی نذر ہو چکی ہے۔
وزیراعلیٰ کی دارالحکومت میں عدم موجودگی کے باعث روزمرہ کے اہم انتظامی امور اور پالیسی فیصلے مکمل طور پر تعطل کا شکار ہیں۔
کابینہ اجلاس ملتوی
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ اور وزرا کی لانگ مارچ میں مصروفیات کے باعث صوبائی کابینہ کا اہم اجلاس منعقد نہ ہو سکا۔ کابینہ کے سامنے پیش ہونے والی درجنوں ہنگامی سمریاں اور فائلیں التوا میں پڑی ہیں۔
وزراء، مشیروں اور معاونینِ خصوصی کی دفاتر سے مسلسل غیر حاضری کی وجہ سے اہم وزارتی کمیٹیوں کے اجلاس بھی منسوخ کر دیے گئے ہیں۔
سیاست غالب
حکومتی غفلت کے باعث محکمہ پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ (P&D) اور پی ڈبلیو پی کے اجلاس بھی نہ ہو سکے۔ اعلیٰ حکام کی عدم دستیابی کی وجہ سے صوبے کے متعدد اہم ترقیاتی منصوبوں کی منظوری رک چکی ہے۔
صوبے کے فنڈز اور منصوبے منجمد ہیں، لیکن صوبائی قیادت عوامی ریلیف کے بجائے مارچ کے روٹ بدلنے اور سیاسی محاذ آرائی میں مصروف ہے۔
عوام کی شدید تنقید
عوامی و سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ صوبائی وسائل اور حکومت کو پارٹی مفادات کے لیے قربان کر دیا گیا ہے۔ صوبے کے عوام لاوارث چھوڑ دیے گئے ہیں جبکہ پوری حکومتی مشینری اسلام آباد پر چڑھائی کی تیاریوں میں لگی ہے۔
انتظامی بحران نے یہ واضح کر دیا ہے کہ پی ٹی آئی قیادت کے نزدیک عوام کی فلاح و بہبود کے بجائے صرف ذاتی و سیاسی ایجنڈا ترجیح رکھتا ہے۔