خیبرپختونخوا ایک بار پھر شدید بدامنی، دہشتگردی اور خونریزی کی لپیٹ میں ہے، مگر صوبے کی سیاسی قیادت عملی طور پر منظر سے غائب دکھائی دیتی ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے مسلسل بیرونِ صوبہ دوروں کے دوران صوبہ عملی طور پر حکومتی خلا کا شکار ہو چکا ہے، جہاں نہ عوام محفوظ ہیں، نہ پولیس، اور نہ ہی ریاستی رٹ قائم دکھائی دیتی ہے۔
بنوں حملہ
گزشتہ دنوں ضلع بنوں میں نامعلوم مسلح افراد نے دن دہاڑے فائرنگ کر کے امن کمیٹی کے چار ارکان کو قتل کر دیا۔ یہ واقعہ نہ صرف سیکیورٹی ناکامی کا کھلا ثبوت ہے بلکہ اس بات کی علامت بھی ہے کہ صوبے میں دہشتگرد عناصر بلا خوف و خطر دندناتے پھر رہے ہیں۔ پولیس نے حسبِ روایت سرچ آپریشن شروع کرنے کا اعلان تو کیا، مگر زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ دہشتگردی کا گراف مسلسل اوپر جا رہا ہے۔
ٹانک دھماکہ
صورتحال اس سے بھی زیادہ سنگین اس وقت ہو گئی جب ضلع ٹانک میں روڈ سائیڈ بم دھماکے کے نتیجے میں چھ پولیس اہلکار شہید ہو گئے، جن میں ایک مقامی پولیس چیف بھی شامل تھا۔ یہ حملہ پولیس فورس کے حوصلے پر کاری ضرب اور صوبائی حکومت کے سیکیورٹی دعوؤں پر زوردار سوالیہ نشان ہے۔ محض مذمتی بیانات اور رسمی ہدایات ایک بار پھر عوام اور شہداء کے لواحقین کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ثابت ہو رہے ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق سرحدی اضلاع میں کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر مسلح گروہوں کی سرگرمیاں خطرناک حد تک بڑھ چکی ہیں، مگر صوبائی حکومت کی جانب سے نہ کوئی واضح حکمتِ عملی سامنے آ رہی ہے اور نہ ہی قیادت میدان میں نظر آتی ہے۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بغیر وسائل اور سیاسی پشت پناہی کے فرنٹ لائن پر لڑنے پر مجبور ہیں۔
اپوزیشن کا سخت ردعمل
دوسری جانب جےیوآئی نے صوبے میں حکومت کی عملی غیر موجودگی کو سنگین قومی مسئلہ قرار دے دیا ہے۔ جےیوآئی ترجمان عبدالجلیل جان کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں حکومت صرف کاغذوں میں موجود ہے، وزیراعلیٰ کے سیاسی دوروں اور بیانات سے عوام کا تحفظ ممکن نہیں، جبکہ صوبہ آہستہ آہستہ ایک بار پھر دہشتگردی کے اندھیروں میں دھکیلا جا رہا ہے۔اگر فوری طور پر قیادت میدان میں نہ اتری، فیصلہ کن اقدامات نہ کیے گئے اور سیکیورٹی اداروں کو مکمل اختیار نہ دیا گیا تو خیبرپختونخوا کی صورتحال ہاتھ سے نکل سکتی ہے، جس کی ذمہ داری براہِ راست صوبائی حکومت پر عائد ہو گی۔
سینئیر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ وقت محض بیانات، دوروں اور اجلاسوں کا نہیں بلکہ فیصلہ کن قیادت، سخت فیصلوں اور عملی اقدامات کا ہے، ورنہ اس بدامنی کی قیمت عوام، پولیس اور پورا صوبہ ادا کرتا رہے گا اور خیبرپختونخوا ایک بار پھر ماضی کے تاریک دور کی طرف دھکیلا جا سکتا ہے
دیکھیں: خیبر پختونخوا میں بدامنی کی لہر: بنوں میں فائرنگ سے امن کمیٹی کے 4 ارکان جاں بحق