افغانستان میں القاعدہ برصغیر (اے کیو آئی ایس) نے طالبان کی معاونت سے اپنے تربیتی کیمپوں اور تنظیمی ڈھانچے کو وسعت دے دی ہے، جس میں خطرناک ترین غیر ملکی دہشت گردوں کی واپسی اور مختلف عسکری گروہوں کے مابین مضبوط روابط سامنے آئے ہیں

February 14, 2026

پلوامہ واقعہ مودی سرکار کے ہندوتوا ایجنڈے اور 2019 کے انتخابات میں سیاسی برتری حاصل کرنے کا ایک مہرہ ثابت ہوا۔ بھارت نے اس واقعے کو بنیاد بنا کر مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت اور آرٹیکل 35-اے پر شب خون مارا، جس کا مقصد وادی کے مسلم اکثریتی تشخص کو ختم کر کے اسے وفاق میں ضم کرنا اور جنوبی ایشیا کے اسٹریٹجک توازن کو بگاڑنا تھا

February 14, 2026

حماس کے ترجمان ڈاکٹر خالد قدومی نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فلسطین کاز کے لیے پاکستان کی سفارتی و اخلاقی حمایت پر اطمینان کا اظہار کیا ہے

February 14, 2026

باچا خان یونیورسٹی انتظامیہ نے بھارتی ترانہ گانے اور نعرہ بازی کرنے پر فارمیسی ڈیپارٹمنٹ کے چار طلبہ کا یونیورسٹی سے اخراج کر دیا ہے

February 14, 2026

بدخشاں میں طالبان کے بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز پر دستی بموں سے حملے میں دو اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا، جبکہ حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب رہے

February 14, 2026

بھارتی شہری نکھل گپتا نے نیویارک میں سکھ رہنماء گورپت ونت سنگھ پنون کے قتل کی ناکام سازش میں ملوث ہونے کا اعتراف کر لیا ہے

February 14, 2026

خیبرپختونخوا بدامنی کی لپیٹ میں، دہشتگرد بے لگام؛ وزیراعلیٰ کے صوبے سے باہر دورے

خیبرپختونخوا بدامنی کی لپیٹ میں، دہشتگرد بے لگام؛ وزیراعلیٰ کے صوبے سے باہر دورے

سینئیر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ وقت محض بیانات، دوروں اور اجلاسوں کا نہیں بلکہ فیصلہ کن قیادت، سخت فیصلوں اور عملی اقدامات کا ہے، ورنہ اس بدامنی کی قیمت عوام، پولیس اور پورا صوبہ ادا کرتا رہے گا اور خیبرپختونخوا ایک بار پھر ماضی کے تاریک دور کی طرف دھکیلا جا سکتا ہے

January 14, 2026

خیبرپختونخوا ایک بار پھر شدید بدامنی، دہشتگردی اور خونریزی کی لپیٹ میں ہے، مگر صوبے کی سیاسی قیادت عملی طور پر منظر سے غائب دکھائی دیتی ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے مسلسل بیرونِ صوبہ دوروں کے دوران صوبہ عملی طور پر حکومتی خلا کا شکار ہو چکا ہے، جہاں نہ عوام محفوظ ہیں، نہ پولیس، اور نہ ہی ریاستی رٹ قائم دکھائی دیتی ہے۔

بنوں حملہ


گزشتہ دنوں ضلع بنوں میں نامعلوم مسلح افراد نے دن دہاڑے فائرنگ کر کے امن کمیٹی کے چار ارکان کو قتل کر دیا۔ یہ واقعہ نہ صرف سیکیورٹی ناکامی کا کھلا ثبوت ہے بلکہ اس بات کی علامت بھی ہے کہ صوبے میں دہشتگرد عناصر بلا خوف و خطر دندناتے پھر رہے ہیں۔ پولیس نے حسبِ روایت سرچ آپریشن شروع کرنے کا اعلان تو کیا، مگر زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ دہشتگردی کا گراف مسلسل اوپر جا رہا ہے۔

ٹانک دھماکہ


صورتحال اس سے بھی زیادہ سنگین اس وقت ہو گئی جب ضلع ٹانک میں روڈ سائیڈ بم دھماکے کے نتیجے میں چھ پولیس اہلکار شہید ہو گئے، جن میں ایک مقامی پولیس چیف بھی شامل تھا۔ یہ حملہ پولیس فورس کے حوصلے پر کاری ضرب اور صوبائی حکومت کے سیکیورٹی دعوؤں پر زوردار سوالیہ نشان ہے۔ محض مذمتی بیانات اور رسمی ہدایات ایک بار پھر عوام اور شہداء کے لواحقین کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ثابت ہو رہے ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق سرحدی اضلاع میں کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر مسلح گروہوں کی سرگرمیاں خطرناک حد تک بڑھ چکی ہیں، مگر صوبائی حکومت کی جانب سے نہ کوئی واضح حکمتِ عملی سامنے آ رہی ہے اور نہ ہی قیادت میدان میں نظر آتی ہے۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بغیر وسائل اور سیاسی پشت پناہی کے فرنٹ لائن پر لڑنے پر مجبور ہیں۔

اپوزیشن کا سخت ردعمل


دوسری جانب جےیوآئی نے صوبے میں حکومت کی عملی غیر موجودگی کو سنگین قومی مسئلہ قرار دے دیا ہے۔ جےیوآئی ترجمان عبدالجلیل جان کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں حکومت صرف کاغذوں میں موجود ہے، وزیراعلیٰ کے سیاسی دوروں اور بیانات سے عوام کا تحفظ ممکن نہیں، جبکہ صوبہ آہستہ آہستہ ایک بار پھر دہشتگردی کے اندھیروں میں دھکیلا جا رہا ہے۔اگر فوری طور پر قیادت میدان میں نہ اتری، فیصلہ کن اقدامات نہ کیے گئے اور سیکیورٹی اداروں کو مکمل اختیار نہ دیا گیا تو خیبرپختونخوا کی صورتحال ہاتھ سے نکل سکتی ہے، جس کی ذمہ داری براہِ راست صوبائی حکومت پر عائد ہو گی۔

سینئیر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ وقت محض بیانات، دوروں اور اجلاسوں کا نہیں بلکہ فیصلہ کن قیادت، سخت فیصلوں اور عملی اقدامات کا ہے، ورنہ اس بدامنی کی قیمت عوام، پولیس اور پورا صوبہ ادا کرتا رہے گا اور خیبرپختونخوا ایک بار پھر ماضی کے تاریک دور کی طرف دھکیلا جا سکتا ہے

دیکھیں: خیبر پختونخوا میں بدامنی کی لہر: بنوں میں فائرنگ سے امن کمیٹی کے 4 ارکان جاں بحق

متعلقہ مضامین

افغانستان میں القاعدہ برصغیر (اے کیو آئی ایس) نے طالبان کی معاونت سے اپنے تربیتی کیمپوں اور تنظیمی ڈھانچے کو وسعت دے دی ہے، جس میں خطرناک ترین غیر ملکی دہشت گردوں کی واپسی اور مختلف عسکری گروہوں کے مابین مضبوط روابط سامنے آئے ہیں

February 14, 2026

پلوامہ واقعہ مودی سرکار کے ہندوتوا ایجنڈے اور 2019 کے انتخابات میں سیاسی برتری حاصل کرنے کا ایک مہرہ ثابت ہوا۔ بھارت نے اس واقعے کو بنیاد بنا کر مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت اور آرٹیکل 35-اے پر شب خون مارا، جس کا مقصد وادی کے مسلم اکثریتی تشخص کو ختم کر کے اسے وفاق میں ضم کرنا اور جنوبی ایشیا کے اسٹریٹجک توازن کو بگاڑنا تھا

February 14, 2026

حماس کے ترجمان ڈاکٹر خالد قدومی نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فلسطین کاز کے لیے پاکستان کی سفارتی و اخلاقی حمایت پر اطمینان کا اظہار کیا ہے

February 14, 2026

باچا خان یونیورسٹی انتظامیہ نے بھارتی ترانہ گانے اور نعرہ بازی کرنے پر فارمیسی ڈیپارٹمنٹ کے چار طلبہ کا یونیورسٹی سے اخراج کر دیا ہے

February 14, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *