"> کرغزستان نے افغان مارکیٹ تک تجارتی رسائی میں اضافہ کر دیا - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

کرغزستان نے افغان مارکیٹ تک تجارتی رسائی میں اضافہ کر دیا

کرغزستان اور افغانستان کے درمیان اقتصادی تعاون میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ 16 دسمبر کو کابل میں کرغزستان کے تجارتی مرکز کے افتتاح کے ساتھ دونوں ممالک نے اپنے تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا
کرغزستان اور افغانستان کے درمیان اقتصادی تعاون میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ 16 دسمبر کو کابل میں کرغزستان کے تجارتی مرکز کے افتتاح کے ساتھ دونوں ممالک نے اپنے تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا

اس اقدام کے ذریعے کرغزستان نے افغان مارکیٹ تک اپنی رسائی میں مزید اضافہ کیا ہے

December 19, 2025

کرغزستان اور افغانستان کے درمیان اقتصادی تعاون میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ 16 دسمبر کو کابل میں کرغزستان کے تجارتی مرکز کے افتتاح کے ساتھ دونوں ممالک نے تجارتی تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کا فیصلہ کیا۔

تاریخی افتتاح
اس اہم موقع پر کرغزستان کے وزیر معیشت و تجارت باکت صدیقوف اور افغانستان کے وزیر صنعت و تجارت نورالدین عزیزی موجود تھے۔ نئے قائم کردہ تجارتی مرکز کا بنیادی مقصد کرغز برآمدات کو فروغ دینا اور دونوں ممالک کے تاجروں کے درمیان براہ راست روابط استوار کرنا ہے۔

کانفرنس کا انعقاد
سترہ دسمبر کو کابل میں منعقدہ کرغز-افغان کاروباری کانفرنس میں وزیر عزیزی نے اعلان کیا کہ افغانستان بھی جلد بشکیک میں اپنا تجارتی مرکز قائم کرے گا۔ انہوں نے کرغزستان کو وسطی ایشیا اور یوریشین اکنامک یونین تک رسائی کا دروازہ قرار دیتے ہوئے افغانستان کو جنوبی اور مغربی ایشیا کے لیے اسٹریٹجک مرکز بتایا۔

بڑے تجارتی معاہدے
کانفرنس کے اختتام پر دونوں ممالک کی کمپنیوں کے درمیان 157 ملین ڈالر مالیت کے تجارتی معاہدے طے پائے۔ یہ پیشرفت اس وقت ممکن ہوئی جب کرغزستان نے ستمبر 2024 میں طالبان کو ممنوعہ تنظیموں کی فہرست سے خارج کیا تھا۔

تجارتی حجم میں اضافہ
افغان وزارت صنعت و تجارت کے اعداد و شمار کے مطابق، حالیہ شمسی سال (مارچ 2024 تا مارچ 2025) میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم 66 ملین ڈالر رہا، جس میں افغان برآمدات 7 ملین ڈالر تھیں۔ افغانستان کی اہم برآمدات میں ایلومینیم اور تانبے کے برتن، پریشر ککر، قالین، پھل اور سبزیاں شامل ہیں۔

دیکھیں: معیشت ڈنڈے کے زور پر نہیں بلکہ مثبت پالیسیوں کے ذریعے مضبوط ہو رہی ہے: وفاقی وزیرِ خزانہ

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *