کرغزستان کی حکومت نے تاجکستان کے ساتھ سرحدی حد بندی اور حد بندی کے معاہدے کے تحت حاصل ہونے والی اراضی اور منقولہ و غیر منقولہ جائیدادوں کو باقاعدہ طور پر ریاستی ملکیت میں منتقل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔کابینہ کے فیصلے کے مطابق اسٹیٹ ایجنسی فار اسٹیٹ پراپرٹی مینجمنٹ ان تمام اثاثوں کو اپنے بیلنس شیٹ پر رجسٹر کرنے کی پابند ہوگی، جس کے بعد یہ جائیدادیں بٹکین ریجن کے اضلاع بٹکین اور لیلیک کی مقامی انتظامیہ کے حوالے کر دی جائیں گی۔
متاثرین کی آباد کاری
حکومتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ضلعی حکام ان جائیدادوں اور اراضی کو ان شہریوں میں تقسیم کریں گے جو سرحدی معاہدے کے نتیجے میں اپنے گھروں یا اثاثوں سے محروم ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ ان افراد کو بھی ترجیح دی جائے گی جن کی املاک سرحدی انفراسٹرکچر کی تعمیر کے دوران مسمار کر دی گئی تھیں۔
ترقیاتی منصوبوں کی تیاری
حکومت نے اسٹیٹ ایجنسی برائے لینڈ ریسورسز اور کیڈسٹری کو ہدایت کی ہے کہ وہ علاقے میں اراضی کے پلاٹوں کی فہرست مرتب کرے، جبکہ وزارتِ تعمیرات کو منتقل شدہ علاقوں میں نئی بستیوں کے لیے ماسٹر پلان تیار کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حد بندی کے عمل کے دوران جیسے جیسے سرحد کی لکیر واضح ہوتی جائے گی، جائیدادوں کی فہرست میں تبدیلی بھی کی جا سکتی ہے۔
واضح رہے کہ یہ سرحدی معاہدہ کرغز صدر صدر جباروف اور تاجک صدر امام علی رحمان کے درمیان مذاکرات کے بعد طے پایا تھا، جسے دونوں ملکوں کی پارلیمان نے بھی منظور کر لیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت فریقین نے متنازع علاقوں سمیت مختلف حصوں کا تبادلہ کیا ہے تاکہ خطے میں دیرپا امن قائم ہو سکے اور مستقبل میں سرحدی تنازعات کا راستہ روکا جا سکے۔