اسلام آباد میں گولڈ میڈلسٹ طالبہ لائبہ اعجاز کی ہلاکت کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ملزم نعمان سے 21 لاکھ روپے برآمد کر لیے گئے ہیں۔ ایف آئی اے ذرائع کے مطابق ملزم کا ریکارڈ متعلقہ اداروں سے حاصل کیا جا رہا ہے، جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ نعمان مانسہرہ میں فراڈ کے ایک مقدمے میں اشتہاری ہے۔
ذرائع کے مطابق ریکوری مکمل ہونے کے بعد ملزم کو مانسہرہ پولیس کے حوالے کیا جائے گا۔ دوسری جانب اسلام آباد کے محکمہ ایکسائز میں ملزم کا ریکارڈ موجود نہ ہونے کی اطلاع بھی سامنے آئی ہے۔
تعلیم کے نام پر فراڈ
لائبہ اعجاز بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے فزکس میں بی ایس کی ڈگری حاصل کر چکی تھیں۔ اہل خانہ کے مطابق وہ مزید تعلیم کے لیے امریکہ جانا چاہتی تھیں۔ اسی دوران انہیں ہارورڈ یونیورسٹی میں داخلے اور اسکالرشپ دلوانے کا جھانسہ دیا گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اہل خانہ نے الزام لگایا کہ ملزم نے بیرون ملک تعلیم اور ویزے کے انتظام کے نام پر لائبہ سے بڑی رقم وصول کی۔ انہیں داخلے اور اسکالرشپ سے متعلق دستاویزات بھی دی گئیں، تاہم بعد میں یہ دستاویزات مبینہ طور پر جعلی نکلیں۔
اہل خانہ کے مطابق لائبہ کے والد نے ان کی تعلیم کے اخراجات پورے کرنے کے لیے ایک پلاٹ فروخت کیا تھا۔ اس رقم میں سے 21 لاکھ روپے ملزم کو دیے گئے۔ خاندان نے یہ الزام بھی لگایا کہ لائبہ کی سوتیلی والدہ کے زیورات بھی اس معاملے میں دیے گئے تھے۔
ملزم پر فراڈ کے الزامات
پولیس ذرائع کے مطابق نعمان مانسہرہ میں فراڈ کے ایک مقدمے میں اشتہاری ہے۔ ایف آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم کا ریکارڈ مختلف متعلقہ اداروں سے حاصل کیا جا رہا ہے، جبکہ اسلام آباد کے محکمہ ایکسائز میں اس کا ریکارڈ موجود نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق 21 لاکھ روپے کی ریکوری کے بعد ملزم کو مانسہرہ پولیس کے حوالے کیا جائے گا۔ اس کے خلاف مختلف الزامات کی تحقیقات جاری ہیں۔
لائبہ کیس ایف آئی آر
طالبہ لائبہ کی ہلاکت کے معاملے میں پہلے بند کی گئی ایف آئی آر بھی دوبارہ کھول دی گئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مقدمہ لائبہ کے والد کی مدعیت میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 322 اور 34 کے تحت درج کیا گیا ہے۔
لائبہ کی ہلاکت کے معاملے نے بیرون ملک تعلیم اور اسکالرشپ دلوانے کے نام پر ہونے والے مبینہ فراڈ کے حوالے سے کئی سوالات اٹھائے ہیں۔ مقدمے میں نامزد ملزمان کے خلاف الزامات کی قانونی حیثیت کا تعین تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے بعد ہوگا۔





