سن 2009 میں ضلع مہمند کے علاقے لکڑو میں گورنمنٹ ڈگری کالج کی عمارت پر حملہ ہوا۔ نامعلوم افراد نے اسے شدید نقصان پہنچایا اور کالج کو عارضی طور پر غلنئی کے کامرس کالج منتقل کر دیا گیا۔ اُس وقت کسی نے نہیں سوچا تھا کہ عارضی کا لفظ برسوں پر پھیل جائے گا۔ آج سترہ سال گزر جانے کے باوجود لکڑو کی عمارت مکمل نہیں ہو سکی ہے۔
اس المیے کا نقصان صرف اینٹ اور سیمنٹ کا نہیں تھا۔ اپر مہمند کی چاروں تحصیلوں کے تقریباً تین لاکھ لوگوں کے لیے یہ اعلیٰ تعلیم کا سب سے قریبی اور واحد ذریعہ تھا۔ کالج دور ہوا تو بہت سے طلبہ کے لیے روزانہ کا سفر مشکل ہو گیا، اور کئی خاندانوں کے لیے، خاص طور پر بیٹیوں کے معاملے میں، یہ ناممکن ہو گیا۔ ایسے بے شمار بچے انٹرمیڈیٹ کے بعد خاموشی سے تعلیم چھوڑ دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جن کا ریکارڈ تک کہیں نہیں بن پاتا۔
یہ وہ گھاؤ تھا جس کی تلافی کا وعدہ 2013 میں اقتدار میں آنے والی جماعت نے کیا تھا۔ تعلیمی ایمرجنسی پاکستان تحریک انصاف کے بنیادی اور گونجتے ہوئے نعروں میں شامل تھی، اور حقیقت یہ ہے کہ تعلیم سے بڑھ کر کوئی قومی ترجیح ہو بھی نہیں سکتی۔ سڑکیں اور پل اپنی جگہ بے حد ضروری ہیں، مگر ریاست کو چلانے والے اصل ذہن کلاس رومز میں بنتے ہیں۔ خاص طور پر ان علاقوں میں جو دہائیوں سے بدامنی اور پسماندگی کی چکی میں پس رہے ہوں، تعلیم ہی ان کا واحد سہارا ہوتی ہے۔
مگر لکڑو کی زمینی حقیقت نے یہ ثابت کیا کہ ترجیحات کچھ اور ہی تھیں۔ عوام کے مطابق حکومت کی توانائیاں احتجاجی سیاست، اقتدار کی کشمکش اور محاذ آرائی میں ہی صرف ہوتی رہیں، اور ایک دور افتادہ ضلع کے اس کالج کی فائل میزوں کی گرد تلے دب کر ترجیحات میں بہت نیچے چلی گئی۔
مقامی لوگوں کے مطابق تعمیراتی منصوبے کاغذوں میں تو کئی کئی بار شروع ہوئے، مگر زمین پر عمارت آج بھی ادھوری اور خستہ حال کھڑی ہے۔ بچے آج بھی اسی شکستہ عمارت کے سائے میں پڑھنے پر مجبور ہیں جہاں نہ لیبارٹری موجود ہے، نہ لائبریری اور نہ ہی محفوظ کلاس رومز۔ یہ بات سمجھنا مشکل نہیں کہ لیبارٹری کے بغیر سائنس کا طالب علم صرف کتاب کے صفحات رٹ سکتا ہے، کچھ نیا سیکھ نہیں سکتا۔
اگر تیرہ سال کی مسلسل حکمرانی میں ایک تباہ شدہ کالج دوبارہ اپنی اصل حالت میں کھڑا نہ ہو سکے، تو پھر لکڑو کے اس واقعے کو کوئی اکیلا المیہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ یہ دراصل ایک بہت بڑے انتظامی خلاء اور غفلت کی علامت ہے۔ ضم شدہ اضلاع کو ترقی کی راہ پر ڈالنے اور انہیں ملک کے مین اسٹریم میں لانے کے بڑے بڑے دعوے برسوں سے سنائے جا رہے تھے، مگر زمینی حقائق اور بلند و بانگ اعلانات کے درمیان فاصلہ دن بدن بڑھتا چلا گیا۔ اسی بڑھتے ہوئے فاصلے نے عوام کے دلوں میں ریاست اور حکومت کا اعتماد آہستہ آہستہ کمزور کر دیا۔۔۔۔ اور ٹوٹا ہوا اعتماد کبھی خالی نعروں سے واپس نہیں آتا۔
یہی گہرا انتظامی کمزوری کا عنصر امن و امان کے محاذ پر زیادہ خوفناک اور سنگین شکل اختیار کر گیا۔ دہشت گردی نے صوبے کے کئی حصوں، بالخصوص سابق قبائلی اضلاع کو ایک بار پھر اپنی لپیٹ میں لینا شروع کیا۔ وفاقی حکومت کا مؤقف تھا کہ حالیہ عرصے میں صوبے میں بدامنی میں اضافہ ہوا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوانوں کی شہادتیں بڑھیں۔
یہ حقیقت اپنی جگہ درست ہے کہ امن و امان صرف صوبائی حکومت کی اکیلے کی ذمہ داری نہیں، اس میں وفاق اور تمام ریاستی اداروں کا کردار بھی بنیادی ہوتا ہے۔ مگر دوسری طرف دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائیوں میں صوبائی حکومت کی طرف سے مطلوبہ تعاون نہیں ملا اور انتظامی معاملات میں سنجیدگی کا فقدان رہا۔ عام آدمی یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ جو حکومت اپنے بچوں کو تعلیم جیسی بنیادی سہولت بھی وقت پر مہیا نہ کر سکے، وہ عوام کی جان و مال کے تحفظ کے بڑے وعدے پر کیسے پورا اتر سکتی ہے؟
ایمرجنسی اور گورنر راج کا ناگزیر
اس تلخ پس منظر میں جب سیاسی کشیدگی عروج پر پہنچی، تو صورتِ حال مزید دھماکہ خیز ہو گئی۔ اسلام آباد کی طرف طویل مارچ اور وفاق سے محاذ آرائی کے ماحول میں جب ایک طرف بدامنی کی آگ پھیل رہی ہو، دوسری طرف گورنس کے سنگین سوالات منہ کھولے کھڑے ہوں، اور تیسری طرف مرکز اور صوبے کے درمیان اعتماد کا رشتہ بالکل ختم ہو چکا ہو، تو آئینی راستوں پر بحث ہونا وقت کا ناگزیر تقاضا بن جاتا ہے۔
وفاقی سطح پر یہ مؤقف اپنایا گیا کہ جب کسی صوبے میں گورننس بالکل فیل ہو جائے اور امن و امان کی ابتر صورتِ حال پر قابو نہ پایا جا سکے، تو آئین کے تحت ایمرجنسی یا گورنر راج جیسے سخت اقدامات کا راستہ موجود ہوتا ہے۔ ابتدا میں معاملات کو سلجھانے اور مشاورت کی باتیں ہوئیں، مگر بالآخر انہی سلگتے ہوئے حالات کے پیشِ نظر خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ عمل میں لایا گیا، جس کی بنیاد حکومتی حلقوں کی طرف سے تین بنیادی چیزوں پر رکھی گئی: کمزور انتظامی کارکردگی، بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور مستقل سیاسی محاذ آرائی۔
اصل امتحان
اسی لیے اصل امتحان اب شروع ہوتا ہے۔ جو بھی انتظامی ڈھانچہ صوبے کی باگ ڈور سنبھالے گا، اس کی کامیابی کا پیمانہ طویل بیانات ہرگز نہیں ہوں گے۔ اس کا اصل پیمانہ یہ ہوگا کہ آیا دہشت گردی کے اس ناسور پر قابو پایا جاتا ہے یا نہیں، اور کیا لکڑو جیسے برسوں سے رکے ہوئے تعلیمی منصوبے اپنی تکمیل کو پہنچتے ہیں یا نہیں۔
لکڑو کالج کے مطالبات کوئی پیچیدہ یا ناممکن نہیں ہیں: ایک مکمل، محفوظ اور فعال عمارت، جدید لیبارٹری، کتابوں سے بھری لائبریری، لائق اساتذہ، اور کام کی ایک واضح تاریخ جو عوام کے سامنے رکھی جائے۔
قومیں کبھی بھی خالی نعروں سے نہیں بنتی، وہ ہمیشہ کلاس رومز کی روشنی سے پروان چڑھتی ہیں۔ لکڑو کے معصوم بچے سترہ طویل سالوں سے اس اندھیرے میں انتظار کر چکے ہیں اور اب اس انتظار کی مزید کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔





