امریکی سیاسی کارکن لورا لومر کے ایک بیان کے بعد سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
لورا لومر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ ’’اسلاموفوبیا نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی، فوبیا غیر منطقی خوف کو کہا جاتا ہے جبکہ اسلام سے خوف غیر منطقی نہیں۔‘‘ ان کے اس بیان پر مختلف حلقوں کی جانب سے شدید تنقید سامنے آئی ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات اسلام کے بارے میں غلط فہمیوں اور تعصب کو فروغ دیتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق ایسے تبصرے مذہبی ہم آہنگی کے بجائے تقسیم کو بڑھا سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تاریخ کے مختلف ادوار میں مسلم تہذیبوں نے علم، طب، ریاضی اور فلکیات سمیت کئی شعبوں میں نمایاں کردار ادا کیا۔ بغداد اور قرطبہ جیسے شہر علم و تحقیق کے بڑے مراکز سمجھے جاتے تھے۔
ماہرین کے مطابق اس دور میں جب یورپ کے کئی خطے علمی جمود کا شکار تھے، مسلم دنیا میں لائبریریاں، تعلیمی مراکز اور شہری سہولیات موجود تھیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ مذہبی اور تاریخی معاملات پر بحث کرتے وقت ذمہ دارانہ گفتگو اور مستند معلومات کو بنیاد بنایا جانا چاہیے تاکہ غلط فہمیوں اور تعصبات سے بچا جا سکے۔
دیکھئیے:افغان طالبان پر دہشتگردی کے خلاف اقدامات نہ کرنے کا الزام، سوشل میڈیا پر مہم