"> مکہ دفاعی معاہدہ: پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب کا اجلاس آج ہوگا
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

مکہ دفاعی معاہدہ عملی مرحلے میں داخل، پہلا اجلاس آج استنبول میں ہوگا

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا پہلا اجلاس آج استنبول میں ہوگا۔
مکہ دفاعی معاہدہ: پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب کا اجلاس آج ہوگا

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کی اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا پہلا اجلاس آج استنبول میں ہوگا۔

August 31, 2026

ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم کی گئی اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا پہلا اجلاس آج، 31 اگست 2026 بروز پیر، استنبول میں منعقد ہو رہا ہے۔ یہ معاہدے پر دستخط کے تین ہفتے بعد ہونے والا پہلا افتتاحی اجلاس ہے۔

اجلاس کی میزبانی ترکیہ کر رہا ہے۔ اس میں تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور مسلح افواج کے سربراہان شریک ہیں۔ ترکیہ کی نمائندگی وزیر خارجہ حاقان فیدان، وزیر دفاع یاشار گیولر اور چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلچوق بائراکتار اولو کر رہے ہیں۔

پاکستان کی جانب سے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر شریک ہیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر اجلاس سے قبل ہی ترکیہ پہنچ چکے تھے۔

سعودی عرب کی نمائندگی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور چیف آف جنرل اسٹاف جنرل فیاض الرویلی کر رہے ہیں۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق ایجنڈے میں علاقائی سلامتی کا جائزہ سرِفہرست ہے۔ اس کے علاوہ دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے امکانات بھی زیرِ غور ہیں۔ مسلح افواج کے مابین باہمی ہم آہنگی بڑھانے اور مشترکہ فوجی مشقوں پر بھی تبادلہ خیال متوقع ہے۔ دفاعی صنعت میں مشترکہ پیداوار اور تحقیق و ترقی بھی ایجنڈے کا حصہ ہے۔

دہشت گردی کے خلاف تعاون بڑھانے پر بھی بات چیت ہوگی۔ اجلاس میں کمیٹی کے لیے سیکریٹریٹ قائم کرنے اور مستقبل کا روڈ میپ بنانے پر بھی غور کیا جائے گا۔

ترک وزارتِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ معاہدہ ایران یا کسی اور ملک کو ہدف نہیں بناتا۔ اس کا مقصد صرف خطے میں امن اور استحکام کو فروغ دینا ہے۔ یہ معاہدہ ان تمام ممالک کے لیے شمولیت کا دروازہ کھلا رکھتا ہے جو بین الاقوامی قوانین کا احترام کرتے ہیں۔

استنبول اجلاس کو معاہدے کو عملی شکل دینے کی جانب پہلا بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ اتحاد خطے کی سیاسی و عسکری صف بندی میں اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔

دیکھیے: پاکستان اور سعودی عرب کا اقتصادی و زرعی تعاون بڑھانے پر اتفاق

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *