واشنگٹن: ایران پر جنگ مسلط کیے جانے کے خلاف امریکا بھر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے، جن میں مبینہ طور پر 70 لاکھ افراد نے شرکت کی، جسے حالیہ تاریخ کے بڑے عوامی ردعمل میں شمار کیا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق “نو کنگز” کے عنوان سے ہونے والے ان مظاہروں میں شہریوں نے جنگ کے خاتمے اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا، جبکہ نیویارک سمیت بڑے شہروں میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔
نیویارک میں ہالی وڈ اداکار رابرٹ ڈی نیرو نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ کرپٹ قیادت کو اپنے مفادات کیلئے جنگیں مسلط کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
رپورٹس کے مطابق مظاہروں کا دائرہ مزید پھیل رہا ہے اور اتوار کے روز امریکا کی تمام 50 ریاستوں میں 3200 سے زائد احتجاجی مظاہرے متوقع ہیں، جنہیں منتظمین امریکی تاریخ کے بڑے ترین احتجاجی مظاہروں میں سے ایک قرار دے رہے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیل میں بھی ایران کے خلاف جنگ کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے دیکھنے میں آئے، جہاں تل ابیب سمیت مختلف شہروں میں شہریوں نے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی پالیسیوں کے خلاف نعرے لگائے۔ اسرائیلی پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے طاقت کا استعمال بھی کیا۔
عالمی سطح پر بھی اس جنگ کے خلاف ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں اٹلی، فرانس، اسپین، جرمنی، نیدرلینڈز اور آسٹریلیا میں “نو کنگز” کے تحت احتجاجی مظاہرے کیے گئے اور جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مظاہرے نہ صرف امریکا میں سیاسی دباؤ میں اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر جنگ کے خلاف بڑھتی ہوئی بے چینی کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔
دیکھئیے:امریکا ایران میں زیادہ تر فوجی مقاصد حاصل کر چکا ہے، جلد ایران سے نکل جائیں گے ؛ امریکی نائب صدر