جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے موجودہ حکومت کے خلاف فیصلہ کُن مٔوقف اختیار کر لیا ہے۔ اسلام آباد میں منعقدہ پریس کانفرنس میں، جس میں امیرِ جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن بھی شریک تھے، مولانا نے اعلان کیا کہ وہ حکومت کو مزید مہلت دینے کے حق میں نہیں کیونکہ ان کے بقول حکومت عالمی قوتوں کے مفادات کا تحفظ کر رہی ہے۔ انہوں نے عید الفطر کے فوری بعد ملک گیر عوامی مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ حکومتی پالیسیوں کے خلاف عوامی رائے عامہ کو منظم کیا جا سکے۔
قومی ذمہ داری
سیاسی مبصرین اس بیانیے کو ملکی صورتحال کے تناظر میں انتہائی حساس قرار دے رہے ہیں۔ اگرچہ جمہوری نظام میں احتجاج اور اختلافِ رائے ہر جماعت کا بنیادی حق ہے لیکن قومی مفاد ہمیشہ گروہی مفادات پر مقدم رہنا چاہیے۔ مولانا فضل الرحمان جیسی قد آور شخصیات سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ موجودہ ملکی حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اپنی حکمتِ عملی ترتیب دیں گے۔ اس وقت ملک کو انتشار کے بجائے ایسی سیاسی پختگی کی ضرورت ہے جو عوامی فلاح اور قومی یکجہتی کو فروغ دے سکے۔ سیاسی استحکام ہی وہ بنیاد ہے جس پر کسی بھی ریاست کی ترقی کی عمارت کھڑی ہوتی ہے اور اس مرحلے پر کوئی بھی غیر ذمہ دارانہ قدم ملکی مفادات کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
معاشی استحکام
پاکستان اس وقت ایک مشکل معاشی بحران سے نکلنے کی جدوجہد کر رہا ہے، جس میں حکومت اور ریاستی اداروں کی مربوط منصوبہ بندی نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ حالیہ مہینوں میں معیشت میں بہتری کے واضح آثار نظر آئے ہیں؛ غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ، اسٹاک مارکیٹ کی تیزی اور مہنگائی میں بتدریج کمی اس بات کی دلیل ہے کہ درست سمت میں اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ یہ معاشی استحکام ایک طویل محنت اور کٹھن فیصلوں کا نتیجہ ہے، جسے برقرار رکھنے کے لیے ملک میں پرسکون سیاسی ماحول اور استحکام کا ہونا ناگزیر ہے تاکہ ترقی کا یہ سفر متاثر نہ ہو۔ معاشی ماہرین کے مطابق سیاسی احتجاج کی صورت میں پیدا ہونے والا بحران بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کر سکتا ہے۔
سکیورٹی چیلنجز
خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سرحد پار، بالخصوص افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی کی حالیہ لہر نے سکیورٹی کی صورتحال کو سنگین بنا دیا ہے۔ جب دشمن سرحدوں پر گھات لگائے بیٹھا ہو، تو داخلی محاذ آرائی اور سخت بیانات قومی عزم کو کمزور کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔ پاکستان کے سکیورٹی ادارے سرحدوں پر دہشت گردی کا مقابلہ کر رہے ہیں اور ایسے نازک مرحلے پر کسی بھی قسم کا سیاسی انتشار ریاست کی ان کوششوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے جو امن و امان کی بحالی کے لیے کی جا رہی ہیں۔
سیاسی تجزیہ
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کا یہ اتحاد حکومت پر دباؤ بڑھانے کی ایک کوشش ہے، تاہم اس کے طریقۂ کار پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کو عالمی سطح پر مختلف چیلنجز کا سامنا ہے، اپوزیشن کو چاہیے کہ وہ پارلیمان کے اندر اپنا بھرپور کردار ادا کرے۔ سڑکوں پر احتجاج کی سیاست ماضی میں بھی ملکی معیشت کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا چکی ہے۔ موجودہ حالات میں عوام بھی مہنگائی اور دیگر مسائل سے پریشان ہیں، لیکن وہ کسی نئے سیاسی بحران یا دھرنا سیاست کے بجائے مسائل کا پائیدار حل چاہتے ہیں۔ سیاسی قیادت کو چاہیے کہ وہ عوامی جذبات کو انتشار کے بجائے تعمیرِ نو کی طرف راغب کرے۔
مفاہمت کی ضرورت
موجودہ حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ سیاسی قیادت سخت بیانیوں کے بجائے “احتیاط کی گفتگو” اور “سیاسی و معاشی استحکام” کو ترجیح دے۔ حب الوطنی کا تقاضا ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز مل کر کام کریں تاکہ ملک کو دوبارہ عدم استحکام کی طرف دھکیلنے کی کوششیں ناکام ہو سکیں۔ پاکستان اس وقت تعمیری مکالمے اور قومی یکجہتی کا ضرورت مند ہے تاکہ عوام کو حقیقی معاشی ریلیف مل سکے اور ملک پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن رہے۔ سیاسی احتجاج کے حق کو استعمال کرتے ہوئے قومی سلامتی کے تقاضوں کو ملحوظِ خاطر رکھنا ہی وقت کی اصل پکار ہے، کیونکہ مضبوط ریاست ہی مضبوط سیاست کی ضمانت ہوتی ہے۔
دیکھیے: پاکستان ایک خود مختار اسلامی ریاست اور مسلح افواج اس کے استحکام کی ضامن ہیں،