بھارتی سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد نے اس عمل میں بھارت کی عدم موجودگی پر اپنی حکومت پر تنقید بھی کی اور سفارتی سطح پر کردار ادا نہ کرنے پر سوالات اٹھائے۔

April 10, 2026

بعد ازاں یاتری گوردوارہ دربار صاحب کرتار پور اور گوردوارہ ڈیرہ صاحب لاہور کی یاترا بھی کریں گے، جبکہ ان کی واپسی 19 اپریل کو متوقع ہے۔

April 10, 2026

سعودی کمپنی آرامکو پاکستان میں 10 ارب ڈالر مالیت کی آئل ریفائنری کے منصوبے میں شراکت داری کرے گی، جس میں پاکستان اسٹیٹ آئل او جی ڈی سی ایل، پی پی ایل اور جی ایچ پی ایل شامل ہوں گی۔

April 10, 2026

پاک بحریہ کے جہاز پی این ایس حنین نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف عملے کو بحفاظت منتقل کیا بلکہ جہاز پر موجود ماہر ٹیم نے فوری طبی امداد فراہم کی اور آگ بجھانے میں بھی مدد دی۔

April 10, 2026

افغانستان کو صرف ایک انسانی بحران کے طور پر دیکھنا ایک محدود اور خطرناک نقطہ نظر ہے۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جہاں انسانی مسائل اور سیکیورٹی خطرات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور انہیں الگ کر کے سمجھنا ممکن نہیں۔

April 10, 2026

یہ پاکستان ویمن ٹیم کی انٹرنیشنل فٹبال میں سب سے بڑے مارجن سے فتح ہے، اس سے قبل قومی ٹیم نے مالدیپ کو 0-7 سے شکست دی تھی۔

April 10, 2026

مولانا فضل الرحمان کا عید کے بعد ملک گیر تحریک کا اعلان؛ معاشی بحالی اور سرحدی دہشت گردی کے سائے میں ذمہ دارانہ طرزِ عمل کا مطالبہ

مولانا فضل الرحمان نے عید کے بعد حکومت مخالف تحریک کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ ماہرین معاشی بہتری اور سکیورٹی حالات کے پیشِ نظر سیاسی استحکام اور محتاط طرزِ عمل کو وقت کی اہم ضرورت قرار دے رہے ہیں
مولانا فضل الرحمان نے عید کے بعد حکومت مخالف تحریک کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ ماہرین معاشی بہتری اور سکیورٹی حالات کے پیشِ نظر سیاسی استحکام اور محتاط طرزِ عمل کو وقت کی اہم ضرورت قرار دے رہے ہیں

مولانا فضل الرحمان نے عید کے بعد تحریک کا اعلان کیا ہے، جبکہ نازک سکیورٹی اور معاشی حالات میں سیاسی قیادت سے ذمہ دارانہ طرزِ عمل کی توقع کی جا رہی ہے

February 14, 2026

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے موجودہ حکومت کے خلاف فیصلہ کُن مٔوقف اختیار کر لیا ہے۔ اسلام آباد میں منعقدہ پریس کانفرنس میں، جس میں امیرِ جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن بھی شریک تھے، مولانا نے اعلان کیا کہ وہ حکومت کو مزید مہلت دینے کے حق میں نہیں کیونکہ ان کے بقول حکومت عالمی قوتوں کے مفادات کا تحفظ کر رہی ہے۔ انہوں نے عید الفطر کے فوری بعد ملک گیر عوامی مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ حکومتی پالیسیوں کے خلاف عوامی رائے عامہ کو منظم کیا جا سکے۔

قومی ذمہ داری
سیاسی مبصرین اس بیانیے کو ملکی صورتحال کے تناظر میں انتہائی حساس قرار دے رہے ہیں۔ اگرچہ جمہوری نظام میں احتجاج اور اختلافِ رائے ہر جماعت کا بنیادی حق ہے لیکن قومی مفاد ہمیشہ گروہی مفادات پر مقدم رہنا چاہیے۔ مولانا فضل الرحمان جیسی قد آور شخصیات سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ موجودہ ملکی حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اپنی حکمتِ عملی ترتیب دیں گے۔ اس وقت ملک کو انتشار کے بجائے ایسی سیاسی پختگی کی ضرورت ہے جو عوامی فلاح اور قومی یکجہتی کو فروغ دے سکے۔ سیاسی استحکام ہی وہ بنیاد ہے جس پر کسی بھی ریاست کی ترقی کی عمارت کھڑی ہوتی ہے اور اس مرحلے پر کوئی بھی غیر ذمہ دارانہ قدم ملکی مفادات کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

معاشی استحکام
پاکستان اس وقت ایک مشکل معاشی بحران سے نکلنے کی جدوجہد کر رہا ہے، جس میں حکومت اور ریاستی اداروں کی مربوط منصوبہ بندی نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ حالیہ مہینوں میں معیشت میں بہتری کے واضح آثار نظر آئے ہیں؛ غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ، اسٹاک مارکیٹ کی تیزی اور مہنگائی میں بتدریج کمی اس بات کی دلیل ہے کہ درست سمت میں اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ یہ معاشی استحکام ایک طویل محنت اور کٹھن فیصلوں کا نتیجہ ہے، جسے برقرار رکھنے کے لیے ملک میں پرسکون سیاسی ماحول اور استحکام کا ہونا ناگزیر ہے تاکہ ترقی کا یہ سفر متاثر نہ ہو۔ معاشی ماہرین کے مطابق سیاسی احتجاج کی صورت میں پیدا ہونے والا بحران بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کر سکتا ہے۔

سکیورٹی چیلنجز
خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سرحد پار، بالخصوص افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی کی حالیہ لہر نے سکیورٹی کی صورتحال کو سنگین بنا دیا ہے۔ جب دشمن سرحدوں پر گھات لگائے بیٹھا ہو، تو داخلی محاذ آرائی اور سخت بیانات قومی عزم کو کمزور کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔ پاکستان کے سکیورٹی ادارے سرحدوں پر دہشت گردی کا مقابلہ کر رہے ہیں اور ایسے نازک مرحلے پر کسی بھی قسم کا سیاسی انتشار ریاست کی ان کوششوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے جو امن و امان کی بحالی کے لیے کی جا رہی ہیں۔

سیاسی تجزیہ
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کا یہ اتحاد حکومت پر دباؤ بڑھانے کی ایک کوشش ہے، تاہم اس کے طریقۂ کار پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کو عالمی سطح پر مختلف چیلنجز کا سامنا ہے، اپوزیشن کو چاہیے کہ وہ پارلیمان کے اندر اپنا بھرپور کردار ادا کرے۔ سڑکوں پر احتجاج کی سیاست ماضی میں بھی ملکی معیشت کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا چکی ہے۔ موجودہ حالات میں عوام بھی مہنگائی اور دیگر مسائل سے پریشان ہیں، لیکن وہ کسی نئے سیاسی بحران یا دھرنا سیاست کے بجائے مسائل کا پائیدار حل چاہتے ہیں۔ سیاسی قیادت کو چاہیے کہ وہ عوامی جذبات کو انتشار کے بجائے تعمیرِ نو کی طرف راغب کرے۔

مفاہمت کی ضرورت
موجودہ حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ سیاسی قیادت سخت بیانیوں کے بجائے “احتیاط کی گفتگو” اور “سیاسی و معاشی استحکام” کو ترجیح دے۔ حب الوطنی کا تقاضا ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز مل کر کام کریں تاکہ ملک کو دوبارہ عدم استحکام کی طرف دھکیلنے کی کوششیں ناکام ہو سکیں۔ پاکستان اس وقت تعمیری مکالمے اور قومی یکجہتی کا ضرورت مند ہے تاکہ عوام کو حقیقی معاشی ریلیف مل سکے اور ملک پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن رہے۔ سیاسی احتجاج کے حق کو استعمال کرتے ہوئے قومی سلامتی کے تقاضوں کو ملحوظِ خاطر رکھنا ہی وقت کی اصل پکار ہے، کیونکہ مضبوط ریاست ہی مضبوط سیاست کی ضمانت ہوتی ہے۔

دیکھیے: پاکستان ایک خود مختار اسلامی ریاست اور مسلح افواج اس کے استحکام کی ضامن ہیں،

متعلقہ مضامین

بھارتی سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد نے اس عمل میں بھارت کی عدم موجودگی پر اپنی حکومت پر تنقید بھی کی اور سفارتی سطح پر کردار ادا نہ کرنے پر سوالات اٹھائے۔

April 10, 2026

بعد ازاں یاتری گوردوارہ دربار صاحب کرتار پور اور گوردوارہ ڈیرہ صاحب لاہور کی یاترا بھی کریں گے، جبکہ ان کی واپسی 19 اپریل کو متوقع ہے۔

April 10, 2026

سعودی کمپنی آرامکو پاکستان میں 10 ارب ڈالر مالیت کی آئل ریفائنری کے منصوبے میں شراکت داری کرے گی، جس میں پاکستان اسٹیٹ آئل او جی ڈی سی ایل، پی پی ایل اور جی ایچ پی ایل شامل ہوں گی۔

April 10, 2026

پاک بحریہ کے جہاز پی این ایس حنین نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف عملے کو بحفاظت منتقل کیا بلکہ جہاز پر موجود ماہر ٹیم نے فوری طبی امداد فراہم کی اور آگ بجھانے میں بھی مدد دی۔

April 10, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *