...
مولانا فضل الرحمان نے عید کے بعد حکومت مخالف تحریک کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ ماہرین معاشی بہتری اور سکیورٹی حالات کے پیشِ نظر سیاسی استحکام اور محتاط طرزِ عمل کو وقت کی اہم ضرورت قرار دے رہے ہیں

February 14, 2026

افغانستان کی پائیدار سلامتی اور ترقی کا انحصار ایک ایسے سیاسی ڈھانچے پر ہے جو تمام نسلی اور مذہبی گروہوں کو بااختیار بنائے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ جامع مکالمہ، آئینی اصلاحات اور وسیع البنیاد حکومت ہی ملک کو داخلی استحکام اور عالمی قبولیت کی جانب لے جا سکتی ہے۔ بصورت دیگر نسلی و سیاسی تقسیم خطے میں عدم استحکام کو مزید گہرا کر سکتی ہے۔

February 14, 2026

فرانس نے بچوں کے حقوق اور پولیو کے خاتمے کے لیے محترمہ عائشہ رضا فاروق کی خدمات کے اعتراف میں انہیں اپنے اعلیٰ ترین قومی اعزاز ‘نیشنل آرڈر آف میرٹ’ سے نواز دیا ہے

February 14, 2026

بنگلہ دیش ایک بڑے بحران سے گزرا ہےا ور اس نے الیکشن کروا لیے ہیں ، انتقال اقتدار ہو رہا ہے۔ جو جماعت اسلامی کل تک حسینہ واجد کے ٹارچر سیلوں میں قتل ہو رہی تھی اب دوسری بڑی طاقت بن کر ابھری ہے۔ یہ غیر معمولی کامیابی ہے۔ یہ سب کی کامیابی ہے۔ یہ بنگلہ دیش کی کامیابی ہے۔

February 14, 2026

بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں حالیہ حملوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے شہریوں، تنصیبات اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کی مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی کوئی توجیہہ نہیں ہو سکتی اور جو عناصر اس کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں وہ دراصل قومی یکجہتی کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

February 13, 2026

یہ مسئلہ صرف نسلی تناسب کا نہیں بلکہ ریاستی شمولیت اور سیاسی جواز کا ہے۔ ایک ایسا ملک جہاں دہائیوں سے جنگ، بیرونی مداخلت اور داخلی تقسیم رہی ہو، وہاں طاقت کا ارتکاز مزید بے چینی کو جنم دے سکتا ہے۔ خاص طور پر ہزارہ برادری، جو مذہبی اقلیت بھی ہے، خود کو دوہری محرومی کا شکار محسوس کرتی ہے۔

February 13, 2026

مولانا فضل الرحمان کا عید کے بعد ملک گیر تحریک کا اعلان؛ معاشی بحالی اور سرحدی دہشت گردی کے سائے میں ذمہ دارانہ طرزِ عمل کا مطالبہ

مولانا فضل الرحمان نے عید کے بعد حکومت مخالف تحریک کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ ماہرین معاشی بہتری اور سکیورٹی حالات کے پیشِ نظر سیاسی استحکام اور محتاط طرزِ عمل کو وقت کی اہم ضرورت قرار دے رہے ہیں
مولانا فضل الرحمان نے عید کے بعد حکومت مخالف تحریک کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ ماہرین معاشی بہتری اور سکیورٹی حالات کے پیشِ نظر سیاسی استحکام اور محتاط طرزِ عمل کو وقت کی اہم ضرورت قرار دے رہے ہیں

مولانا فضل الرحمان نے عید کے بعد تحریک کا اعلان کیا ہے، جبکہ نازک سکیورٹی اور معاشی حالات میں سیاسی قیادت سے ذمہ دارانہ طرزِ عمل کی توقع کی جا رہی ہے

February 14, 2026

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے موجودہ حکومت کے خلاف فیصلہ کُن مٔوقف اختیار کر لیا ہے۔ اسلام آباد میں منعقدہ پریس کانفرنس میں، جس میں امیرِ جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن بھی شریک تھے، مولانا نے اعلان کیا کہ وہ حکومت کو مزید مہلت دینے کے حق میں نہیں کیونکہ ان کے بقول حکومت عالمی قوتوں کے مفادات کا تحفظ کر رہی ہے۔ انہوں نے عید الفطر کے فوری بعد ملک گیر عوامی مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ حکومتی پالیسیوں کے خلاف عوامی رائے عامہ کو منظم کیا جا سکے۔

قومی ذمہ داری
سیاسی مبصرین اس بیانیے کو ملکی صورتحال کے تناظر میں انتہائی حساس قرار دے رہے ہیں۔ اگرچہ جمہوری نظام میں احتجاج اور اختلافِ رائے ہر جماعت کا بنیادی حق ہے لیکن قومی مفاد ہمیشہ گروہی مفادات پر مقدم رہنا چاہیے۔ مولانا فضل الرحمان جیسی قد آور شخصیات سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ موجودہ ملکی حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اپنی حکمتِ عملی ترتیب دیں گے۔ اس وقت ملک کو انتشار کے بجائے ایسی سیاسی پختگی کی ضرورت ہے جو عوامی فلاح اور قومی یکجہتی کو فروغ دے سکے۔ سیاسی استحکام ہی وہ بنیاد ہے جس پر کسی بھی ریاست کی ترقی کی عمارت کھڑی ہوتی ہے اور اس مرحلے پر کوئی بھی غیر ذمہ دارانہ قدم ملکی مفادات کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

معاشی استحکام
پاکستان اس وقت ایک مشکل معاشی بحران سے نکلنے کی جدوجہد کر رہا ہے، جس میں حکومت اور ریاستی اداروں کی مربوط منصوبہ بندی نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ حالیہ مہینوں میں معیشت میں بہتری کے واضح آثار نظر آئے ہیں؛ غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ، اسٹاک مارکیٹ کی تیزی اور مہنگائی میں بتدریج کمی اس بات کی دلیل ہے کہ درست سمت میں اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ یہ معاشی استحکام ایک طویل محنت اور کٹھن فیصلوں کا نتیجہ ہے، جسے برقرار رکھنے کے لیے ملک میں پرسکون سیاسی ماحول اور استحکام کا ہونا ناگزیر ہے تاکہ ترقی کا یہ سفر متاثر نہ ہو۔ معاشی ماہرین کے مطابق سیاسی احتجاج کی صورت میں پیدا ہونے والا بحران بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کر سکتا ہے۔

سکیورٹی چیلنجز
خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سرحد پار، بالخصوص افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی کی حالیہ لہر نے سکیورٹی کی صورتحال کو سنگین بنا دیا ہے۔ جب دشمن سرحدوں پر گھات لگائے بیٹھا ہو، تو داخلی محاذ آرائی اور سخت بیانات قومی عزم کو کمزور کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔ پاکستان کے سکیورٹی ادارے سرحدوں پر دہشت گردی کا مقابلہ کر رہے ہیں اور ایسے نازک مرحلے پر کسی بھی قسم کا سیاسی انتشار ریاست کی ان کوششوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے جو امن و امان کی بحالی کے لیے کی جا رہی ہیں۔

سیاسی تجزیہ
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کا یہ اتحاد حکومت پر دباؤ بڑھانے کی ایک کوشش ہے، تاہم اس کے طریقۂ کار پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کو عالمی سطح پر مختلف چیلنجز کا سامنا ہے، اپوزیشن کو چاہیے کہ وہ پارلیمان کے اندر اپنا بھرپور کردار ادا کرے۔ سڑکوں پر احتجاج کی سیاست ماضی میں بھی ملکی معیشت کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا چکی ہے۔ موجودہ حالات میں عوام بھی مہنگائی اور دیگر مسائل سے پریشان ہیں، لیکن وہ کسی نئے سیاسی بحران یا دھرنا سیاست کے بجائے مسائل کا پائیدار حل چاہتے ہیں۔ سیاسی قیادت کو چاہیے کہ وہ عوامی جذبات کو انتشار کے بجائے تعمیرِ نو کی طرف راغب کرے۔

مفاہمت کی ضرورت
موجودہ حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ سیاسی قیادت سخت بیانیوں کے بجائے “احتیاط کی گفتگو” اور “سیاسی و معاشی استحکام” کو ترجیح دے۔ حب الوطنی کا تقاضا ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز مل کر کام کریں تاکہ ملک کو دوبارہ عدم استحکام کی طرف دھکیلنے کی کوششیں ناکام ہو سکیں۔ پاکستان اس وقت تعمیری مکالمے اور قومی یکجہتی کا ضرورت مند ہے تاکہ عوام کو حقیقی معاشی ریلیف مل سکے اور ملک پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن رہے۔ سیاسی احتجاج کے حق کو استعمال کرتے ہوئے قومی سلامتی کے تقاضوں کو ملحوظِ خاطر رکھنا ہی وقت کی اصل پکار ہے، کیونکہ مضبوط ریاست ہی مضبوط سیاست کی ضمانت ہوتی ہے۔

دیکھیے: پاکستان ایک خود مختار اسلامی ریاست اور مسلح افواج اس کے استحکام کی ضامن ہیں،

متعلقہ مضامین

افغانستان کی پائیدار سلامتی اور ترقی کا انحصار ایک ایسے سیاسی ڈھانچے پر ہے جو تمام نسلی اور مذہبی گروہوں کو بااختیار بنائے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ جامع مکالمہ، آئینی اصلاحات اور وسیع البنیاد حکومت ہی ملک کو داخلی استحکام اور عالمی قبولیت کی جانب لے جا سکتی ہے۔ بصورت دیگر نسلی و سیاسی تقسیم خطے میں عدم استحکام کو مزید گہرا کر سکتی ہے۔

February 14, 2026

فرانس نے بچوں کے حقوق اور پولیو کے خاتمے کے لیے محترمہ عائشہ رضا فاروق کی خدمات کے اعتراف میں انہیں اپنے اعلیٰ ترین قومی اعزاز ‘نیشنل آرڈر آف میرٹ’ سے نواز دیا ہے

February 14, 2026

بنگلہ دیش ایک بڑے بحران سے گزرا ہےا ور اس نے الیکشن کروا لیے ہیں ، انتقال اقتدار ہو رہا ہے۔ جو جماعت اسلامی کل تک حسینہ واجد کے ٹارچر سیلوں میں قتل ہو رہی تھی اب دوسری بڑی طاقت بن کر ابھری ہے۔ یہ غیر معمولی کامیابی ہے۔ یہ سب کی کامیابی ہے۔ یہ بنگلہ دیش کی کامیابی ہے۔

February 14, 2026

بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں حالیہ حملوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے شہریوں، تنصیبات اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کی مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی کوئی توجیہہ نہیں ہو سکتی اور جو عناصر اس کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں وہ دراصل قومی یکجہتی کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

February 13, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.