افغانستان میں خواتین کے خلاف ظالمانہ قوانین اور جبر کے خلاف خواتین متحرک ہوگئی ہیں۔ 8 مارچ کو یومِ خواتین کے تناظر میں صوبہ بلخ کے دارالحکومت مزار شریف میں خواتین کی وال چاکنگ کرتے ہوئے ویڈیوز منظرِ عام پر آگئی ہیں، جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خواتین آزادیٔ نسواں کے حق میں اور طالبان کے خلاف وال چاکنگ کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔
اسی سلسلے میں کابل میں افغان خواتین کی تنظیم “جنبش تحول تاریخی زنان افغانستان” کی ارکان نے ایک احتجاجی ریلی نکالی اور طالبان کے خلاف نعرہ بازی کی۔ دوسری جانب خواتین کی ایک دوسری تنظیم “جنبش زنان مقتدر (ایمپاورڈ ویمن موومنٹ)” کی اراکین نے مزارِ شریف کی دیواروں پر نعرے لکھے، جو طالبان کی عورتوں سے نفرت کرنے والی پالیسیوں کے خلاف احتجاج تھے۔
یہ اقدام عالمی یومِ خواتین (8 مارچ) کی مناسبت سے انجام دیا گیا، اور انہوں نے طالبان کی پابندیوں کے خلاف جدوجہد اور مزاحمت کو جاری رکھنے پر تاکید کی۔
(یہ واقعہ حالیہ رپورٹس اور ایکس پر شیئر کیے گئے ویڈیو/تصاویر سے تصدیق شدہ ہے، جہاں افغان خواتین کی یہ بہادرانہ کارروائی طالبان کے سخت گیر قوانین کے خلاف مزاحمت کی علامت ہے۔ اس طرح کے احتجاجات افغانستان میں خطرناک ہوتے ہیں، لیکن خواتین اپنی آواز بلند کرنے سے پیچھے نہیں ہٹ رہی ہیں۔ یہ پاکستان کی بمباری کا نتیجہ ہے کہ جبر کا بت ٹوٹ رہا ہے اور افغان معاشرے کے اندر آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔)