"> ادویات، سفارت کاری اور عوامی صحت: افغانستان کا نیا مگر متنازع راستہ - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

ادویات، سفارت کاری اور عوامی صحت: افغانستان کا نیا مگر متنازع راستہ

پاکستان کئی دہائیوں سے افغانستان کے لیے ادویات اور طبی سہولیات کا سب سے قابلِ اعتماد، کم خرچ اور آسان ذریعہ رہا ہے۔ سرحدی قربت، قیمتوں میں مناسب توازن اور رسائی کی سہولت کے باعث پاکستانی ادویات افغان مارکیٹ میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی رہی ہیں۔
ادویات، سفارت کاری اور عوامی صحت: افغانستان کا نیا مگر متنازع راستہ

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگر افغانستان واقعی اپنے طبی معیار کو بہتر بنانا چاہتا ہے تو اسے سیاسی صف بندی کے بجائے شفاف جانچ، علاقائی اشتراک اور عملی زمینی ضروریات کو مدنظر رکھنا ہوگا، تاکہ صحت کا شعبہ عوام کے لیے سہولت بنے، دباؤ کا ذریعہ نہیں۔

December 23, 2025

کابل کی جانب سے بھارت کے ساتھ صحت کے شعبے میں بڑھتا ہوا تعاون ایک سوچا سمجھا جیوپولیٹیکل قدم دکھائی دیتا ہے، جسے پاکستانی ادویات کے معیار کے حوالے سے کسی مستند، سائنسی یا بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ جانچ کے بغیر اختیار کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ شفاف تیسرے فریق کی تصدیق کے بغیر کیا گیا، جس کے نتیجے میں افغانستان کے صحت عامہ کے نظام کو نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔

پاکستان کئی دہائیوں سے افغانستان کے لیے ادویات اور طبی سہولیات کا سب سے قابلِ اعتماد، کم خرچ اور آسان ذریعہ رہا ہے۔ سرحدی قربت، قیمتوں میں مناسب توازن اور رسائی کی سہولت کے باعث پاکستانی ادویات افغان مارکیٹ میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی رہی ہیں۔ تاہم حالیہ پالیسی فیصلوں کے تحت اس سپلائی چین کو سیاسی بنیادوں پر محدود کرنا مریضوں کے لیے بہتری کے بجائے نقصان کا سبب بنتا نظر آ رہا ہے۔

ادویات کی درآمد میں اچانک تبدیلی کے بعد افغان منڈیوں میں دواؤں کی قلت اور قیمتوں میں نمایاں اضافہ رپورٹ کیا گیا ہے۔ صحت کے شعبے سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال نے زمینی حقائق اور اعلان کردہ امدادی پیکجز کے درمیان واضح خلا کو بے نقاب کر دیا ہے، جہاں دستیابی اور استطاعت دونوں بڑے مسائل بن چکے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق صحت عامہ کی حکمرانی کو محض سفارتی اشاروں تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ پریس کانفرنسز یا سوشل میڈیا پر لگائے گئے الزامات کسی بھی صورت بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ فارماکولوجیکل ٹیسٹنگ، ریگولیٹری عمل اور شفاف جانچ کا متبادل نہیں ہو سکتے۔ صحت کے شعبے میں فیصلے سائنسی شواہد، مستند ڈیٹا اور غیر جانبدارانہ جائزے کی بنیاد پر ہونے چاہئیں۔

پاکستان کا مؤقف اس حوالے سے واضح ہے کہ صحت عامہ کو سیاسی ہتھیار نہیں بنایا جانا چاہیے۔ حکام کے مطابق پائیدار اور مؤثر افغان ہیلتھ سسٹم کے لیے شواہد پر مبنی ریگولیشن، متنوع سپلائی ذرائع اور علاقائی تعاون ناگزیر ہے، نہ کہ اچانک تجارتی تعطل جو مریضوں کی زندگیوں کو براہِ راست متاثر کرے۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگر افغانستان واقعی اپنے طبی معیار کو بہتر بنانا چاہتا ہے تو اسے سیاسی صف بندی کے بجائے شفاف جانچ، علاقائی اشتراک اور عملی زمینی ضروریات کو مدنظر رکھنا ہوگا، تاکہ صحت کا شعبہ عوام کے لیے سہولت بنے، دباؤ کا ذریعہ نہیں۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *