اسلام آباد میں اسپیکر سردار ایاز صادق کی میزبانی میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں اور مشترکہ اعلامیہ تیار کر لیا گیا ہے۔

October 3, 2026

ہٹیاں بالا میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 8 اہم ارکان نے پریس کانفرنس کے دوران تنظیم سے مستقل لاتعلقی کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔

October 3, 2026

بلیدہ میں نجی اسکول پر حملے، توڑ پھوڑ اور فائرنگ کے خلاف مقامی آبادی نے شدید احتجاج کیا، فورسز کی آمد پر حملہ آور فرار ہو گئے۔

October 3, 2026

وزیراعظم کے کوآرڈی نیٹر اختیار ولی کا دعویٰ ہے کہ پی ٹی آئی اور ٹی ٹی پی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اور صوبائی حکومت عوام کے بجائے خارجیوں کی نمائندگی کر رہی ہے۔

October 3, 2026

کے پی میں دہشتگردی اور منشیات کے مبینہ گٹھ جوڑ نے امن تباہ کر دیا۔ ایک دہائی سے اقتدار پر قابض پی ٹی آئی پولیس فورس کو جدید آلات دینے اور صوبے کو تحفظ فراہم کرنے میں بری طرح ناکام دکھائی دیتی ہے۔

October 3, 2026

افغانستان بھر میں مسلح مزاحمت کا دائرہ پھیل گیا ہے، جہاں طالبان کے انٹیلی جنس اور سکیورٹی مراکز پر حملوں میں درجنوں اہلکار ہلاک ہو گئے۔

October 3, 2026

بلوچستان، وسائل اور بیانیہ: مائیکل کوگلمین کے مؤقف کا تنقیدی جائزہ

تاریخی حقائق بھی اس بیانیے کی نفی کرتے ہیں۔ بلوچستان میں سرداروں کی قیادت میں بغاوتیں اور مسلح مزاحمت 1950، 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں بھی ہوئیں، اس وقت نہ سی پیک تھا اور نہ ہی کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ۔ اس دور میں وسائل کی کوئی ایسی لوٹ مار موجود نہیں تھی جسے عوامی محرومی کی بنیادی وجہ قرار دیا جا سکے۔
بلوچستان، وسائل اور بیانیہ: مائیکل کوگلمین کے مؤقف کا تنقیدی جائزہ

عالمی تجزیہ کاروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ دہشت گردی اور سیاسی اختلاف میں واضح فرق کریں۔ شواہد کو نظرانداز کر کے ایسے بیانیوں کو تقویت دینا نہ صرف بلوچستان کے عام شہریوں کے ساتھ ناانصافی ہے بلکہ تشدد کو جواز فراہم کرنے کے مترادف بھی ہے۔

February 1, 2026

حالیہ دنوں میں امریکی تجزیہ کار مائیکل کوگلمین کی جانب سے 31 جنوری کو بلوچستان میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے تناظر میں بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے بیانیے کی بالواسطہ توثیق نے سنجیدہ سوالات کو جنم دیا ہے۔ جنوبی ایشیا کے امور پر خود کو ماہر قرار دینے والے کوگلمین نے کیہ بلوچ کے ایک مضمون کو شیئر کرتے ہوئے ایسے دلائل اپنائے جو نہ صرف حقائق سے کمزور ہیں بلکہ ان کی سوچ پر بھی سوال اٹھاتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق مائیکل کوگلمین کی حالیہ تحریریں اور تبصرے شواہد پر مبنی تجزیے کے بجائے مخصوص بیانیوں سے ہم آہنگی کا تاثر دیتی ہیں۔ بلوچستان میں نام نہاد ’’وسائل کی لوٹ مار‘‘ کا بیانیہ دہائیوں سے استعمال کیا جا رہا ہے، حالانکہ زمینی حقائق اس دعوے کی تائید نہیں کرتے۔ قدرتی گیس کے سوا بلوچستان سے کوئی بڑی معدنی یا اسٹریٹجک دولت ایسی نہیں جو وسیع پیمانے پر نکالی گئی ہو، جبکہ بیشتر معدنی وسائل اب تک دریافت یا قابلِ استعمال مرحلے تک ہی نہیں پہنچ سکے۔

تاریخی حقائق بھی اس بیانیے کی نفی کرتے ہیں۔ بلوچستان میں سرداروں کی قیادت میں بغاوتیں اور مسلح مزاحمت 1950، 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں بھی ہوئیں، اس وقت نہ سی پیک تھا اور نہ ہی کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ۔ اس دور میں وسائل کی کوئی ایسی لوٹ مار موجود نہیں تھی جسے عوامی محرومی کی بنیادی وجہ قرار دیا جا سکے۔ یہ بغاوتیں دراصل طاقت کی سیاست، مرکز اور صوبے کے درمیان اختیارات کی کشمکش اور انتظامی انضمام کی مزاحمت کا نتیجہ تھیں۔

تجزیہ کار اس امر کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ کوگلمین اس بنیادی حقیقت کو نظرانداز کر رہے ہیں کہ پاکستان نے سوئی گیس کی پیداوار پر بلوچستان حکومت کو باقاعدہ رائلٹی ادا کی۔ سوال یہ ہے کہ جن سرداروں کے ہاتھ میں دہائیوں تک صوبائی سیاست رہی، انہوں نے ان وسائل کو عوامی فلاح، تعلیم یا صحت پر کیوں خرچ نہیں کیا؟ اس پہلو کو نظرانداز کر کے تمام ذمہ داری ریاست پر ڈال دینا ایک ادھورا اور گمراہ کن تجزیہ ہے۔

عالمی تجزیہ کاروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ دہشت گردی اور سیاسی اختلاف میں واضح فرق کریں۔ شواہد کو نظرانداز کر کے ایسے بیانیوں کو تقویت دینا نہ صرف بلوچستان کے عام شہریوں کے ساتھ ناانصافی ہے بلکہ تشدد کو جواز فراہم کرنے کے مترادف بھی ہے۔

دیکھیے: آپریشن ہیروف ناکام: پاکستانی فورسز کی فتح اور درپیش چیلنجز

متعلقہ مضامین

اسلام آباد میں اسپیکر سردار ایاز صادق کی میزبانی میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں اور مشترکہ اعلامیہ تیار کر لیا گیا ہے۔

October 3, 2026

ہٹیاں بالا میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 8 اہم ارکان نے پریس کانفرنس کے دوران تنظیم سے مستقل لاتعلقی کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔

October 3, 2026

بلیدہ میں نجی اسکول پر حملے، توڑ پھوڑ اور فائرنگ کے خلاف مقامی آبادی نے شدید احتجاج کیا، فورسز کی آمد پر حملہ آور فرار ہو گئے۔

October 3, 2026

وزیراعظم کے کوآرڈی نیٹر اختیار ولی کا دعویٰ ہے کہ پی ٹی آئی اور ٹی ٹی پی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اور صوبائی حکومت عوام کے بجائے خارجیوں کی نمائندگی کر رہی ہے۔

October 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *