کراچی میں میر رضا کی موت کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن نے اپنی رپورٹ سندھ حکومت کے حوالے کردی۔ رپورٹ محکمہ داخلہ کے ایڈیشنل سیکرٹری جاوید ابڑو نے وصول کی۔ اب رپورٹ کو عام کرنے یا اس پر مزید کارروائی سے متعلق فیصلہ سندھ حکومت کرے گی۔
جاوید ابڑو کے مطابق کمیشن کی رپورٹ سربمہر لفافے میں موصول ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ محکمہ داخلہ کی ذمہ داری رپورٹ حکومت تک پہنچانا ہے، جبکہ آئندہ کا فیصلہ حکومت کرے گی۔
رپورٹ میں 49 افراد کے بیانات
ذرائع کے مطابق میر رضا جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ چار جلدوں پر مشتمل ہے۔ رپورٹ کے دو الگ لفافے ہیں اور اس کے ساتھ کورنگ لیٹر بھی وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے نام بھیجا گیا ہے۔
کمیشن کی کارروائی اوپن کورٹ میں ہوئی۔ اس دوران 49 افراد کے بیانات ریکارڈ کیے گئے، جبکہ دو بیانات ویڈیو لنک کے ذریعے لیے گئے۔ کمیشن کی مجموعی طور پر 15 سماعتیں ہوئیں۔
رپورٹ میں میر رضا کی موت سے متعلق حقائق اور شواہد کا جائزہ لیا گیا ہے۔ تاہم، رپورٹ کے مندرجات تاحال سامنے نہیں آئے، اس لیے موت کی حتمی وجہ سے متعلق کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا۔
میر رضا کی موت کا معاملہ کیا ہے؟
میر رضا کی لاش 29 جولائی کو کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر سے ملی تھی۔ واقعے کے بعد طویل احتجاج ہوا اور موت کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔
ابتدائی پوسٹ مارٹم کے بعد دوبارہ قبر کشائی بھی کی گئی۔ میر رضا کے اہل خانہ واقعے کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
جوڈیشل کمیشن 24 اگست کو تشکیل دیا گیا تھا۔ اب اس کی رپورٹ سندھ حکومت کے پاس ہے، لیکن اسے عوام کے سامنے لانے کے بارے میں تاحال کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
رپورٹ کے مندرجات سامنے آنے کے بعد ہی معلوم ہوسکے گا کہ کمیشن نے دستیاب شواہد اور بیانات کی بنیاد پر کیا نتائج اخذ کیے ہیں۔





