پاکستان نے افغانستان پر جنگ مسلط نہیں کی بلکہ دہشتگردی کی جنگ پاکستان پر تھوپی گئی ہے۔ ہزاروں پاکستانی شہری اس جنگ میں اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، وانا کیڈٹ کالج پر حملہ ہو یا ترلائی مسجد کا دھماکہ، ذمہ داران کا تعلق ہمیشہ افغانستان سے ہی کیوں ہوتا ہے

March 19, 2026

امریکی سیاستدان تلسی گبارڈ کے پرانے بیان کی آڑ میں پاکستان کے اسٹریٹیجک پروگرام کے خلاف بھارتی لابی کا نیا پراپیگنڈا بے نقاب ہو گیا

March 19, 2026

مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ اسرائیل پاکستان کو روگ اسٹیٹ قرار دے رہا ہے کہ جو خود نہ صرف ایک ناجائز ریاست ہے بلکہ دنیا بھر میں بے گناہ لاکھوں انسانوں کی قاتل ہے۔

March 19, 2026

سیاسی مفاد کے لیے مذہبی مقدسات کو نشانہ بنانے پر عوامی حلقوں کا شدید ردعمل؛ وجاہت سعید کی جانب سے قرآنی آیات کی مبینہ توہین پر فوری قانونی کاروائی کا مطالبہ کر دیا گیا

March 19, 2026

ملک بھر کے جید علمائے کرام نے افغان مولوی کے پاکستان مخالف فتوے کو علمی و شرعی طور پر مسترد کر دیا ہے۔ علماء کا کہنا ہے کہ پاک فوج کے خلاف بغاوت کو جہاد کا نام دینا فتنہِ خوارج کی علامت ہے اور ایسی گمراہ کن مہم جوئی کا مقصد صرف فساد پھیلانا ہے

March 19, 2026

کچھ تجزیہ کار اس بیانیے کو وسیع تر نظریاتی تناظر میں بھی دیکھ رہے ہیں، جہاں ہندوتوا اور صہیونیت سے منسلک بیانیے عالمی سطح پر مخصوص اسلامی ممالک کو خطرہ بنا کر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

March 19, 2026

مودی نے امریکہ کے آگے گھٹنے ٹیکتے ہوئے روس کے ساتھ تیل کی تجارت بند کرنے کا اعلان کر دیا، دونوں ممالک کا ٹریڈ ڈیل کا بھی اعلان

صدر ٹرمپ کے مطابق بھارت نے امریکی مصنوعات پر عائد تمام درآمدی ٹیرف صفر کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس اقدام سے امریکی برآمدات میں نمایاں اضافہ متوقع ہے اور امریکی کمپنیاں بھارتی منڈی میں زیادہ حیثیت حاصل کر سکیں گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ شق معاہدے کا سب سے بڑا فائدہ امریکہ کے لیے ہے۔
مودی نے امریکہ کے آگے گھٹنے ٹیکتے ہوئے روس کے تیل کی تجارت بند کرنے کا اعلان کر دیا، دونوں ممالک کا ٹریڈ ڈیل کا بھی اعلان

اس معاہدے نے عالمی تجارت اور توانائی کی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے، جس کے اثرات خطے اور دنیا بھر میں محسوس کیے جائیں گے۔

February 3, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی سے ٹیلی فونک گفتگو کے بعد امریکہ اور بھارت کے درمیان ایک بڑے تجارتی معاہدے (ٹریڈ ڈیل) کا اعلان کر دیا ہے، جسے دونوں ممالک کے درمیان معاشی اور اسٹریٹجک تعلقات میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔

معاہدے کی بنیادی شرائط

رائٹرز کے مطابق اس معاہدے کے تحت بھارت نے روسی تیل کی خریداری بند کرنے اور امریکہ سے نمایاں طور پر زیادہ توانائی مصنوعات درآمد کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ بھارت مستقبل میں وینزویلا سے تیل خریدنے کے امکان پر بھی غور کر سکتا ہے، تاہم ترجیحی بنیادوں پر امریکی توانائی کو اختیار کیا جائے گا۔

اس معاہدے کے بدلے امریکہ نے بھارت کے لیے باہمی (ریسیپروکل) ٹیرف کی شرح 25 فیصد سے کم کر کے 18 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے “میڈ اِن انڈیا” مصنوعات کو امریکی منڈی میں بہتر رسائی حاصل ہو گی۔

بھارت کی جانب سے ٹیرف صفر کرنے کا فیصلہ

صدر ٹرمپ کے مطابق بھارت نے امریکی مصنوعات پر عائد تمام درآمدی ٹیرف صفر کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس اقدام سے امریکی برآمدات میں نمایاں اضافہ متوقع ہے اور امریکی کمپنیاں بھارتی منڈی میں زیادہ حیثیت حاصل کر سکیں گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ شق معاہدے کا سب سے بڑا فائدہ امریکہ کے لیے ہے۔

امریکی دباؤ پر روس کے ساتھ تجارت سے دستبرداری

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ روسی توانائی مصنوعات خریدنے والے ممالک پر دباؤ بڑھا رہا ہے۔ بھارت کی جانب سے روسی تیل ترک کرنے کا فیصلہ نہ صرف معاشی بلکہ جیوپولیٹیکل سطح پر بھی اہم سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے عالمی توانائی منڈی اور روس کے ساتھ بھارت کے تعلقات پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت نے اس فیصلے کے ذریعے واضح طور پر امریکا کے ساتھ اسٹریٹجک صف بندی کو ترجیح دی ہے۔

مودی کا ردِعمل: ٹرمپ کی قیادت کی تعریف

وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں صدر ٹرمپ سے گفتگو کو “انتہائی خوشگوار” قرار دیتے ہوئے کہا کہ 18 فیصد ٹیرف پر “میڈ اِن انڈیا” مصنوعات کی رسائی بھارتی عوام کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔

مودی نے صدر ٹرمپ کی قیادت کو عالمی امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے ناگزیر قرار دیا اور کہا کہ بھارت ان کی امن کی کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے۔

ماہرین کی رائے اور مستقبل کا منظرنامہ

ماہرین کے مطابق یہ تجارتی معاہدہ امریکہ اور بھارت کے درمیان اقتصادی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتا ہے، تاہم اس پر حتمی عملدرآمد کی ٹائم لائن اور تکنیکی تفصیلات کا اعلان ابھی باقی ہے۔ تجزیہ کار یہ بھی نشاندہی کر رہے ہیں کہ روسی تیل سے دستبرداری کا بھارتی معیشت پر طویل المدتی اثر محتاط جائزے کا متقاضی ہے۔

بہر حال، اس معاہدے نے عالمی تجارت اور توانائی کی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے، جس کے اثرات خطے اور دنیا بھر میں محسوس کیے جائیں گے۔

دیکھیے: افغانستان اور روس کے مابین براہِ راست پروازوں کا منصوبہ حتمی مراحل میں، افغان سفیر

متعلقہ مضامین

پاکستان نے افغانستان پر جنگ مسلط نہیں کی بلکہ دہشتگردی کی جنگ پاکستان پر تھوپی گئی ہے۔ ہزاروں پاکستانی شہری اس جنگ میں اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، وانا کیڈٹ کالج پر حملہ ہو یا ترلائی مسجد کا دھماکہ، ذمہ داران کا تعلق ہمیشہ افغانستان سے ہی کیوں ہوتا ہے

March 19, 2026

امریکی سیاستدان تلسی گبارڈ کے پرانے بیان کی آڑ میں پاکستان کے اسٹریٹیجک پروگرام کے خلاف بھارتی لابی کا نیا پراپیگنڈا بے نقاب ہو گیا

March 19, 2026

مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ اسرائیل پاکستان کو روگ اسٹیٹ قرار دے رہا ہے کہ جو خود نہ صرف ایک ناجائز ریاست ہے بلکہ دنیا بھر میں بے گناہ لاکھوں انسانوں کی قاتل ہے۔

March 19, 2026

سیاسی مفاد کے لیے مذہبی مقدسات کو نشانہ بنانے پر عوامی حلقوں کا شدید ردعمل؛ وجاہت سعید کی جانب سے قرآنی آیات کی مبینہ توہین پر فوری قانونی کاروائی کا مطالبہ کر دیا گیا

March 19, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *