یہ افراد طالبان کی سرپرستی میں نہ صرف اہم عہدوں پر براجمان ہیں بلکہ ریاستی پالیسی سازی اور حکومتی امور میں بھی ان کا کلیدی کردار ہے، جو کہ خطے کی سکیورٹی کے لیے ایک انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔

May 4, 2026

کمپنی نے 2021 کی قسط تو جمع کرائی، تاہم 2022 کی قسط کی ادائیگی میں ڈیفالٹ کیا۔ سی ڈی اے نے متعدد یاد دہانیوں کے بعد 7 فروری 2023 کو نوٹس اور پھر 8 مارچ کو لیز منسوخی کا حکم جاری کیا تھا۔

May 4, 2026

وزیراعظم آزاد کشمیر نے مزید کہا کہ حکومت نے ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر عملدرآمد کو یقینی بنایا ہے۔ اس کے علاوہ نیو سٹی میرپور میں اضافی کنبہ جات کا مسئلہ بھی حل کیا جا چکا ہے۔

May 4, 2026

شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم کو بڑھانے کے لیے بزنس ٹو بزنس روابط کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔ اس سے نہ صرف علاقائی معاشی رابطے بہتر ہوں گے بلکہ نجی شعبے کے درمیان بھی تعاون کی نئی راہیں کھلیں گی۔

May 4, 2026

پکتیا کے سابق گورنر محمد حلیم فدائی کا افغانستان میں ہمہ گیر حکومت کا مطالبہ؛ طالبان کے نسلی اجارہ داری پر مبنی ڈھانچے اور غیر پشتون آبادی کو اقتدار سے باہر رکھنے پر عالمی تشویش میں اضافہ۔

May 4, 2026

افغان طالبان کی جانب سے انسانی ڈھال اور پروپیگنڈا کا خطرناک کھیل بے نقاب؛ کنڑ کے علاقے ڈانگام میں سویلین نقصانات کے من گھڑت دعووں کی آڑ میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو چھپانے کی مذموم کوشش۔

May 4, 2026

بھارتی سازشوں کا تسلسل: پاکستان کا میزائل پروگرام اور مخالف گروہوں کا نیا وار

امریکی سیاستدان ٹلسی گیبارڈ کے پرانے بیان کی آڑ میں پاکستان کے اسٹریٹیجک پروگرام کے خلاف بھارتی لابی کا نیا پراپیگنڈا بے نقاب ہو گیا
امریکی سیاستدان تلسی گبارڈ کے پرانے بیان کی آڑ میں پاکستان کے اسٹریٹیجک پروگرام کے خلاف بھارتی لابی کا نیا پراپیگنڈا بے نقاب ہو گیا

پاکستان کے اسٹریٹیجک پروگرام پر بھارتی سازشیں بے نقاب۔ اسلام آباد کا واضح مؤقف: ہمارا دفاعی نظام صرف علاقائی توازن اور بھارت کی دشمنی کے جواب میں ہے

March 19, 2026

امریکی سیاستدان ٹلسی گیبارڈ کے پاکستان کے اسٹریٹیجک پروگرام سے متعلق برسوں پرانے بیانات کو ایک بار پھر سوشل میڈیا کی زینت بنانا محض ایک اتفاقی لہر نہیں، بلکہ ایک منظم ‘ڈیجیٹل یلغار’ کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ حالیہ دنوں میں جس طرح مخصوص پاکستان مخالف حلقوں نے اس بیانیے کو اچھالا ہے، اس کے پیچھے موجود محرکات کا جائزہ لیا جائے تو اس کے تانے بانے واضح طور پر امریکہ میں سرگرم بھارتی گروہوں سے جا ملتے ہیں۔ اس مہم کا واحد مقصد عالمی سطح پر پاکستان کے دفاعی اثاثوں کے گرد شکوک و ویبہات پیدا کرنا اور ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست کے طور پر پاکستان کے تشخص کو مسخ کرنا ہے۔

یہ پہلی بار نہیں کہ بھارت نے عالمی سطح پر پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے منظم نیٹ ورکس کا سہارا لیا ہو۔ یورپی یونین کے ایک تحقیقی ادارے کی “انڈین کرانیکلز” جیسی رپورٹس اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کر چکی ہیں کہ کس طرح بھارت نے پندرہ سال تک جعلی میڈیا ہاؤسز، غیر فعال تنظیموں اور گمراہ کن ویب سائٹس کے ذریعے اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین جیسے اداروں میں پاکستان کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا کیا۔ تلسی گبارڈ کے بیانات کو بنیاد بنا کر یہ تاثر دینا کہ پاکستان کا اسٹریٹیجک پروگرام عالمی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے، اسی پرانی بھارتی حکمتِ عملی کا تسلسل ہے جس کا مقصد دنیا کی توجہ بھارت کی اپنی تیز رفتار جوہری توسیع پسندی سے ہٹانا ہے۔

پاکستان کا اسٹریٹیجک پروگرام کسی عالمی بالادستی یا تیسرے ملک کے خلاف نہیں، بلکہ یہ خالصتاً بھارت کی جانب سے درپیش روایتی اور غیر روایتی خطرات کے جواب میں تشکیل دیا گیا ہے۔ پاکستان کا یہ اصولی مؤقف رہا ہے کہ اس کی جوہری صلاحیت کا مقصد صرف اور صرف جنوبی ایشیا میں بھارت کے جارحانہ عزائم کو روکنا اور جنگ کے امکانات کو ختم کرنا ہے۔ پاکستان کا دفاعی نظریہ “کم سے کم دفاعی صلاحیت” پر مبنی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل ہونے کے بجائے صرف اتنی صلاحیت برقرار رکھنے پر یقین رکھتا ہے جو کسی بھی دشمن کو مہم جوئی سے باز رکھنے کے لیے کافی ہو۔

پاکستان کے میزائلوں کی حد جو بھارتی سرزمین بشمول جزائر انڈمان و نکوبار تک محیط ہے، اسی دفاعی حصار کا حصہ ہے تاکہ دشمن کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ اس کی کوئی بھی جارحیت جواب سے محروم نہیں رہے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کا ایٹمی پروگرام دنیا کے محفوظ ترین “نگرانی اور کنٹرول کے نظام” کے تحت کام کرتا ہے۔ پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ وہ ایک ذمہ دار ایٹمی قوت ہے جو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے طے کردہ حفاظتی اصولوں کی پاسداری کرتا ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کا میزائل پروگرام امریکہ یا کسی مغربی ملک کے لیے خطرہ نہیں، کیونکہ اس کی تمام تر تکنیکی ساخت صرف علاقائی سرحدوں کے دفاع تک محدود ہے۔

پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کی حیثیت سے اپنے دفاعی پروگرام کی شفافیت پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری ایسے یکطرفہ اور سیاسی مقاصد کے حامل پروپیگنڈے کا شکار ہونے کے بجائے جنوبی ایشیا کے زمینی حقائق کو تسلیم کرے۔ پاکستان کا دفاعی نظام کسی مہم جوئی کے لیے نہیں بلکہ خطے میں ایک پائیدار امن کی ضمانت فراہم کرنے کے لیے ہے، اور کسی بھی قسم کا بیرونی پروپیگنڈا پاکستان کو اپنے دفاعی حق سے دستبردار نہیں کر سکتا۔

دیکھیے: افغانستان میں ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں پر پاکستان کا فضائی حملہ؛ طالبان کے شہری ہلاکتوں کے دعوے مسترد

متعلقہ مضامین

یہ افراد طالبان کی سرپرستی میں نہ صرف اہم عہدوں پر براجمان ہیں بلکہ ریاستی پالیسی سازی اور حکومتی امور میں بھی ان کا کلیدی کردار ہے، جو کہ خطے کی سکیورٹی کے لیے ایک انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔

May 4, 2026

کمپنی نے 2021 کی قسط تو جمع کرائی، تاہم 2022 کی قسط کی ادائیگی میں ڈیفالٹ کیا۔ سی ڈی اے نے متعدد یاد دہانیوں کے بعد 7 فروری 2023 کو نوٹس اور پھر 8 مارچ کو لیز منسوخی کا حکم جاری کیا تھا۔

May 4, 2026

وزیراعظم آزاد کشمیر نے مزید کہا کہ حکومت نے ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر عملدرآمد کو یقینی بنایا ہے۔ اس کے علاوہ نیو سٹی میرپور میں اضافی کنبہ جات کا مسئلہ بھی حل کیا جا چکا ہے۔

May 4, 2026

شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم کو بڑھانے کے لیے بزنس ٹو بزنس روابط کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔ اس سے نہ صرف علاقائی معاشی رابطے بہتر ہوں گے بلکہ نجی شعبے کے درمیان بھی تعاون کی نئی راہیں کھلیں گی۔

May 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *