نریندر مودی نے اپنے دو روزہ دورۂ اسرائیل کے دوران اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) سے تاریخی خطاب کرتے ہوئے غزہ جنگ کے تناظر میں اسرائیل کی “مکمل یقین اور مضبوطی” کے ساتھ حمایت کا اعلان کیا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی بھارتی وزیر اعظم نے اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب کیا۔
مودی نے 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کو “بربریت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ “کوئی بھی مقصد عام شہریوں کے قتل کو جائز قرار نہیں دے سکتا۔” ان کے خطاب پر ارکانِ پارلیمنٹ نے کھڑے ہو کر داد دی۔
بین گوریان ایئرپورٹ پر شاندار استقبال
اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے مودی کا بین گوریان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر استقبال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کو “قابلِ اعتماد شراکت دار” قرار دیا۔
نیتن یاہو نے مودی کو “دوست سے بڑھ کر بھائی” کہا اور دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک و سکیورٹی تعاون کو سراہا۔
کنیسٹ میں خطاب اور امن کا مؤقف
کنیسٹ سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ بھارت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظور کردہ غزہ امن تجویز کی حمایت کرتا ہے، جو خطے میں “منصفانہ اور دیرپا امن” کا راستہ فراہم کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت اور اسرائیل کا تعاون عالمی استحکام اور خوشحالی میں کردار ادا کرتا ہے، خاص طور پر مصنوعی ذہانت، کوانٹم ٹیکنالوجی اور سائبر سکیورٹی جیسے شعبوں میں۔
ملاقاتیں اور معاہدے
مودی اپنے دورے کے دوران ہولوکاسٹ میموریل یاد واشم بھی جائیں گے اور اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ سے ملاقات کریں گے۔
دونوں ممالک کے درمیان نئے اقتصادی اور دفاعی معاہدوں پر دستخط متوقع ہیں، جن میں فری ٹریڈ ایگریمنٹ اور سکیورٹی معاہدوں کی اپ گریڈیشن شامل ہے۔
تجارت اور دفاعی تعلقات
بھارت اس وقت اسرائیل کا سب سے بڑا اسلحہ خریدار ہے۔ 2020 سے 2024 کے درمیان بھارت نے تقریباً 20.5 ارب ڈالر کے اسرائیلی ہتھیار خریدے۔
2024 میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم 3.9 ارب ڈالر رہا، جس میں زیادہ تر دفاعی اور سکیورٹی شعبہ شامل ہے۔ ستمبر 2025 میں دونوں ممالک نے ایک نیا باہمی سرمایہ کاری معاہدہ بھی دستخط کیا۔
داخلی تنقید اور سیاسی ردعمل
بھارت میں اپوزیشن جماعتوں اور بائیں بازو کی قیادت نے مودی کی اسرائیل حمایت پر تنقید کی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ غزہ میں ہزاروں فلسطینیوں کی ہلاکت کے باوجود اسرائیل کی غیر مشروط حمایت بھارت کی تاریخی فلسطین نواز پالیسی سے انحراف ہے۔
بھارت نے حال ہی میں مغربی کنارے میں اسرائیلی توسیع پسندی کی مذمت کرنے والے بین الاقوامی بیان پر بھی دستخط کیے تھے، جس سے نئی دہلی کی سفارتی پالیسی میں توازن قائم رکھنے کی کوشش ظاہر ہوتی ہے۔
علاقائی اور عالمی تناظر
مودی کا دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر ہے، خاص طور پر ایران اور امریکہ کے درمیان تناؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت ایک جانب اسرائیل کے ساتھ قریبی دفاعی و تکنیکی تعلقات کو مستحکم کر رہا ہے، جبکہ دوسری جانب ایران اور خلیجی ممالک کے ساتھ اپنے اقتصادی اور اسٹریٹجک مفادات کو بھی برقرار رکھنا چاہتا ہے۔
تاریخی پس منظر
بھارت نے 1948 میں اسرائیل کے قیام کی مخالفت کی تھی اور 1992 تک سفارتی تعلقات قائم نہیں کیے تھے۔ تاہم 2014 میں مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد تعلقات میں نمایاں گرمجوشی آئی۔
2017 میں مودی اسرائیل کا دورہ کرنے والے پہلے بھارتی وزیر اعظم بنے تھے، جس کے بعد 2018 میں نیتن یاہو نے بھارت کا دورہ کیا تھا۔
دورے کی اہمیت
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کی جانب سے نیتن یاہو کے خلاف وارنٹ گرفتاری کی خبریں عالمی سطح پر زیر بحث ہیں۔ مبصرین کے مطابق مودی کا یہ دورہ اسرائیل کے لیے سفارتی حمایت کا ایک اہم اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ دورہ نہ صرف بھارت-اسرائیل تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتا ہے بلکہ اس کے خطے کی جیو پولیٹکس، ایران تعلقات اور جنوبی ایشیا کی سکیورٹی صورتحال پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔